ماضی کی جستجو اور مستقبل کی فکر نے انسان کو ہمیشہ بے چین رکھا ہے، اور انسان کے لیے یہ جاننا ناگزیر بھی ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور اسے کہاں جانا ہے۔ کیونکہ اگر اسے یہ شعور ہی نہ ہو کہ اس کی ابتدا کہاں ہوئی اور اس کا انجام کیا ہے، تو ظاہر ہے کہ وہ اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔ اور اگر ایسی حالت میں بھی وہ خود کو روشن خیال سمجھے، تو ایسے انسان سے بڑا احمق اور کون ہو سکتا ہے؟
اس نوعیت کے بے شمار سوالات قدیم زمانے سے انسان کے لیے موضوعِ بحث رہے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس کائنات کا نقطۂ آغاز کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا؟ کائنات میں جو چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں، ظاہری مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ وہ انسان کے فائدے کے لیے ہیں، تو پھر انسان کا مقصدِ وجود کیا ہے؟ کیا زندگی کی موجودہ کشمکش سے نجات کی کوئی صورت ممکن ہے؟ اور کیا بقائے دوام کا وہ فطری مطالبہ، جو انسان کے اندر پایا جاتا ہے، محض وہم نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں پورا ہو سکتا ہے؟
اسی طرح انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ جیسا بننا چاہے ویسا بن سکے، اور جو کچھ جاننا چاہے اسے جان سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا انسان کی فطرت کا یہ مطالبہ واقعی اپنے مقصد کو پا سکتا ہے؟ درحقیقت یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جواب کا نام مذہب ہے۔ یہی وہ پیاس ہے جس کا پانی دین ہے، یہی وہ بھوک ہے جس کی غذا پیغمبروں کا پیغام ہے۔ اور مذہب کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ انسان کو ان بنیادی سوالات کے واضح اور بامعنی جوابات فراہم کیے جائیں۔
یہ سوالات اس قدر اہم ہیں کہ قدیم زمانے سے انسان ان کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ ان کے حل کے لیے دنیا میں فلسفیوں کے مختلف مکاتبِ فکر وجود میں آئے، مگر وہ حتمی جواب دینے میں ناکام رہے۔ خود بہت سے فلسفیوں نے اعتراف کیا کہ یہ بنیادی سوالات محض فلسفے کے ذریعے حل نہیں ہو سکتے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مذہب کے بغیر انسان ان سوالات کے جوابات حاصل نہیں کر سکتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مذہب انسانی زندگی کی اتنی ناگزیر ضرورت ہے، تو اسے سنجیدگی کی بجائے غیر سنجیدہ کیوں لیا جا رہا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی سنجیدہ شے کو غیر سنجیدہ ثابت کیا جاتا ہے، تو سب سے پہلے اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ اس کے حوالے سے ایسے جملے مشہور کیے جاتے ہیں جو اس کے استحصال یا کمزوری کو نمایاں کریں۔ بعض اوقات اس چیز کی جزئیات کو متنازع بنایا جاتا ہے، اور اسے اپنے اصل سیاق و سباق سے الگ کر کے اس کی خوبیوں کو خامیوں کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے، تاکہ عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہو کہ یہ کوئی اہم شے نہیں ہے۔ نتیجتاً رفتہ رفتہ لوگ خود بھی اسے غیر سنجیدہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔
یہی طریقۂ واردات مذہب کے حوالے سے بھی استعمال کیا گیا۔ اسے غیر سنجیدہ بنانے کے لیے اس کا مذاق اُڑایا گیا، اس کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں پیدا کی گئیں، اور اس کے خلاف باقاعدہ تحریکیں اور بیانیے تیار کیے گئے۔ اس کے تعلیمات کو غیر معقول ثابت کرنے کے لیے علمی چالاکی اور خیانت کا سہارا لیا گیا، اور اس کے بعض جزئیات کو اس کے بنیادی سیاق و سباق سے کاٹ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
الغرض، جو بھی ممکنہ طریقہ کار کسی چیز کو غیر سنجیدہ ثابت کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا تھا، وہ مذہب کے غیر سنجیدہ بنانے کے لیے اپنایا گیا۔
مگر افسوس اس بات کا ہے کہ مذہب کے علماء میں چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر حضرات نے، اپنے رویوں، علمی ناپختگی اور گروہی تعصب کی وجہ سے، مذہب کے مخالفین کی تنقید کو تقویت پہنچائی۔
مذہب کے خلاف اس مہم سے ہمارا عصری تعلیم یافتہ طبقہ خصوصی طور پر متاثر ہوا، اور نتیجتاً انہوں نے بھی مذہب کو محض زندگی کا ایک غیر ضروری ضمیمہ سمجھنا شروع کر دیا۔ اس کا اندازہ سوشل میڈیا پر ہمارے عصری تعلیم یافتہ طبقے کے مذہب کے بارے میں ردعمل سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
مسلمانوں کے اس گروہ سے گزارش ہے کہ اندھی تقلید میں کسی سے متاثر نہ ہوں، بلکہ خود دین کا مطالعہ کریں اور اپنے ضمیر و فطرت سے یہ سوال کریں کہ مذہب بیزاری کے نتائج میرے اپنی زندگی پر اور آنے والی نسلوں پر کیا اثرات مرتب کریں گے؟