استاد جی مولانا حسین قاسم صاحب رحمہ اللہ کو ڈھیروں من مٹی تلے چھوڑ کر بوجھل دل اور پرنم آنکھوں کے ساتھ واپسی ہوئی، ان کا پرسکون چہرہ دیکھ کر یہ یقین سوا ہوگیا کہ عمر بھر علم و عمل کے راستے میں بے کل رہنے والی اس جان بے قرار کو آخرکار قرار آ ہی گیا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے تھکن بھرا ایک طویل سفر اپنی منزل کو پہنچ گیا ہو۔
استاد محترم کے ساتھ بیتی زندگی یادوں کی ایک پوری دنیا ہے، درجہ خامسہ سے لے کر گزشتہ ہفتے تک ایسا مسلسل ساتھ رہا کہ درمیان کے محض دو برسوں کے سوا، تقریبا ہر چند روز کے بعد ملاقات رہتی تھی۔ گذشتہ چند سال سے تو تقریبا روز فجر کی نماز سے پہلے ٹہلتے ٹہلتے پانچ دس منٹ گفتگو ہو جاتی، چونکہ وہ عربی زبان کے عاشق زار تھے، اس لیے اس مختصر سی ملاقات میں بھی عموما کسی نئے عربی پروجیکٹ، یا پروگرام کی باتیں شئیر کرتے!
درس نظامی کے موجودہ نظام میں، پھر دارالعلوم جیسے بڑے ادارے میں، زمانہ طالب علمی میں اتنے اساتذہ سے تلمذ حاصل ہو جاتا ہے کہ اکثر یہ سوچنا پڑتا ہے کہ فلاں استاد کے ساتھ خاص یاد گار کونسا ہے؟ استاد جی مگر ایسے تھے کہ ان کے ساتھ روز کی کوئی یادگار موجود ہے،گویا وہ صرف استاد نہیں، روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔
دارالعلوم میں تو عموما ساتھ رہنا ہوتا ہی تھا، باہر بھی کبھی عربی کے کسی پروگرام یا کسی ادارے کے امتحان کے سلسلے میں ساتھ جانا ہوتا تھا، ابھی اسی ایک ماہ میں دو تین اداروں میں ساتھ جانا ہوا، مجھے یاد ہے ایک ادارے میں وہاں استاد جی کے بعد بندہ کے چند عربی کلمات تھے، استاد جی سن رہے تھے، گفتگو کے بعد ان کے تاثرات، ان کی خوشی، ان کی شفقت، سب آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے، بلکہ ان کے اس آخری سفر میں بھی ٹنڈو اللہ یار کے معروف دینی ادارے جامعہ صدیق اکبر، عربی دورے کے سلسلے میں استاد جی کے ساتھ جانا تھا، میری مگر پھر ترتیب نہ بن سکی۔ استاد جی تشریف لے گئے، اور ایسے گئے کہ آج نصیب ہوئی تو بس ان کی خاموش اور بے زبان جسد کی منٹوں بھر زیارت۔
حقیقت یہ ہے کہ استاد جی رحمہ اللہ کی شخصیت ایسی ہر دل عزیز تھی کہ کل سے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے خاندان کا کوئی نہایت قریبی فرد رخصت ہو گیا ہے، جب تک قبر میں نہیں اتارا تھا، دل ماننے کو تیار نہ تھا، جب اپنے ہاتھ سے مٹی ڈالی، تب دل مان سا گیا۔
استاد جی رحمہ اللہ کی خوبیاں کیا گنوائی جائیں؟ وہ تو سراپا خوبی تھے، علم وعمل کی ایسی سنگھم ان کی شخصیت تھی، جو بلاشبہ قابل رشک تھی!
نماز کا وقت ہوا، استاد جی مسجد میں نہ ہوں، یہ ممکن نہ تھا، ادھر سبق کا وقت ہوا ، ادھر استاد جی دروازے سے داخل نہ ہو، امکان نہیں تھا، پابندی کے ساتھ، عین وقت پر، بغیر کسی تاخیر کے پہنچنا ان کا معمول تھا۔ ہفتہ دو ہفتے کا نہیں، شاید پچیس برس کا بلا ناغہ معمول تھا۔
صبر اس درجے کا تھا کہ ہم جیسے ہر وقت ساتھ رہنے والوں کے سامنے بھی کبھی کسی جسمانی تکلیف کا شکوہ زبان پر نہ آیا۔ قناعت ایسی کہ کبھی ان کے منہ سے کسی کمی کا گلہ سننے کو نہیں ملا۔
ہاں کسی بات کی فکر رہتی تھی، کسی چیز کا شکوہ دل میں ہوتا تھا، تو بس یہی کہ زمانے کی رفتار کے ساتھ علم میں وہ ترقی کیوں نہیں ہو رہی جس کی تمنا ہے؟
حالانکہ ان کے دن رات علمی و تعلیمی سرگرمیوں سے معمور تھے۔
عربی زبان کا عشق، اگر تعصب کی حد تک کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہو، وہ کسی طالب علم سے ناراض ہوتے بھی تو عربی کی وجہ سے، اور خوش ہونے کی کنجی بھی طلبہ کو یہی ملی ہوئی تھی کہ عربی میں بات کرو، استاد جی فورا سے پہلے خوش ہو جائے، اس حوالے سے دار العلوم دیوبند کے سابق استاد الادب مولانا وحید الزمان کیرانوی رحمہ اللہ ان کے آئیڈیل تھے، ان کی شخصیت پر لکھی ہوئی ان کے مایہ ناز شاگرد مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی "وہ کوہ کن کی بات” پڑھنے کی اپنے شاگردوں کو بیت ترغیب دیتے تھے، ہم نے شاید پہلی دفعہ ان سے لے کر پڑھی تھی!
دارالعلوم کراچی میں اساتذہ میں سب سے زیادہ کتابیں ہم نے استاد جی سے پڑھی ہیں، درسگاہ کے اندر نصاب کے علاوہ ، عربی ادب کی دو تین کتابیں خارجی اوقات میں بھی سے درسا پڑھی تھیں۔
بہر حال، استاد جی اپنے حصے کا کام نہایت عمدہ انداز میں کرکے رخصت ہو گئے ، علم کی راہ میں زندگی بتائی، یہاں تک کہ سفر آخرت بھی اسی راستے میں ہوا، ہزاروں طالبان علم کو پڑھایا، تربیت کی، انگلی سے پکڑ کر علم وعمل کا راستہ دکھایا، آج وہ بلاشبہ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں، مگر وہ اپنے پیچھے شاگردوں کی ایک جہاں چھوڑ کر گئے ہیں، یہ علم کی ترویج، تربیت، تدریس، اور تصنیف سبھی ان کےلیے صدقہ جاریہ ہیں! انشاءاللہ تعالی!
استاد جی کی شخصیت پر لکھنا ہم جیسے شاگردوں پر ان کا حق ہے، مگر آج ان کا سانحہ وفات اتنا دردناک ہے کہ ذہن مواد دینے پر آمادہ نہیں ہو رہا، اور قلم اس سانحے کے بوجھ سے لڑکھڑا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ استاد جی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، ان کی نسبی اور روحانی اولاد کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
اللهم لا تحرمنا أجره، ولا تفتنا بعده۔