تیراہ: آپریشن ، در بہ در عوام اور پائیدار امن

اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا خطاب محض ایک رسمی تقریر نہیں تھا بلکہ یہ خیبر پختونخوا کے سابقہ فاٹا اور بالخصوص تیراہ کے عوام کے لیے ایک سنجیدہ ریاستی مؤقف اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی آواز تھی۔ ان کا خطاب ایوانوں کی خاموشی کے خلاف ایک بھرپور سیاسی احتجاج کی صورت سامنے آیا۔

ایمل ولی خان نے نشاندہی کی کہ ملک کے کسی بھی حصے میں اگر کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو ایوان بالا و ایوان زیریں یکجہتی کا مظاہرہ کرتا ہے مگر ضلع خیبر کے تیراہ علاقے میں جاری آپریشن پر ایوانوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ خطہ ریاستی ترجیحات سے باہر ہو چکا ہو۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کے نام پر معصوم اور باعزت شہریوں کو ان کے گھروں اور آبائی علاقوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ لوگ بے یار و مددگار ہیں انہیں نہ یہ معلوم ہے کہ کہاں جائیں اور نہ یہ کہ ان کی فریاد کون سنے گا۔ خیموں کا ذکر تو کیا جا رہا ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پختون علاقوں کو ایسے حالات کا سامنا ہے، مگر اس بار فرق یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے درمیان ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ وفاقی سطح پر خاموشی چھائی ہوئی ہے جبکہ صوبائی سطح پر ذمہ داری سے پہلو تہی کی جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار بھی کڑی تنقید کا متقاضی ہے۔ ایک وزیراعلیٰ کا بنیادی فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بحران کے وقت اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہو مگر تیراہ کے عوام آج خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ یہ خاموشی صرف انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک سنگین سیاسی نقصان بھی ہے۔

ایمل ولی خان کے خطاب کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں افغانستان سے تقریباً چالیس ہزار طالبان کو واپس لا کر خیبر پختونخوا میں بسایا گیا۔ اُس وقت بھی عوامی نیشنل پارٹی مسلسل خبردار کر رہی تھی کہ ان عناصر کو بنوں جیل سے فرار ہو کر واپس لانے کے نتائج خطرناک ہوں گے مگر ان خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔آج انہی غلط فیصلوں کا بوجھ عام اور پرامن پختون عوام اٹھا رہے ہیں۔ عوام کو بے گھر کر کے اور ان کے روزگار ختم کر کے ایک بار پھر انہیں عدم تحفظ کے دائرے میں دھکیلا جا رہا ہے حالانکہ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ایک حساس خطے میں رہتے ہیں۔

سابقہ فاٹا کے عوام پچیس برس سے مسلسل دہشت گردی، آپریشنز اور نقل مکانی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل اجتماعی المیہ ہے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف سیکیورٹی آپریشن تک محدود نہیں بلکہ متاثرین کی مکمل بحالی بھی اس کا فرض ہے۔حکومتِ کو چاہیے کہ متاثرین کو صرف عارضی رہائش نہ دے بلکہ انہیں باعزت اور پائیدار روزگار بھی فراہم کرے۔ بازار اجڑ چکے ہیں کاروبار ختم ہو گئے ہیں اور ہزاروں خاندان مکمل طور پر بے روزگار ہو چکے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی آپریشن سے پہلے ان کے معاشی مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟

سب کو یہ علم ہے کہ آپریشن کے دوران گھروں، دکانوں اور مارکیٹوں کا تباہ ہونا ناگزیر ہے۔ اگر ایک طرف سے فوج دہشت گردوں سے لڑتی ہے تو بھی گولے گرتے ہیں اور اگر دوسری طرف سے دہشت گرد حملہ کرتے ہیں تو بھی گولے گرتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نقصان صرف اور صرف غریب اور بے بس عوام کا ہوتا ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومتِ نے اس نقصان کے ازالے عوام کے تحفظ اور ان کی بحالی کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کی ہے؟ یا پھر ایک بار پھر عوام سے یہی توقع رکھی جا رہی ہے کہ وہ سب کچھ سہہ لیں خاموش رہیں اور حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں۔

اس ساری صورتحال کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ شدید سردی میں چھوٹے اور شیرخوار بچے، خواتین اور بچیاں خیموں میں پناہ گزین ہیں جہاں نہ مناسب رہائش ہے نہ سردی سے بچنے کا انتظام۔ عام گھروں میں بھی سردی بچوں کے لیے مشکل ہوتی ہے تو ایسے خیموں میں وہ زندگی کیسے گزاریں گے؟

اس کے ساتھ بچوں کی تعلیم مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہے کیونکہ عارضی بستیوں میں نہ کوئی تعلیمی نظام ہے نہ ایسا ماحول جو بچوں کے ذہنوں کو ترقی دے سکے۔ جب تعلیم رک جاتی ہے ذہن متاثر ہوتے ہیں اور یہی خلا انتہا پسند قوتیں بھرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں جس سے بچے آگے چل کر معاشرے اور ریاست کے لیے چیلنج بن جاتے ہیں۔

اسی طرح بازار اور کاروبار بند ہونے کے بعد بهوک ختم کرڼے کی خاطر لوگ مجبوری میں بھیک، چوری یا دیگر غیر قانونی ذرائع اختیار کرتے ہیں جو کسی صحت مند معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ یہ سب اثرات پالیسی کے خلا کا نتیجہ ہیں اور اس کی تمام ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پائیدار امن تب ہی ممکن ہے جب دہشت گردی کا خاتمہ بھی ہو اور عوام کی زندگی، تعلیم، روزگار اور تحفظ کی مکمل بحالی بھی یقینی بنائی جائے کیونکہ ریاست کی طاقت صرف بندوق میں نہیں بلکہ اپنے شہریوں کی حفاظت اور بھلائی بھی میں ہوتی ہے۔

دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے مگر اس کے لیے صرف بندوق پر انحصار کافی نہیں۔ پائیدار امن کے لیے جامع اور انسان دوست حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پورے سابقہ فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی پروگراموں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ادبی میلوں، ثقافتی فیسٹیولز، کھیلوں کے میدانوں، شاعری، موسیقی اور مقامی روایات کے ذریعے نوجوان نسل کو اپنی ثقافت سے جوڑا جائے۔

جب نوجوان کے ہاتھ میں کتاب، قلم، ہنر اور کھیل ہوگا تو بندوق خود بخود اس کے لیے اجنبی بن جائے گی۔ ثقافت سے محبت اور تشدد سے نفرت وہ طاقت ہے جو دہشت گردی کے نظریے کو شکست دے سکتی ہے۔ نوجوان اگر ثقافت سے جڑ جائیں تو وہ خود دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن سکتے ہیں۔

امن انصاف، روزگار، ثقافت اور عوامی اعتماد سے آتا ہے۔ پختون عوام نے اس وطن کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کا اعتراف کرے کہ وہ جلد سے جلد متاثرین کی مکمل بحالی یقینی بنائے اور سابقہ فاٹا کو واقعی امن کا گہوارہ بنائے کیونکہ دیرپا امن ہی ایک مستحکم فیڈریشن کی ضمانت ہوتی ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے