اردو ادب میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو محض تخلیق کار نہیں رہتے بلکہ اپنے عہد کی فکری سمت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ حمید قیصر کا شمار انہیں اہل قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے افسانہ، تنقید اور فکری تحریر کے ذریعے اردو ادب کو وسعت اور گہرائی عطا کی۔ وہ نہ صرف ایک حساس لکھاری ہیں بلکہ ایک باخبر قاری اور سنجیدہ دانشور بھی ہیں، جن کی تحریروں میں زمانے کی دھڑکن صاف سنائی دیتی ہے۔
حمید قیصر 7 مارچ 1960ء کو ضلع میانوالی کے شہر کالا باغ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق بلوچ رند قبیلے سے ہے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے ہی ہوئی، جس کے بعد انہوں نے اپنے علمی سفر کو آگے بڑھایا۔
حمید قیصر اردو ادب کے اُن سنجیدہ اور باوقار اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے افسانہ، تنقید اور فکری تحریر کے ذریعے اپنے عہد کے سماجی اور تہذیبی مسائل کو گہرے شعور کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی ادبی شناخت بنیادی طور پر افسانہ نگار کے طور پر ہے، مگر ان کی شخصیت کسی ایک صنف تک محدود نہیں رہی۔ وہ محض کہانی سنانے والے نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی تضادات، اخلاقی سوالات اور تہذیبی بحران کو سادہ مگر بامعنی انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ کرداروں کو وہ محض کہانی کا حصہ نہیں بناتے بلکہ انہیں اپنے ماحول، تاریخ اور داخلی کشمکش کے ساتھ پیش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے افسانے قاری کو محض تفریح نہیں بلکہ سوچنے اور غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ان کی نثر رواں، سادہ اور غیر نمائشی ہے، مگر اس میں فکری تہہ داری موجود رہتی ہے، جو ہر بار نئے زاویے اور معنی کھولتی ہے۔ حمید قیصر ادب کو زندگی سے الگ نہیں سمجھتے بلکہ اسے سماج کا سچا آئینہ قرار دیتے ہیں، اسی لیے ان کی تحریروں میں عام آدمی کے مسائل، طبقاتی ناہمواری، اخلاقی زوال اور شناخت کے بحران نمایاں ہوتے ہیں۔ بطور نقاد بھی ان کا رویہ متوازن اور دیانت دار رہا؛ انہوں نے ادبی تخلیقات کو ذاتی پسند یا ناپسند کے بجائے فکری اور فنی معیار پر پرکھا، اور ان کی تنقید ہمیشہ تخریب کے بجائے تعمیر کا راستہ دکھاتی ہے۔
مجموعی طور پر حمید قیصر کا ادبی سرمایہ اردو ادب میں فکری سنجیدگی، تہذیبی آگہی اور ذمہ دار تخلیقی رویے کی ایک مضبوط مثال ہے۔ ان کی تحریریں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ شعور، ذمہ داری اور سچائی کا عمل ہے۔ وہ ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے خاموشی سے مگر گہرے اثرات کے ساتھ اردو ادب میں اپنی جگہ بنائی، اور یہی ان کی اصل کامیابی اور شناخت ہے۔
حمید قیصر کی کتابیں اردو افسانے میں ایک مضبوط فکری ورثہ چھوڑتی ہیں۔ "سیڑھیوں والا پل” ذاتی اور اجتماعی شعور کے درمیان معنی خیز ربط قائم کرتی ہے، جب کہ "دوسرا آخری خط” میں کہانی کے ساتھ سماج، یادداشت اور ضمیر کی گہری جھلک ملتی ہے۔ ان کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں بلکہ ہر مطالعے میں نئے معنی اور تازہ زاویے سامنے لاتی ہیں۔
