3 شعبان اور میرا عشق

میرا عشق تذکرۂ حسینؑ

میرا عشق آپ فقط آپ سمجھتے ہو حسین
میری رگوں میں، میرے خون میں بہتے ہو حسین
بارشوں جیسے میرے دل پہ برستے ہو حسین
روح میں آپ اترتے ہو، گزرتے ہو حسین
جان حاضر ہے بنا مانگے ہی جان بھی آپ ہو
آپ سمجھتے ہو حسین

یا حسین… یا حسین…

آج 22 جنوری 2026 ہے، اور اسلامی کیلنڈر کے مطابق 3 شعبان 1447 ہجری کا مبارک دن۔ آج سے ٹھیک 1443 سال پہلے مدینہ منورہ کی گلیوں میں وہ خوشخبری گونجی تھی جس نے فرش و عرش کو ایک کر دیا تھا۔ نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول، حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت کا دن۔
(تاریخ الطبری؛ ابنِ سعد، الطبقات الکبریٰ)

میں نے جب سے IBC پر لکھنا شروع کیا ہے، میں نے خود پر لازم کر لیا ہے کہ جب بھی موقع ملے، اپنے محبوب لیڈر حضرت امام حسینؑ کا تذکرہ ضرور کروں۔ آج سوچا قلم سے نہیں، انگلیوں کی ٹائپنگ سے ذکرِ حسینؑ کیا جائے، شاید انہیں انگلیوں کے گناہ دھل جائیں۔ ذکرِ حسینؑ کا اپنا ہی ایک مزہ ہے؛ جیسے ہی آپ اس فلسفے کے سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں، اطمینان، عاجزی اور سکون آپ کو گھیر لیتا ہے۔

ہم نے نادانی میں امام حسینؑ کو فقط کربلا یا یومِ عاشورا تک محدود کر دیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ وقت کے سب سے بڑے سیاسی اور مذہبی مدبر تھے۔ قیادت کے وہ اصول حسینؑ نے سکھائے جو رہتی دنیا تک مثال رہیں گے۔ حسینؑ کل بھی تھے، حسینؑ آج بھی ہیں اور حسینؑ ہمیشہ رہیں گے۔
(شہید مطہری، حماسۂ حسینی؛ ابو مخنف، مقتل الحسین)

روایات میں آتا ہے کہ جب امام حسینؑ اس دنیا میں تشریف لائے تو فرشتے جوق در جوق نبی کریم ﷺ کو مبارکباد دینے آئے۔ حضور ﷺ نے آپؑ کو اپنی گود میں لیا، کان میں اذان دی اور وہ جملہ ارشاد فرمایا جو روح کو ہلا دیتا ہے:
“حسینٌ منی و انا من الحسین”
(سنن ترمذی؛ مسند احمد)

امام حسینؑ کی زندگی سخاوت کا وہ ہمالیہ ہے جہاں سائل کی عزتِ نفس سب سے پہلے رکھی جاتی ہے۔ ایک سائل نے خط لکھ کر حاجت بیان کی تو امامؑ نے خط پورا پڑھے بغیر ہی عطا کر دیا اور فرمایا کہ میں اس کی شرمندگی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
(ابنِ شہرآشوب، مناقب؛ بحار الانوار)

آپؑ کا اخلاق ایسا تھا کہ دشمن بھی دوست بن جاتا۔ ایک شامی شخص نے آپؑ کو برا بھلا کہا تو آپؑ نے غصے کے بجائے اس کے لیے گھر، کھانے اور مدد کی پیشکش کی۔ وہ شخص رو پڑا اور آپؑ کا عاشق بن گیا۔
(الارشاد، شیخ مفید)

آپؑ نے غلاموں کو قرآن کی آیات “والکاظمین الغیظ” اور “والعافین عن الناس” پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف معاف کیا بلکہ آزاد بھی کر دیا۔
(بحار الانوار)

امام حسینؑ کے گھرانے کا ذکر کیے بغیر تذکرۂ حسینؑ مکمل نہیں ہوتا۔ آپؑ کے بھائیوں میں امام حسنؑ اور حضرت عباسؑ جیسے باوفا علمدار شامل تھے، بہنوں میں بی بی زینبؑ اور امِ کلثومؑ جیسی صبر و استقامت کی مثالیں تھیں۔ آپؑ کے بیٹے علی اکبرؑ، علی اصغرؑ اور امام زین العابدینؑ تھے، جبکہ بیٹیوں میں سیدہ سکینہؑ اور سیدہ فاطمہؑ شامل ہیں۔ کربلا میں حسینؑ نے اپنا پورا گھرانہ حق پر قربان کر دیا۔
(الارشاد؛ لہوف)

مجھے یاد ہے، جمعرات کا دن تھا۔ میں حسبِ معمول نیم شب اٹھا اور روضۂ امام حسینؑ میں تہجد ادا کرنے چلا گیا۔ نماز کے بعد واپسی پر چائے اور ناشتے کی تلاش تھی۔ ایک ضعیف اماں چائے اور خبز کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ قیمت بتائی، جیب میں پیسے پورے نہ تھے۔ اماں نے کچھ کہے بغیر دے دیا۔ شام ہوئی تو روضے کے اطراف صدقہ بارش کی طرح برس رہا تھا۔ میں نے ایسی سخاوت کم دیکھی ہے۔ یہ اصل میں حسینؑ کی سنت ہے۔

آپ امام حسینؑ سے منسوب جس در، درگاہ یا مسجد میں جائیں گے، خیر، صدقہ اور محبت ضرور پائیں گے۔ حسینؑ کو بطور لیڈر، سیاستدان، سفارت کار، باپ اور بھائی پڑھیں۔ امام حسنؑ کا حلم، عباسؑ کی وفا اور زینبؑ کا صبر—یہ سب حسینؑ ہی کا تسلسل ہیں۔

آج اس مبارک دن پر میں یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمیں حسینؑ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔
السلام علیک یا رسول اللہ
السلام علیک یا حسینؑ

اور ہمیں حسین (ع) کو اصل میں سمجھنے کی توفیق عطا کر دے۔ ان کے کردار کو پڑھنے، ان کے صبر سے سیکھنے اور ان کی غیرت و حوصلے سے لڑنے کا ہنر آج کل کے فتنوں کے دور میں بہت ضروری ہے۔ یہ نہ ہو کہ فقط ایک رخ سے حسین ابنِ علی (ع) کو پڑھا جائے، وہ تو وہ سورج ہیں جس طرف اور جس رخ سے بھی دیکھیں گے، روشنی اور رہنمائی ہی ملے گی۔”فرامینِ امام حسین علیہ السلام (باعہ حوالہ)

عزتِ نفس اور غیرت:

"ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔” (حوالہ: بحار الانوار، جلد 44، صفحہ 192)

سخاوت اور سیادت:

"سخاوت کرنے والا سردار بنتا ہے اور بخل کرنے والا ذلیل ہوتا ہے۔” (حوالہ: کشف الغمہ، جلد 2، صفحہ 242)

حاجت مندوں کی خدمت:

"لوگوں کی حاجتوں کا تمہارے پاس آنا تم پر اللہ کی نعمت ہے، لہٰذا ان نعمتوں (حاجت مندوں) سے بیزار نہ ہو جانا۔” (حوالہ: بحار الانوار، جلد 71، صفحہ 318)

بہترین معافی:

"سب سے زیادہ معاف کرنے والا وہ شخص ہے جو بدلہ لینے کی قدرت (طاقت) رکھنے کے باوجود معاف کر دے۔” (حوالہ: موسوعہ کلمات الامام الحسین، صفحہ 628)

نفس کی قیمت:

"خبردار! تمہارے نفسوں کی قیمت ‘جنت’ کے سوا کچھ نہیں، لہٰذا اپنی جانوں کو جنت کے علاوہ کسی اور قیمت پر مت بیچنا۔” (حوالہ: فرہنگِ سخنانِ امام حسین، صفحہ 44)

دین اور آزمائش:

"لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین ان کی زبانوں پر محض چٹخارے کی حد تک ہے، جب تک ان کی زندگی آسائش میں ہے وہ دین کے گرد گھومتے ہیں، لیکن جب آزمائش آتی ہے تو دین دار بہت کم رہ جاتے ہیں۔” (حوالہ: تحف العقول، صفحہ 245)وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین (اور ہماری آخری پکار یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں).

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے