والدین، اولاد اور جدید تہذیب

جدید تہذیب نے جہاں پورے معاشرے کو متاثر کیا ہے، وہیں والدین اور اولاد کے مابین تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

"والدین کا حق شرعی، اخلاقی، انسانی اور عقلی الغرض ہر لحاظ سےایک مسلمہ حقیقت ہے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے والدین کے سامنے ایسی بات یا حرکاتِ احتجاج سے منع کیا گیا ہے جن سے انہیں تکلیف پہنچتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی ایک نمایاں عادت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ احسان کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص آپ کے ساتھ نیکی کرے، اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر نیکی کی جائے۔ ظاہر ہے کہ والدین کے ساتھ اس درجے کی نیکی کرنا ممکن نہیں جو ان کی ہمارے ساتھ کی ہوئی نیکیوں سے بڑھ کر ہو۔ اس سے یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ والدین کے سامنے اپنی انا اور خودی کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ یا پھر احسان کا مطلب یہ ہے کہ والدین کے ساتھ ایسا حسنِ سلوک اختیار کیا جائے کہ دیکھنے والا خود اس کی تعریف اور تحسین کیے بغیر نہ رہ سکے۔

اسی طرح اگر عقلی پہلو سے دیکھا جائے تو ہم بچوں کو تعلیم اس لیے دیتے ہیں کہ وہ بالغِ فہم (میچور) ہوں اور اپنی زندگی میں ایسے فیصلے نہ کریں جو بعد میں ان کے لیے وبالِ جان بن جائیں۔ اگر تعلیم کی اہمیت ایک مسلم حقیقت ہے تو والدین کی تربیت کی اہمیت بھی اسی طرح مسلم ہونی چاہیے، کیونکہ والدین بھی دراصل وہی کردار ادا کرتے ہیں جو تعلیم ادا کرتی ہے۔ والدین ہمیں ان عادتوں اور جذباتی فیصلوں سے روکتے ہیں جو آگے چل کر ہماری تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔

اسی طرح استاد کی حقیقت بھی دنیا بھر میں مسلم ہے۔ استاد بچوں کو رہنمائی (ڈائریکشن) دیتا ہے، اور یہ رہنمائی اس لیے ہوتی ہے کہ نادانی میں کوئی غلط راستہ اختیار نہ کر لیا جائے۔ غور کیا جائے تو استاد وہی کام کرتا ہے جو والدین کرتے ہیں۔ ایک طرف استاد عملی طور پر پوری دنیا میں موجود ہے اور اس کا کردار ہر جگہ تسلیم شدہ ہے، لیکن جب یہی کام والدین انجام دیں تو ان پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر رہے ہیں۔ یہ جدید تہذیب کا ایک واضح دوہرا معیار ہے، جسے عقل قبول نہیں کرتی۔

اسی طرح اگر اخلاقی زاویے سے دیکھا جائے تو پوری دنیا اس اصول پر متفق ہے کہ جو تمہارے ساتھ نیکی کرے، اس کے ساتھ جواباً نیکی کرنا لازم ہے۔ نیکی کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ نیکی کرنے والے کی بات مانی جائے، اس کی جائز فرمابرداری کی جائے، اور جب اسے تمہاری خدمت کی ضرورت ہو تو دل و جان سے اس کی خدمت کی جائے۔ یہ صریح کم ظرفی ہے کہ کوئی تمہارے ساتھ بھلائی کرے—اور ایسی بھلائی کہ وہ اپنا سب کچھ تم پر قربان کر دے—اور پھر جب کسی وقت اسی بھلائی کے معمولی سے حصے، مثلاً دو فیصد، کی ضرورت پیش آئے تو تم یہ کہو کہ یہ میری مرضی ہے کہ میں تمہارے ساتھ بھلائی کروں یا نہ کروں۔

بدقسمتی سے یہی طرزِ عمل جدید تہذیب نے انسانوں میں رواج دیا ہے۔ اس کا صاف اور بےغبار مطلب یہ ہے کہ ایسی تہذیب انسان کو کم ظرف اور خود غرض بناتی ہے، اور اس نوع کی تہذیب کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ انسانوں کی حقیقی تہذیب کہلائے۔

اب آتے ہیں تہذیبِ نو کی طریقۂ واردات کی طرف۔ والدین سے بچوں کو دور کرنے کے لیے تہذیبِ نو جو طریقہ اختیار کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ بچوں کے سامنے جذباتی نوعیت کی باتیں کر کے انہیں والدین سے بدظن کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ تمہارے والدین پرانے زمانے کے لوگ ہیں، انہیں جدید دنیا اور اس کے ذرائع کا کوئی علم نہیں؛ انہوں نے تمہیں جیسے بند رکھا ہے، تم و ہےیسے ہی بند ہو۔ تم ایک آزاد انسان ہو، کسی باپ یا ماں کو ہرگز یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ تم پر پابندیاں عائد کرے یا تمہاری آزادی سلب کرے۔

اس قسم کی جذباتی باتوں کے ذریعے بچوں کے جذبات کو دانستہ طور پر غلط رخ دیا جاتا ہے، اور جو چیز شرعی، عقلی اور اخلاقی لحاظ سے قابلِ تعریف ہوتی ہے، اسے اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا وہ نہ صرف غلط ہے بلکہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

اس طریقۂ واردات کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔ ایک پروفیسر صاحب بچوں کو یہ تلقین کر رہے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کی آذاد زندگی گزاریں اور والدین وغیرہ کو اپنے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہونے دیں، ورنہ ان کی تخلیقی صلاحیتیں ضائع ہو جائیں گی۔ اب ذرا اس فلسفے کو عقلی کسوٹی پر پرکھیے کہ اس میں کتنی عقل ہے اور کتنا غیر ضروری جذباتی دباؤ۔

پروفیسر صاحب سے سادہ سا سوال یہ ہے کہ اگر بچوں کو والدین کی بات نہیں ماننی، تو پھر وہ آپ کی بات کیوں مانیں کہ والدین کی بات نہ مانو؟ آخر آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ بچے والدین کی بات تو ترک کر دیں، مگر آپ کی بات تسلیم کر لیں؟ خدا، رسول اور اخلاقیات کی بات نہ مانیں، لیکن آپ کی یہ ہدایت مان لیں کہ والدین کو فیصلوں پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے؟ کیا آپ کوئی ایسی ہستی ہیں جس کی بات ماننا دنیا والوں پر فرض ہے؟ اگر خدا اور رسول کی ہدایت اور والدین کی رہنمائی آپ کے نزدیک آزادی میں رکاوٹ ہے، تو پھر حضرت! آپ کون ہوتے ہیں اور کس حیثیت سے مجھے یہ کہتے ہیں کہ میں آپ کی بات مانوں؟

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین کی فرمابرداری شرعی، عقلی اور اخلاقی ہر لحاظ سے لازم ہے، اور ہمیں تہذیبِ نو کے اس جذباتی پروپیگنڈے میں ہرگز نہیں آنا چاہیے جس کے ذریعے ہمارے ذہنوں کو ایک درست اور مسلمہ حقیقت تسلیم کرنے کے خلاف آمادہ کیا جاتا ہے۔

اس سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جدید تہذیب کی ہر بات کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے، بلکہ جدید تہذیب کی کسی بھی بات کو اپنانے سے پہلے اسے عقلی، شرعی اور اخلاقی معیار پر پرکھنا چاہیے کہ آیا وہ ان پہلوؤں سے قابلِ قبول ہے یا نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے