ریٹائرمنٹ کو قبول کر لیں

ریٹائرمنٹ کوئی المیہ نہیں، یہ زندگی کے ایک طویل، باوقار اور مکمل باب کا فطری اختتام ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم اختتام کو قبول کرنا سیکھ ہی نہیں پاتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اسٹیج، مائیک، کیمرہ یا کرسی چھن گئی تو گویا سب کچھ ختم ہو گیا، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اصل امتحان تو وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو خاموشی، وقار اور صبر کے ساتھ پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔
دنیا بھر میں سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں ایک طے شدہ سروس اسٹرکچر ہوتا ہے۔ پینتیس برس کے بعد آدمی ریٹائر ہو جاتا ہے، بعض شعبوں میں چالیس برس بھی غنیمت سمجھے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص پینتالیس برس تک کام کرے تو یہ کسی انعام سے کم نہیں۔ اتنا طویل عرصہ ادارے نے دیا، نام دیا، شناخت دی، عزت دی۔ اس کے بعد رخصتی شکوے، آنسوؤں اور افسوس ناک مناظر کے ساتھ ہو تو یہ سوال تو اٹھے گا کہ کیا واقعی اتنی طویل عزت دار سروس کے بعد یہی انداز مناسب تھا؟
اصل وقار شور میں نہیں، خاموشی میں ہوتا ہے۔ اصل عظمت ضبط میں ہوتی ہے، شکوے میں نہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جن پر آج بھی رشک آتا ہے۔ شائستہ زید مرحومہ کا نام ذہن میں آتے ہی ایک تصویر بنتی ہے: پُرسکون، متوازن، شائستہ لہجہ، باوقار شخصیت۔ انہوں نے انگریزی خبریں پڑھیں، ایک زمانے پر راج کیا، مگر جب رخصتی کا وقت آیا تو نہ کوئی واویلا، نہ کوئی دباؤ، نہ کوئی جذباتی نمائش۔ خاموشی سے رخصت ہو گئیں، اور اسی خاموشی نے ان کی عظمت کو دوام دے دیا۔ آج بھی ان کا ذکر احترام سے کیا جاتا ہے، دعا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ آدمی بے کار ہو جاتا ہے، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی خود کو قبول نہیں کر پاتا۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ اب اس کی جگہ نئی نسل نے لینی ہے۔ حالانکہ ادارے تبھی زندہ رہتے ہیں جب ان میں خونِ نو دوڑتا رہے۔ اگر ہر ریٹائر ہونے والا دوبارہ کسی نہ کسی بہانے سے واپس آ بیٹھے، کوئی نئی سیٹ بنوا لے، کوئی مشاورتی عہدہ حاصل کر لے، تو پھر نوجوان کہاں جائیں گے؟ وہ کب سیکھیں گے، کب آگے بڑھیں گے؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ آنے سے وہ عزت، وہ کشش اور وہ احساس کبھی واپس نہیں آتا جو عروج کے دنوں میں ہوا کرتا تھا۔ اب چاہے کتنی ہی خاص سیٹ کیوں نہ بنا دی جائے، کتنے ہی پروٹوکول کیوں نہ دے دیے جائیں، روز دفتر جا کر چند رسمی ملاقاتیں، ایک دو فائلیں اور چائے کے کپ وہ خلا پُر نہیں کر سکتے جو وقت نے پیدا کر دیا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر اصل دانشمندی یہی ہوتی ہے کہ آدمی گھر بیٹھے، سکون کے ساتھ زندگی کو دیکھے، اپنے تجربے کو تحریر، مطالعے یا خاموش رہنمائی کی صورت میں آگے منتقل کرے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریٹائرمنٹ ذلت نہیں، یہ تکمیل ہے۔ یہ اعلان ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا حصہ پورا کر دیا، اب وقت ہے آرام کا، وقت ہے پیچھے ہٹ کر تماشائی بننے کا۔ جو لوگ اس مرحلے کو وقار کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں، وہ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ جو اسے زبردستی طول دیتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ خود اپنی بنائی ہوئی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
صبر ایک عظیم صفت ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ آخری دن تک وہی مرکزِ نگاہ رہے، وہی ناگزیر سمجھا جائے۔ حالانکہ اصل عظمت اسی میں ہے کہ آپ وقت پر خود پیچھے ہٹ جائیں، تاکہ لوگ آپ کو یاد رکھیں، نہ کہ آپ سے جان چھڑانے کی دعا کریں۔
ریٹائرمنٹ کو قبول کرنا دراصل زندگی کو قبول کرنا ہے۔ یہ مان لینا کہ ہر سفر کی ایک منزل ہوتی ہے، اور ہر اسٹیج کے بعد پردہ گرتا ہے۔ جو اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، وہ واقعی بڑا انسان ہوتا ہے۔ جو نہیں سمجھتا، وہ چاہے کتنا ہی تجربہ کار کیوں نہ ہو، چھوٹا پڑ جاتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم ریٹائرمنٹ کو المیہ نہیں، وقار سمجھیں۔ خاموش رخصتی کو کمزوری نہیں، طاقت مانیں۔ اور نئی نسل کے لیے جگہ چھوڑنے کو قربانی نہیں، ذمہ داری سمجھیں۔ یہی فہم، یہی دانش اور یہی اصل عظمت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے