ماں کی دعا اور امریکہ کا سفر: ایک معجزاتی داستان
یہ کالم میں فجر کی نماز پڑھ کر اسی بستر پہ بیٹھ کر لکھ رہا ہوں جو بھائی نے والدہ صاحبہ کے لیے خریدا تھا۔ میں بیمار ہو جاؤں یا خوش ہو جاؤں، اسی بستر پر آ کر لیٹ جایا کرتا ہوں۔ سوچا یہ کالم بھی ادھر ہی لکھتا ہوں کہ والدہ صاحبہ کے ساتھ وہ تعلق، وہ اثر اور وہ محبت محسوس ہو۔ وقتاً فوقتاً والدہ صاحبہ اور والد صاحب کی دیوار پر لگی بڑی تصویروں کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ اب دونوں حیات تو نہیں مگر اللہ کے نبیﷺ فرماتے ہیں کہ (والدین کا) صبح چہرہ دیکھ لے تو اللہ کی رحمتیں اور رضا کا حصول ہوتا ہے۔ زندہ نہ سہی، تصویر میں دیکھ لیتا ہوں۔ ساتھ میں درِ حسینؑ کربلا میں کھینچی تصویر اور ایک فریم ہے جس میں سورہ یٰسین شریف لکھا ہے۔ سامنے دیوار پر لگی ٹیوب لائٹ کے پاس حضرت محمد ﷺ، بی بی فاطمہؑ، حسنین کریمینؑ اور حضرت علیؑ کے ناموں کا فریم ہے اور سر کے پاس مدینہ مقدسہ میں روضہ رسولﷺ اور درود شریف کا فریم ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ میرے ایک کزن کو جب اسپیشلائزیشن کے لیے امریکہ کا ویزہ ملا تو ان کی والدہ کو مبارکباد دینے کے لیے میں نے فون کیا اور انہوں نے مجھے اور اپنے بیٹے کو ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ ہمارے وہ رشتہ دار جن کو ہم سب ‘چاچی’ کے نام سے پکارتے ہیں، بہت نفیس اور خوش اخلاق خاتون ہیں۔ ہمیشہ مسکراتی رہتی ہیں اور دعائیں دیتی رہتی ہیں۔ ان کی دعائیں سنتے سنتے مجھے اپنی مرحومہ والدہ کی یاد آگئی۔ اور ان سے بات کرتے ہوئے میں اسی صحن یا چمن میں چہل قدمی کر رہا تھا جہاں والدہ صاحبہ کے آخری دنوں میں ہاتھ پکڑ کر میں ان کو واک کراتا رہتا تھا۔ اچانک دل ہی دل میں خیال اٹھا کہ اگر بی بی حیات ہوتیں تو وہ بھی میرے کسی ویزے پر اسی طرح خوش ہو کر مجھے دعائیں دیتیں۔
اس گھر سے میری وابستگی ایسی ہے کہ اس لان کے ساتھ مجھے بہت رغبت ہے۔ اب بھی اس گھر میں جا کر ننگے پاؤں اسی گھاس پر چہل قدمی کرتا ہوں اور والدہ کے قدموں والی جگہ پہ اپنے پاؤں رکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے جیسے میرے پاؤں والدہ صاحبہ کے پاؤں سے ٹکرا گئے ہیں۔ ان کی قبر پر بھی جا کے لیٹ جاتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے دل سے لگا لیا ہو۔ مجھے پتا نہیں یہ یقین کیوں ہے کہ زمین یا مٹی کا کچھ حصہ ماں اور بیٹے کی کششِ ثقل کو نہیں روک سکتے۔ DNA بہت پاورفل ہوتا ہے، تقابلی طور پر کسی مٹی کے مقابلے میں۔ بہرحال دلوں کے بھید تو اللہ جانتا ہے۔ چاچی سے بات ہوئی اور میں فون بند کر کے اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا۔
اسی رات کا ذکر ہے کہ میرے باس جو اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر تھے، کال آئی کہ تاجکستان کے اسپیکر جو پاکستان کے دورے پر ہیں ان کو ریسیو کرنا ہے اور "رحیم شاہ! آپ میرے ساتھ ایئرپورٹ جائیں گے”۔ میں جلدی سونے والا آدمی ہوں اس لیے سو گیا اور رات دو بجے اٹھا ہی تھا کہ آفس کی گاڑی لینے گھر پہنچی ہوئی تھی۔ اسپیکر صاحب کو ریسیو کیا اور واپسی پہ صاحب کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ انہوں نے کہا: "پرسوں امریکہ جا رہا ہوں، آپ بھی ساتھ جائیں گے۔ اور امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کو ایڈریس کرنے کے لیے میرے لیے ایک واضح اور اچھی تقریر کا ڈرافٹ بھی بنا دیں”۔ ساتھ کچھ اور احکامات بھی صادر فرمائے۔ میں نے حکم کی بجا آوری کی، البتہ امریکہ ساتھ جانے والی بات کچھ سمجھ نہیں آئی کیونکہ ایک دن میں امریکہ کا ویزہ تو لگنے سے رہا۔ بہرحال امریکہ کے میزبانوں سے اگلے دن بات ہوئی اور انہوں نے رسماً میرے نام کا دعوت نامہ بھی مجھے بھیج دیا۔
مشکل یہ تھی کہ غالباً 19 یا 20 تاریخ تھی مہینے کی اور ان دنوں میں کسی بھی ملازم کی جیب اکثر خالی ہی رہتی ہے۔ نجانے کیا ہوا مگر میں نے پھر بات کرنے کی کوشش کی اپنے بڑے بھائی سید عابد شاہ سے اور انہوں نے رہنمائی فرمائی۔ قصہ لمبا اور اس کا خلاصہ مختصر، مگر اسی دن شام کو میرا امریکہ کا ویزہ فارم جمع ہونے کے بعد کسی دوست سے 16 ہزار روپے قرض لے کر پروسیس کا آغاز ہوا۔
حیرت انگیز طور پر اگلے دن صبح 9:30 پہ میں امریکن ایمبیسی کے ویزہ سیکشن میں کھڑا تھا اور مجھ سے ویزہ آفیسر یہ پوچھ رہا تھا کہ آپ نے امریکہ کیوں جانا ہے۔ میں جو 200 فیصد اس یقین کے ساتھ کہ 16 ہزار روپے ضائع کر دئیے، دل میں یہ سوچ رہا تھا اور ساتھ ویزہ آفیسر کو جواب دیتے ہوئے بتا رہا تھا کہ امریکہ کیوں جانا ہے۔ یہ سب کچھ محض 32 گھنتوں میں ہو رہا تھا اور میں خود حیران کہ یہ سب کیسے ہو رہا تھا۔ بہر حال انٹرویو دیا اور ویزہ آفیسر نے بولا کہ "دو ہفتے تک آپ کو پتا چل جائے گا”۔ میں کبھی کبھی حد سے زیادہ سیدھا ہونے کی وجہ سے بس بول پڑتا ہوں، کبھی فائدے میں رہ جاتا ہوں اور کبھی اللہ کی جو منشا ہو۔ میں نے ویزہ آفیسر سے بولا: "ویزہ دینا ہے تو آج دے، ورنہ دو ہفتے بعد میں نے کیا کرنا ہے امریکہ جا کر؟” اور یہ کہتے ہوئے ایمبیسی سے باہر آگیا۔
معجزہ تو تب ہوا جب میں نے جیسے ہی ایمبیسی سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ کال آگئی: "آپ اپنا پاسپورٹ شام کو پشاور موڑ G-9 یا G-8 سے وصول کر لیں”۔ اب تو پکا یقین ہو گیا کہ ویزہ نہیں لگا، اور سیدھا دفتر چلا گیا۔ شام کو چھٹی سے چند لمحے قبل بتائے ہوئے جگہ پہ پہنچا، پرچی پکڑائی کاؤنٹر پہ اور اپنا پاسپورٹ وصول کرتے ہوئے چل پڑا، مگر ان دفتر والوں نے کہا: "اپنا پاسپورٹ ادھر ہی چیک کرتے ہوئے جائیں”۔ میں نے سوچا یہ عجیب کلیہ زبردستی ہے، نہیں کرتا۔ کہتے ہیں "رول ہے”۔ میں نے کہا: "چلے ٹھیک ہے”۔ اب لفافہ کھولا، پاسپورٹ نکالا، صفحے پلٹے اور دیکھا تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا 5 سال کا ویزہ میرے پاسپورٹ پہ تھا اور اس پہ میری تصویر!
بات یہاں ختم نہیں ہوتی، اب ذرا ایک لمحہ واپس چلتے ہیں۔ چاچی سے فون پہ ان کے بیٹے کو ویزے کی مبارکباد دیتے ہوئے اور دل میں یہ خیال کہ "بی بی حیات ہوتیں تو مجھے بھی دعائیں دیتیں اور اس طرح خوش ہوتیں”، اور گھر کے اسی صحن میں چہل قدمی کرتے ہوئے بی بی کے قدموں کی تپش کو محسوس کرنا، اور اگلے 35 گھنٹوں میں امریکہ کا ویزہ لگنا کیا ہے؟ یہ سب کچھ اللہ کی منشا اور ماں سے محبت اور یہ حقیقت ہے کہ والدین فوت بھی ہو جائیں تو ان کی برکتیں قائم رہتی ہیں۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا نام کون نہیں جانتا۔ سب کو پتا ہے اور سب کو خبر ہے کہ دنیا کے نقشے پہ بالخصوص دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ ایک توانا اور طاقتور ملک ہے۔ پھر کیا ہوا اور کیسے میں ڈلاس، پھر جارجیا، پھر واشنگٹن، نیویارک اور نیو جرسی گیا، یہ اگلی قسط میں انشاء اللہ۔