بطور بانی و مدیر تادیب انٹرنیشنل، حمید قیصر نے اردو ادب کو محض ایک ادبی جریدہ ہی نہیں دیا بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک سنجیدہ اور باوقار شناخت عطا کی۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والے شمارے علمی معیار، تہذیبی نفاست اور فکری گہرائی کا خوبصورت امتزاج ہوتے ہیں، جن میں تحقیق کے ساتھ تخلیقی شعور بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ فیض احمد فیض، میراجی، ن۔م۔ راشد اور سعادت حسن منٹو جیسے عظیم ادیبوں کی صد سالہ تقریبات کو انہوں نے جس اہتمام، فکری دیانت اور جذباتی وابستگی کے ساتھ پیش کیا، وہ محض یادگاری مضامین نہیں بلکہ اردو ادب کے زندہ ورثے کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ اور ذمہ دار کوشش ہے۔
اکیڈمی آف لیٹرز، لوک ورثہ اور قومی زبان اتھارٹی جیسے معتبر قومی اداروں سے وابستگی کے دوران حمید قیصر نے اردو زبان، ادب اور تہذیبی شناخت کی خدمت کو اپنی فکری ترجیح بنائے رکھا۔ ان اداروں میں ان کی موجودگی محض ایک عہدے یا رسمی ذمہ داری تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ پالیسی سازی، ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرتے رہے۔ انہوں نے زبان و ادب کے مسائل کو گہری سنجیدگی سے سمجھا اور انہیں فہم و اعتدال کے ساتھ اجاگر کیا۔ اسی طرح ریڈیو پاکستان، ایف ایم 93 اور میڈیا ٹوڈے (یو ایس اے) میں ان کی نشریاتی اور صحافتی خدمات نے اردو صحافت کو فکری وقار، شائستگی اور اعتماد بخشا۔ ان کی آواز، اندازِ گفتگو اور موضوعات کا انتخاب سنجیدہ ذوق اور علمی پس منظر کا آئینہ دار تھا۔ وہ جہاں بھی وابستہ رہے، وہاں علم، ادب اور تہذیب کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنے اور اردو نشریات میں ذمہ دار اظہار اور فکری بلوغت کی ایک قابلِ تقلید روایت قائم کی۔
کالا باغ، ضلع میانوالی کی مٹی کی خوشبو حمید قیصر کی تحریروں میں پوری شدت کے ساتھ رچی بسی ہے۔ وہ اپنے علاقے کی نمائندگی محض منظر نگاری تک محدود نہیں رکھتے بلکہ وہاں کے احساسات، لہجوں اور زندگی کے رنگوں کو اس طرح لفظوں میں ڈھالتے ہیں کہ قاری خود کو اسی فضا میں موجود محسوس کرنے لگتا ہے۔ ان کی تحریریں مقامی ہونے کے باوجود تنگ دائرے میں قید نہیں رہتیں بلکہ انسانی اقدار اور مشترکہ تجربات کی بدولت عالمی معنویت اختیار کر لیتی ہیں، یوں ہر قاری ان میں اپنے دل کی کوئی نہ کوئی بازگشت ضرور سن لیتا ہے۔
حمید قیصر کی شخصیت کا سب سے نمایاں اور قابلِ تعریف پہلو ان کا اصولی کردار ہے۔ وہ ایسے انسان ہیں جن کی زندگی، تحریر اور تعلقات میں دیانت، سچائی اور وقار ایک مستقل روشنی کی طرح جھلکتی ہے۔ ان کی گفتگو میں سنجیدگی اور تحمل، رویے میں شرافت اور نرمی، اور فیصلوں میں انصاف اور توازن واضح طور پر نظر آتا ہے۔ وہ اپنی ذاتی دلچسپیوں یا خواہشات کے بجائے اصولوں اور اخلاقیات کو ترجیح دیتے ہیں، اور یہی خصوصیت انہیں نہ صرف ایک باوقار ادیب بلکہ معاشرے میں ایک معتبر اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔ ان کے دوست، شاگرد اور ہم عصر سب ان کے اصولی رویے، فکری پختگی اور اخلاقی دیانت کے معترف ہیں، جو ان کی شخصیت کو حقیقی معنوں میں یادگار اور متاثر کن بناتے ہیں۔
حمید قیصر نے صحافت اور ادبی نشریات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ نیشنل پریس کلب کے مینجمنٹ کمیٹی کے رکن اور ایڈیٹوریل رائٹر کے طور پر کام کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے صحافتی معیار اور پیشہ ورانہ اقدار کو فروغ دیا۔ بطور فری لانس جرنلسٹ بھی ان کی تحریریں بصیرت اور تجزیے سے بھرپور رہی ہیں، جنہوں نے قارئین کو معلومات اور فکری رہنمائی فراہم کی۔ ساتھ ہی، وہ سوشل میڈیا پر بھی بہت متحرک ہیں اور خاص طور پر فیس بک پر اپنی ادبی اور فکری سرگرمیوں کے ذریعے قارئین اور دوستوں سے مربوط رہتے ہیں۔
حمید قیصر بطور ڈائریکٹر میڈیا و پبلی کیشنز نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس عہدے پر وہ ادارے کی تمام اشاعتوں، میڈیا مہمات اور عوامی تعلقات کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں، تاکہ نظریہ پاکستان اور اردو زبان و تہذیب کی ترویج مؤثر انداز میں کی جا سکے۔ ان کی قیادت میں ٹرسٹ کی پبلی کیشنز علمی معیار، فکری گہرائی اور ادبی ذوق کی عکاسی کرتی ہیں، جو نہ صرف قارئین کے لیے معلوماتی اور فکری مواد فراہم کرتی ہیں بلکہ اردو ادب اور قومی شناخت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
حمید قیصر اس عہدے پر محض انتظامی ذمہ داریاں ہی انجام نہیں دیتے بلکہ ہر منصوبے میں اپنی تخلیقی بصیرت اور تجربے کو شامل کرتے ہیں۔ وہ نئے موضوعات کی تحقیق، مواد کی تدوین اور معیار کی جانچ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، تاکہ ہر شائع ہونے والا کام ادارے کی وقار اور فکری ذمہ داری کے مطابق ہو۔ ان کی کوشش ہے کہ نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے ذریعہ جاری ہر مواد میں تعلیمی، ادبی اور ثقافتی اہمیت کا امتزاج موجود ہو، اور قارئین کو نہ صرف معلومات بلکہ شعوری اثر بھی ملے۔
اس کے ساتھ، حمید قیصر سوشل میڈیا پر بھی بہت متحرک ہیں، خاص طور پر فیس بک پر، جہاں وہ ٹرسٹ کی سرگرمیوں، ادبی اور فکری مواد، اور قومی اور تہذیبی موضوعات کو قارئین تک پہنچانے کے لیے مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کی یہ سرگرمی نہ صرف ادارے کی پہنچ کو بڑھاتی ہے بلکہ نوجوانوں اور نئے قارئین کو بھی اردو ادب اور قومی سوچ سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
حمید قیصر ایک سچے اور وفادار دوست ہیں. خاموش مگر معتبر، نرم گو مگر مضبوط۔ ان کی رفاقت میں سکون محسوس ہوتا ہے، ان کی باتوں میں روشنی اور بصیرت چھلکتی ہے، اور ان کی موجودگی میں اعتماد اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔ وہ دوستوں کے لیے ایسے ہیں جیسے ایک سایہ دار درخت، جو دھوپ میں راحت اور طوفان میں پناہ فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح وہ ایک استاد اور معلم بھی ہیں, نہ صرف ادب بلکہ زندگی کے اسباق کے۔ ان کی رہنمائی نے بے شمار ذہنوں کو جِلا بخشی، قلموں کو سمت دی اور دلوں کو حوصلہ دیا۔ ان کی تربیت میں علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی بھی شامل ہوتی ہے، جو آج کے دور میں واقعی ایک نایاب اور قابلِ قدر وصف ہے۔ ان کی موجودگی میں دوست اور شاگرد دونوں ایک مضبوط رہنمائی اور اخلاقی طاقت محسوس کرتے ہیں، جو ان کی شخصیت کی گہرائی اور اثر کو ظاہر کرتی ہے۔ حمید قیصر کو خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل اردو زبان، اس کی تہذیب اور اس کے فکری ضمیر کو خراجِ احترام پیش کرنا ہے۔ وہ نسلوں کو جوڑنے والا پل، فکری بصیرت کی آواز اور تہذیبی ورثے کے محافظ ہیں۔ ان کی ہر تحریر، ہر ادارت اور ہر تعلق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ادب صرف فن نہیں بلکہ ذمہ داری ہے؛ صرف اظہار نہیں بلکہ ایک زندہ ورثہ ہے۔
ان کی شخصیت، ان کا قلم اور ان کا کردار اردو ادب کے لیے روشنی کی مانند ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے رہیں گے۔ وہ نہ صرف لکھتے ہیں بلکہ جیتے بھی ہیں. اپنے اصولوں، محبت اور تہذیبی شعور کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت اور مزید علمی و ادبی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین۔