پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی، جو اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو بندرگاہوں، صنعتوں، مزدوروں اور کاروبار کے ذریعے پورے پاکستان کو فیڈ کرتا ہے، بدقسمتی سے ہمیشہ کی طرح نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہ اکیسویں صدی کا پاکستان ہے.2026 چل رہا ہے، دنیا اسمارٹ سٹیز، ڈیجیٹل سیفٹی سسٹمز اور خودکار ایمرجنسی ریسپانس پر کام کر رہی ہے، مگر کراچی آج بھی اپنی بنیادی زندگی اور حفاظت کے لیے لڑ رہا ہے۔ یہ ہمارا اپنا شہر ہے، پاکستان کا دل، مگر اس کے ساتھ سلوک ایک لاوارث بستی جیسا ہے۔ کراچی کو بیک ہوم کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی شہر سب سے زیادہ محرومی، بے حسی اور ریاستی غفلت کا شکار ہے۔ اگر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا یہ حال ہے تو پھر باقی ملک کے محفوظ ہونے کا تصور محض ایک فریب ہے، ایک جھوٹا نعرہ ہے جس کے پیچھے صرف ناکامی چھپی ہوئی ہے۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو حادثہ کہنا دراصل ریاستی جرم کو چھپانے کی کوشش ہے، کیونکہ یہ واقعہ ایک مکمل ناکام نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ آگ محض شعلے نہیں تھے بلکہ نااہل حکومتوں، کرپٹ بلڈنگ کنٹرول، غیر موجود حفاظتی پالیسیوں اور بے حس انتظامیہ کی علامت تھے۔ آگ بجھانے میں چوبیس گھنٹوں سے زائد وقت لگ جانا ایک سوال نہیں بلکہ ایک الزام ہے۔ سوال یہ ہے کہ فائر بریگیڈ کہاں تھی، جدید آلات کہاں تھے، تربیت یافتہ عملہ کہاں تھا، اور وہ نظام کہاں تھا جو ٹیکس لینے کے بعد عوام کی جان بچانے کے لیے ہونا چاہیے تھا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کراچی میں فیکٹریوں میں آگ لگتی رہی، بلڈنگز جلتی رہیں، لیاقت آباد، صدر، کورنگی اور لانڈھی جیسے علاقوں میں لوگ زندہ جلتے رہے، مگر ہر بار حکومت نے وقتی بیانات دے کر معاملہ دفن کر دیا۔ کوئی سبق سیکھا گیا، نہ کوئی نظام بدلا گیا، کیونکہ یہاں حادثات سے نہیں، صرف اقتدار سے دلچسپی لی جاتی ہے۔
گل پلازہ محض ایک عمارت نہیں تھی بلکہ بارہ سو دکانوں پر مشتمل ایک مکمل معاشی نظام تھا جو ایک جھٹکے میں زمین بوس ہو گیا۔ یہ دکانیں صرف کاروبار نہیں تھیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی کا سہارا تھیں۔ کروڑوں روپے کا سامان جل کر راکھ بن گیا اور وہ لوگ جو کل تک مالک تھے آج صفر پر کھڑے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو کسی حکومتی امداد پر نہیں بلکہ اپنی محنت پر زندہ تھے۔ ان دکانوں سے بچوں کی فیسیں ادا ہوتی تھیں، گھروں کا خرچ چلتا تھا، علاج معالجہ ہوتا تھا، بیٹیوں کی شادیاں جڑی ہوئی تھیں اور پوری عمر کی کمائی محفوظ سمجھی جاتی تھی۔ اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو انسانی جانوں کا ضیاع ہے، وہ افراد جو آج بھی لاپتہ ہیں، جن کے گھروں میں دروازے کھلے ہیں اور آنکھیں راستے پر جمی ہوئی ہیں۔ ایک فائر فائٹر نے لوگوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی، مگر یہ ریاست بتائے کہ اس قربانی کا بدلہ کیا ہے، ایک خاموشی، ایک تمغہ یا ایک رسمی بیان۔ کیا کسی ماں کو اس سے اس کا بیٹا واپس مل جائے گا۔
کراچی کے مسائل کوئی نئی بات نہیں، یہ شہر برسوں سے مسلسل لاوارثی کی سزا کاٹ رہا ہے۔ کبھی یہاں عمارتیں زمین بوس ہو جاتی ہیں، کبھی فیکٹریوں میں آگ لگتی ہے، کبھی پانی نایاب ہو جاتا ہے، کبھی اسٹریٹ کرائم روزمرہ کا معمول بن جاتا ہے، اور ہر بار حکمران طبقہ تماشائی بن کر کھڑا رہتا ہے۔ ان مسائل کو میمز میں بدل دیا جاتا ہے، عوام کے دکھ کو مذاق بنا دیا جاتا ہے، کیونکہ ہمارے حکمرانوں کے لیے یہ صرف ایک خبر ہوتی ہے، ایک اور سانحہ جس پر دو دن بات کر کے بھلا دیا جاتا ہے۔ یہی حکمران اپنی عیاش زندگیوں، مہنگی شادیوں، شاہانہ تقاریب اور سوشل میڈیا پر لگژری دکھانے میں مصروف رہتے ہیں اور پھر انہیں چیزوں کو trends بنا کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔ ایک طرف باپ اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا رہے ہوتے ہیں، دوسری طرف یہی حکمران اپنی شادیوں کو میڈیا پر بیچ کر ایک ایسا رجحان سیٹ کر رہے ہوتے ہیں جو عوام کے لیے مزید ذہنی اذیت، مزید احساسِ محرومی اور مزید خودکشی کا باعث بنتا ہے۔
ہمیں آپ کے بیانات نہیں چاہئیں، ہمیں آپ کی تسلیاں نہیں چاہئیں، ہمیں چند دن کی امداد، فوٹو سیشن اور پریس کانفرنسیں نہیں چاہئیں۔ ہمیں وہ حکومت نہیں چاہیے جو ہر حادثے کے بعد صرف افسوس کا اظہار کرے اور پھر اگلے سانحے کا انتظار کرے۔ ہمیں حل چاہیے، ہمیں مضبوط نظام چاہیے، ہمیں اپنی جان، اپنا روزگار اور اپنا مستقبل محفوظ چاہیے۔ ہم کراچی کو جلتا ہوا نہیں بلکہ ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر کراچی محفوظ نہیں ہوگا تو پاکستان بھی محفوظ نہیں ہوگا، اور یہ حقیقت جتنی دیر میں سمجھی جائے گی، اتنی ہی زیادہ لاشیں اس کی قیمت ادا کریں گی۔