جنریشن زی کا مسئلہ موبائل نہیں، ہمارے رویے ہیں

اللہ تعالیٰ کی سنت کبھی نہیں بدلی۔ اس کا اصول ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے: بڑا انعام، بڑے امتحان کے بعد۔ اگر اس اصول کو سمجھنا ہو تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کافی ہے۔ بچپن میں گھر چھوڑنا پڑا، جوانی میں آگ میں ڈالے گئے، بڑھاپے میں اولاد ملی تو حکم ہوا کہ بیوی اور بچے کو ویرانے میں چھوڑ آؤ، پھر بیٹا جوان ہوا تو خواب میں ذبح کرنے کا حکم آ گیا۔ امتحان پر امتحان، آزمائش پر آزمائش۔ مگر ابراہیمؑ ہر مرحلے پر سرخرو نکلے۔ آخرکار اللہ نے فرمایا: “اے ابراہیم! تم نے وفا کر دی” اور ایسا انعام دیا کہ انہیں خلیل اللہ کہا گیا، اور دنیا کی ہر بڑی قوم نے کہا: ابراہیم ہمارے ہیں۔

یہی اصول ہمیں تربیتِ اولاد میں بھی نظر آتا ہے۔ اولاد اللہ کی عظیم ترین نعمت تو ضرور ہے۔ مگر کھٹن امتحان بھی ہے کیونکہ اسی امتحان میں کامیابی یا ناکامی ہماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو طے کرتی ہے ۔ پھر بھی اس نعمت کی قدر وہی جانتا ہے جس کے پاس یہ نعمت نہیں۔ جس گھر میں برسوں تک بچوں کی ہنسی نہ گونجے، وہاں دل کے کمرے خالی رہ جاتے ہیں۔ مگر انسانی فطرت یہ ہے کہ جو چیز اپنے پاس ہو، اس کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ گاڑی ہو تو شکر نہیں، موبائل ہو تو صبر نہیں، اور اولاد ہو تو بس شکوے ہی شکوے۔ کوئی کہتا ہے بیٹیاں ہو گئیں، کوئی کہتا ہے بیٹے ہی بیٹے ہیں، کوئی کہتا ہے جیسی اولاد چاہیے تھی ویسی نہیں ملی۔ حالانکہ یہ سب رب کے فیصلے ہیں، اور رب اپنے فیصلوں میں ہم سے بہتر جانتا ہے۔

اصل مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد فرشتہ بن جائے، جبکہ ہم خود انسان بھی بننے کو تیار نہیں۔ ہم بچوں کی تربیت کے لیکچر تو بہت دیتے ہیں، مگر اپنی اصلاح کی باری آئے تو موبائل سائلنٹ پر ڈال دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج “تربیتِ اولاد” صرف انہیں لوگوں کے لیے اہم موضوع بن گئی ہے جو واقعی چاہتے ہیں کہ ان کے بعد ان کے بچے معاشرے کے لیے بوجھ نہیں، فائدہ ہوں۔

کبھی ہم کہتے تھے: میرا بیٹا ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، وکیل بنے۔ آج حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ والدین بس یہ دعا کرتے ہیں: “یا اللہ! میرے بعد یہ بچہ میرے لیے فتنہ نہ بنے، عذاب نہ بنے، بلکہ صدقۂ جاریہ بن جائے۔”

پاکستانی معاشرے میں آج کی جنریشن زی کو دیکھ لیجیے۔ موبائل ہاتھ میں، کانوں میں ایئر بڈز، آنکھوں میں بے چینی، دل میں سوال، اور دماغ میں الجھن۔ کوئی الحاد کا شکار ہے، کوئی ڈپریشن میں، کوئی شادی سے ڈر رہا ہے، کوئی صرف پیسے کو مقصدِ حیات سمجھ بیٹھا ہے۔ ہم چیخ چیخ کر کہتے ہیں: “یہ نئی نسل خراب ہو گئی ہے”، مگر آئینہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔

مسلمان کے لیے تربیتِ اولاد کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ کیونکہ غیر مسلموں کی طرح ہمیں منصوبہ بندی کرنے اور عمل درآمد کر کے نتائج کے مثبت آنے کی توقع کرنے کی ضرورت نہیں اللّٰہ پاک کا احسان عظیم ہے کہ ہمیں اپنے آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی امت بنایا ہے ہمارے پاس مکمل رہنمائی عملی نمونے کے ساتھ موجود ہے ہمیں یعنی والدین کو اپنے نبی کی غلامی کو عملی طور پر قبول کرنا ہے ، پیدائش سے لے کر وفات تک، خوشی سے لے کر غم تک، گھر سے لے کر بازار تک ہر مرحلے پر رہنمائی موجود ہے۔

نبی کریم ﷺ کی زندگی دیکھ لیجیے۔ بطور والد آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا رویہ کیسا تھا؟ حضرت فاطمہؓ آتیں تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے، اپنی جگہ بٹھاتے۔ یہ صرف محبت نہیں، تربیت تھی ،عزت دینا سکھانے کی تربیت۔ بطور شوہر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے، تاکہ امت کو یہ سبق ملے کہ مردانگی غرور میں نہیں، خدمت میں ہے۔ بطور مہمان آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سادگی اختیار کرتے، بطور میزبان خندہ پیشانی دکھاتے۔ یہ سب رویے زبان سے نہیں، عمل سے سکھائے گئے۔

اصحابِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ بھی یہی تھا۔ وہ حدیثیں رٹتے نہیں تھے، جو بات سمجھ آ گئی اس پر عمل کر لیتے تھے۔ انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ “صبح جلدی اٹھنے کی فضیلت کیا ہے”، بس وہ اٹھ جاتے تھے، فجر پڑھتے تھے، قرآن سے جڑ جاتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے گھروں میں تربیت خود بخود ہو جاتی تھی۔

آج ہم چاہتے ہیں کہ بچہ فجر کی پہلی رکعت میں مسجد پہنچے، جبکہ ہم خود ڈیڑھ دو بجے تک موبائل پر ریلس دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: “بیٹا جھوٹ نہیں بولنا”، اور خود فون پر کہتے ہیں: “کہہ دو گھر پر نہیں ہوں”۔ ہم کہتے ہیں: “بیٹا گالی نہیں دینی”، اور ٹریفک میں کھڑے ہو کر پوری لغت استعمال کر لیتے ہیں۔ پھر حیران ہوتے ہیں کہ بچہ بگڑ کیوں گیا؟

ایک والد گرامی قدر اکثر کہا کرتے ہیں:
“تربیتِ اولاد ایسے ہے جیسے چہرے پر مٹی ہو اور ہم آئینہ صاف کرتے رہیں۔”

بچوں کی اصل تربیت تقریروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔

کھانے پینے کی مثال لے لیجیے۔ بچہ یہ نہیں جانتا کہ برگر بہتر ہے یا دال۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ ابو اور امی کس پر منہ بناتے ہیں۔ ماں سبزی پر ناک چڑھائے گی تو بچہ بھی سبزی دشمن بن جائے گا۔ باپ ہر وقت باہر کے کھانے کا ذکر کرے گا تو بچہ گھر کے کھانے کو سزا سمجھے گا۔

حل کیا ہے؟

حل ایک ہی ہے: خود کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے حوالے کرنا۔ اگر ہمارا اٹھنا، بیٹھنا، بولنا، کھانا، سونا، غصہ کرنا، خوش ہونا۔سب نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ کے مطابق ہو جائے، تو بچوں کی تربیت خود بخود ہو جائے گی۔ پھر ہمیں الگ سے “اخلاقیات کی کلاس” لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد ہمارے مرنے کے بعد ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بنے، تو ہمیں دیگیں پکا کر اعلان کرنے کے بجائے اپنی زندگی کو اعلان بنانا ہوگا۔ عمل وہ زبان ہے جو بچوں کو سب سے زیادہ سمجھ آتی ہے۔

آخر میں بس یہی کہنا ہے:

اگر ہم خود مفید انسان بن گئے، تو ہماری اولاد کو مفید بننے کے لیے کسی موٹیویشنل اسپیکر کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ، اصحاب کا کردار، اور سلف صالحین کی سادگی یہی وہ نسخہ ہے جو آج کے پاکستان، آج کی نوجوان نسل، اور آج کے پریشان والدین کے لیے واحد حل ہے۔ ہمیشہ کی طرح تجربہ شرط ہے تھوڑا نہیں مکمل غور کیجئے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے