بارہ ڈشیں بمقابلہ ون ڈش

دور افریقہ کے اندر، بہت دور دراز علاقے میں ایک چھوٹی سی بستی آباد تھی۔ بستی کیا تھی، دراصل یہ سردار کے احکام کی ایک جیتی جاگتی مثال تھی۔ یہاں سورج بھی شاید سردار کی اجازت سے نکلتا تھا اور ہوا بھی اس بات کا خیال رکھتی تھی کہ کہیں حد سے زیادہ نہ چل جائے۔ اس بستی کا سردار ایک نہایت زیرک، تجربہ کار اور حسبِ روایت “دانشمند” شخص سمجھا جاتا تھا۔ دانشمندی کی سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی تھی کہ وہ جو کہہ دے، وہی عقل، وہی قانون اور وہی انصاف۔

ایک دن سردار نے اعلان کیا کہ آئندہ اس قبیلے میں کسی بھی شادی پر ایک ڈش سے زیادہ کھانا نہیں پکایا جائے گا۔ دلیل یہ دی گئی کہ فضول خرچی معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے، لوگ قرض میں ڈوب جاتے ہیں، اور خوشی کے نام پر پیٹ پر ظلم کیا جاتا ہے۔ اعلان کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ جو اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اسے سزا دی جائے گی۔ سزا کی نوعیت تو بیان نہیں کی گئی، مگر بستی کے لوگوں کو اندازہ تھا کہ سردار کی سزائیں اکثر یادگار ہوتی ہیں۔

چنانچہ بستی میں سادگی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ شادیوں میں اب ایک ہی دیگ چڑھتی، ایک ہی سالن پکتا، اور لوگ پلیٹ میں آدھا نوالہ دیکھ کر بھی شکر ادا کرتے کہ کم از کم قانون کی پاسداری ہو رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہنا شروع کر دیا کہ ایک ڈش میں اصل ذائقہ آتا ہے، باقی سب نمائش ہوتی ہے۔ یوں سادگی کو اخلاقیات کا درجہ دے دیا گیا، اور اخلاقیات کو سردار کے حکم کا محتاج بنا دیا گیا۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ اصل افریقی ڈھول تو ابھی بجنا باقی تھا۔

کچھ عرصے بعد سردار کے بیٹے کی شادی کا اعلان ہوا۔ بستی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، آخر سردار کا بیٹا تھا، بستی کا “شہزادہ”۔ لوگوں نے سوچا کہ یہ شادی سادگی کی اعلیٰ مثال ہو گی، ایک ڈش، کم مہمان، اور اخلاقیات کی مکمل نمائش۔ مگر جب شادی کا دن آیا تو بستی والوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

ایک نہیں، دو نہیں، پورے بارہ ڈشیں پکائی جا رہی تھیں۔ دیگوں کی تعداد دیکھ کر لگتا تھا جیسے کسی قحط زدہ علاقے میں اقوامِ متحدہ کا فوڈ پروگرام اتر آیا ہو۔ خوشبوئیں ایسی کہ ایک ڈش والا قانون خود شرما کر کسی جھاڑی کے پیچھے چھپ گیا۔ بستی کے لوگ گنتی کرتے رہے: ایک، دو، تین… بارہ۔ ہاں، پورے بارہ۔

کسی نے ہمت کر کے پوچھ لیا کہ سردار! یہ کیا ہو رہا ہے؟ تو سردار نے بڑے سکون سے جواب دیا: “یہ میرا بیٹا ہے۔” بس، بات ختم۔ جیسے یہ جملہ ہر سوال، ہر اعتراض اور ہر قانون کا کفارہ ہو۔

اب بستی کے لوگ کنفیوژن میں مبتلا تھے۔ ایک طرف قانون، دوسری طرف سردار کا بیٹا۔ ایک طرف سادگی کا وعظ، دوسری طرف بارہ ڈشوں کی خوشبو۔ کچھ لوگ خاموش رہے، کیونکہ خاموشی یہاں بقا کی علامت تھی۔ کچھ نے دل ہی دل میں کہا کہ شاید بارہ ڈشیں بھی دراصل ایک ہی ڈش کی توسیع ہوں۔ آخر منطق بھی تو سردار کی لونڈی تھی۔

مزاحیہ پہلو یہ تھا کہ اگلی شادیوں میں لوگ ایک ڈش رکھتے ہوئے بھی بارہ ڈشوں کے قصے سناتے۔ طنزیہ انداز میں کہتے کہ ہمارے ہاں تو بس ایک ہی سالن ہے، مگر نیت میں بارہ ہیں۔ کچھ نوجوانوں نے تو یہاں تک تجویز دی کہ شادی سے پہلے دلہا کا ڈی این اے ٹیسٹ کروا لیا جائے، کہیں وہ بھی سردار کا بیٹا ہی نہ نکل آئے، تاکہ بارہ ڈشوں کا حق دار بن سکے۔

یہ کہانی صرف ایک افریقی بستی کی نہیں، بلکہ ہر اس معاشرے کی ہے جہاں قانون کمزور اور قانون بنانے والا طاقتور ہو۔ جہاں اصول عوام کے لیے ہوں اور استثنا اشرافیہ کے لیے۔ جہاں سادگی کا سبق غریب کو پڑھایا جائے اور امیری کی نمائش کو “خاندانی مجبوری” کہا جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر میں بستی کے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ خاموش رہیں، ایک ڈش کھاتے رہیں اور بارہ ڈشوں کی خوشبو پر گزارا کریں؟ یا پھر یہ سوال اٹھائیں کہ قانون اگر سب کے لیے ہے تو سب کے لیے ایک جیسا کیوں نہیں؟ اب آپ کے خیال میں اس قبیلے کے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے کہ ان کے لیے ایک ڈش اور سردار کے اپنے بیٹے کے لیے بارہ ڈشیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے