پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کی جانب سے موصول ہونے والا دعوت نامہ محض ایک رسمی ٹیکسٹ نہیں تھا؛ اس میں خلوص بھی تھا اور وقت کی گہری معنویت بھی۔
پاکستان اکادمی ادبیات پاکستان کا دس روزہ "بین الصوبائی اقامتی منصوبہ” ایسے عہد میں جب معاشرہ شدید پولرائزیشن کا شکار ہے، مکالمے، ہم آہنگی اور تخلیقی ربط کی ایک جرات مندانہ کاوش ہے۔ ملک کے دور دراز خطّوں سے بیس ادیبوں اور شاعروں کو یکجا کرنا، ان کے مابین فکری تبادلے کی فضا قائم کرنا اور ادب کو زندہ سماجی قوت کے طور پر سامنے لانا یہ سب آسان نہیں، پر خطر مگر ضروری ہے۔ اس کاوش پر وہ تمام ادارے، ذمہ داران، سول سرونٹس اور فکری قیادت لائق تحسین ہیں جو ادب کی آواز کو توانا رکھنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
اگرچہ میں سماجی زندگی کے شور ‘ رنگینی اور ہللے گللے سے نوّے فی صد کنارہ کش ہو چکی ہوں اور خود کو زیادہ تر سماجی کاز سے وابستہ ناگزیر کاموں تک محدود رکھا ہے، مگر اس پروگرام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے میرا لالچی دل خودبخود آمادہ ہو گیا۔ سولہ جنوری 2026 کو جب میں اکادمی ادبیات اسلام آباد کے شیخ ایاز کانفرنس ہال میں منعقدہ دوسرے "بین الصوبائی اقامتی منصوبے” کی افتتاحی نشست میں شریک ہوئی جو قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے زیر اہتمام تھی تو ماضی کے کئی دریچے یکدم وا ہو گئے۔
افتتاحی نشست کے مہمانِ اعزاز جناب گیلانی (وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت، سیاحت و امورِ نوجوانان) تھے۔ نظامت کی ذمہ داری جناب محبوب ظفر نے حسبِ معمول خوش اسلوبی سے نبھائی۔ کلیدی خطبہ جناب محمد حفیظ خان نے پیش کیا وہ معتبر پاکستانی فکشن نگار جن کے ناول "اَدھ ادھورے لوگ”، "انواسی” اور "واجد” قومی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور برِصغیر میں شائع ہو چکے ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ سیرائیکی زبان میں ان کی تخلیقی خدمات اور ادبی اعزازات ان کی فکری قامت کی گواہی دیتے ہیں۔
مہمانِ خصوصی جناب اورنگزیب خان کھچی (وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، سیاحت و امورِ نوجوانان) نے اپنے سادہ مگر بامعنی خطاب میں قوم کی فکری تشکیل میں ادب اور ادیب کے کردار کو نمایاں کیا اور اپنی وزارت کی جانب سے اہلِ قلم کی فلاح و بہبود کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
صدرِ محفل، عہد ساز پولی میتھ اور لاکھوں لکھاریوں کے اتالیق و منٹور جناب افتخار عارف کے الفاظ—”لکھنا محض مشغلہ یا ٹائم پاس نہیں، یہ عہد اور وابستگی ہے” سنتے ہی ذہن دسمبر 1995 کی طرف لوٹ گیا، جب سید محسن نقوی کا ایک خط مجھے موصول ہوا تھا۔
1995 ؛ ایک نئے سفر کا آغاز
یہ وہ زمانہ تھا جب میں پاکستان ٹیلی وژن کے لائیو مارننگ شو "روشن پاکستان” میں پہلی اینکر وومن کے طور پر اپنے سفر کی ابتدا کر رہی تھی۔ شاید میں اس لمحے تاریخ کے ایک نئے صفحے پر قدم رکھ رہی تھی، مگر اس ادراک کے بغیر۔
سید محسن نقوی کا وہ خط جس کی سرخی "پرائڈ آف پرفارمنس” تھی محض رسمی تحریر نہیں تھا؛ یہ ایک بڑے شاعر کی شفقت، اعتماد اور حوصلہ افزائی کی دستک تھی۔ واضح رہے کہ میرا ان سے کوئی ذاتی، سماجی یا سیاسی تعلق نہیں تھا۔ یہ خالصتاً ایک ادبی رشتہ تھا-
ایک نوجوان شاعرہ و میڈیا پرسن اور ایک عظیم شاعر کے درمیان۔ یہ خط انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے لیٹریری سیکشن/کلچرل ونگ کے سربراہ کی حیثیت سے ارسال کیا تھا، مگر اس کی روح سیاست سے ماورا تھی۔
2026 ؛ دائرے کی تکمیل
ان تیس برس بعد، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کی متحرک قیادت میں اکادمی ادبیات کے اس پلیٹ فارم پر موجود ہونا یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے اپنا دائرہ مکمل کر لیا ہو۔ افتتاحی اجلاس میں شہر کے نامور ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں کے ساتھ ساتھ پانچوں صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ابھرتے ہوئے قلم کار موجود تھے۔
اس موقع پر جناب حمید شاہد، جناب محبوب ظفر اور محترمہ افشاں عباسی سمیت کئی سینئر اہلِ قلم سے ملاقات ہوئی۔ ان سب کی موجودگی نے اس حقیقت کو مزید مستحکم کیا کہ ادب کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوتا-یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک ذمہ داری ہے۔
محسن نقوی: خراجِ عقیدت
سید محسن نقوی کے لیے میری یہ یہ تحریر بلا کسی سیاسی یا ذاتی مفاد کے، صرف ایک ادنی قلم کار کی حیثیت سے ہے ۔ سید محسن نقوی محض ایک شاعر نہیں تھے؛ وہ ایک احساس، ایک فکری تحریک اور اپنے عہد کی توانا آواز تھے۔ ان کا شعری سرمایہ آج بھی اتنا ہی زندہ اور متعلق ہے جتنا 1995 میں تھا۔
پندرہ جنوری 1996 کو اسلام آباد میں دفتر سے گھر جاتے ہوئے انہیں نامعلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ یہ محض ایک قتل نہیں تھا؛ یہ اردو ادب کے ایک روشن ستارے کا الم ناک اختتام تھا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے قلم کار قتل سے خاموش نہیں ہوتے۔ ان کا کلام، ان کی فکر اور ان کی آواز وقت کی دیواروں سے ٹکرا کر آنے والی نسلوں تک پہنچتی رہتی ہے۔
آج جب اکادمی ادبیات میں پورے پاکستان سے آئے ہوئے نوجوان قلم کار یکجا ہیں، تو یہ محسن نقوی جیسے شعرا کے خواب کی عملی تعبیر ہے کہ ادب سرحدوں، صوبوں اور سیاست سے بالاتر ہو کر انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔
افتخار عارف کے الفاظ میں، لکھنا ایک عہد ہے۔ وہ عہد جوسید محسن نقوی اور ان جیسے بہت سوں نے نبھایا – اکثریت بیسٹ سللیرس نہیں بن سکی – ایوارڈ بھی حاصل نہ ہوا جیسا کہ میں نے دل دل پاکستان جیسے ملی نغمے کے خالق نثار ناسک کے بارے میں لکھا تھا –
ادب نام نمود’ عہدے ‘ علاقے اور تعصب سے بالاتر ہوتا ہے یا ہونا چاہیے-
اکادمی تک آنے والے نوجوان ادیب خوش نصیب ہیں کہ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے اپنے عہد کے بڑے ناموں کو روبرو دیکھا۔ یہی تسلسل ادب کی اصل طاقت ہے۔
آخر میں محسن نقوی کے چند منتخب اشعار پیش ہیں
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے
لوگو اس شہر میں کیسے جیئیں گے ہم
جہاں ہو جرم تنہا سوچنا، لیکن سزا آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں، یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اُکتا گئے، اپنی سُنا آوارگی
کیوں تیرے درد کو دیں تہمتِ ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑ جاتے ہیں
موسمِ زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے