یہ بات بظاہر سادہ ہے مگر اندر سے خاصی الجھی ہوئی کہ پاکستان میں لوگ سیاست سے تقریباً نفرت کرتے ہیں اور عمران خان سے محبت۔ سوال یہ نہیں کہ عمران خان کون ہیں، سوال یہ ہے کہ باقی سب کون تھے اور کیا کرتے رہے کہ سیاست خود ایک ناپسندیدہ شے بن گئی۔
پچھلے اٹھہتر برسوں میں سیاست نے عوام کو بہت کچھ سکھایا نہیں سکھایا تو اپنے اعمال سےاعتماد کرنا نہیں سکھایا۔
ہم نے سیاست کو بار بار اقتدار کی سیڑھی بنتے دیکھا۔ اصولوں کو بیانات میں اور انفرادی مفادات کو فائلوں میں بند ہوتے دیکھا۔ کبھی نظریئے کے نام پر، کبھی استحکام کے نام پر، اور کبھی مجبوری کے نام پر وہ سب کچھ ہوتا رہا جس کا خمیازہ عام آدمی نے بھگتا۔ چنانچہ آہستہ آہستہ سیاست دان ایک مداری بن گیا اور عوام ایک تماشائی۔
ایسے میں عمران خان آیا یا شاید عوام نے اسے خود تخلیق کر لیا۔ ایک ایسا سیاست دان جو سیاست دان جیسا نہیں لگتا تھا۔ جو غلطیاں کرتا تھا مگر وضاحت بھی کرتا تھا۔ جو اکثر اپنے دفاع میں دلیل دینے لگتا ہے۔ یہ رویہ پاکستانی سیاست میں نایاب تھا، اس لئے فوراً نمایاں ہو گیا۔
یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ عمران خان اب ایک شخص سے زیادہ ایک کیفیت بن چکا ہے۔ لوگ یہ نہیں پوچھتے کہ کیا وہ واپس آئے گا، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ کیونکہ واپسی صرف ایک فرد کی نہیں ہوتی، واپسی اس امید کی ہوتی ہے جو اس کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
اور پھر وہ لوگ ہیں جو اس امید کے ساتھ کھڑے رہے۔ پارٹی کے لوگ، کارکن، ساتھی۔ ان پر کبھی غداری کے لیبل لگے، کبھی کمپرومائز کے الزامات۔ کوئی عدالتوں میں ہے، کوئی جیلوں میں، کوئی روپوشی میں۔ ان کی اصل سزا شاید مقدمات نہیں، بلکہ اپنے بچوں سے دوری ہے، اپنے گھروں سے جدائی ہے، ایک نارمل زندگی سے محرومی ہے۔ پچاس پچاس مقدمات ایک انسان کو مجرم ثابت کرنے کے لیے نہیں ہوتے، اسے تھکانے کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں وفاداری قانون سے نہیں، وقت سے لڑتی ہے۔
سوچ یہ ہوتی ہے کہ شاید تھک کر سب خاموش ہو جائیں۔ مگر تاریخ اکثر ایسے تجربات پر بڑے حیران کن نتائج بھی دیتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں عمران خان کا معاملہ روایتی سیاست سے الگ ہو جاتا ہے۔ یہاں سوال اقتدار کا نہیں، نظریئے اور عوامی مقبولیت کی ساکھ برقرار رکھنے کا ہے۔ یہاں بحث حکومت کی نہیں، بیانئے کی ہے۔
اسی لئے سیاست سے نفرت کرنے والا شہری بھی عمران خان کے ذکر پر رک جاتا ہے، سننے لگتا ہے، سوچنے لگتا ہے۔ شاید لوگوں کو عمران خان میں کوئی نجات دہندہ نظر نہیں آتا، شاید وہ اسے کامل لیڈر بھی نہیں سمجھتے۔ مگر وہ اسے اپنا سمجھتے ہیں۔ اور سیاست میں “اپنا ہونا” سب سے قیمتی شے ہے، ایسی شے جو آئین میں نہیں تو نہیں لکھی جاتی، مگر دلوں میں محفوظ رہتی ہے۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے: اگر سیاست اتنی بدنام تھی تو عمران خان کیوں مقبول ہوا؟ جواب شاید یہ ہے کہ لوگوں نے سیاست کو عمران خان میں نہیں بلکہ ان کے وجود میں خود کی جھلک دیکھ کی ہے۔