کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کا تعلیمی نظام ہوتا ہے، اور اس نظام کی روح استاد ہوتا ہے۔ استاد نہ صرف کتاب پڑھاتا ہے بلکہ کردار بناتا ہے، سوچ کو جلا بخشتا ہے اور قوم کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ جس استاد کو ہم زبان سے قوم کا معمار کہتے ہیں، عملی طور پر اسی کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔
درحقیقت معاشرے کی ترقی میں سب سے بڑا اور بنیادی کردار استاد کا ہوتا ہے کیونکہ وہی مستقبل کے معماروں کی تربیت کرتا ہے۔ انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کا سلیقہ، ہنر اور حوصلہ بھی عطا کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ جب یہی استاد اپنے جائز حق کے لیے آواز بلند کرتا ہے تو ہمارے معاشرے میں اس کے ساتھ اکثر ناانصافی اور براسلوک روا رکھا جاتا ہے۔
ہمارا معاشرہ استاد سے ہر طرح کا کام لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ کبھی انتخابی ڈیوٹی، کبھی مردم شماری، کبھی انتظامی امور گویا استاد ایک ایسا کارکن ہے جسے جب، جہاں اور جس کام پر چاہیں لگا دیا جائے۔ لیکن جب یہی استاد اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے یا پرامن احتجاج کرتا ہے، تو اس کے ساتھ ایسا رویّہ اختیار کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔
یہ وہی استاد ہے جو کم وسائل اور شدید دباؤ کے باوجود بچوں میں علم کی روشنی بانٹتا ہے۔ وہ نئی نسل کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے، انہیں ذمہ دار شہری بننے کی تربیت دیتا ہے، اور معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے۔ مگر جب وہ اپنے جائز حق کی بات کرتا ہے تو اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے اس نے ملک کے خزانے کو لوٹ لیا ہو یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہو۔
سوال یہ ہے کہ جو استاد بچوں کو حق بولنا سکھاتا ہے، انہیں اپنے حقوق اور فرائض کی پہچان دیتا ہے، وہ خود جب حق مانگتا ہے تو اسے کیوں خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ کیا یہ تضاد ہمارے اجتماعی رویّے کی واضح تصویر نہیں؟ ہم استاد سے تو ایک مثالی شہری تیار کرنے کی توقع رکھتے ہیں، مگر خود استاد کو وہ مقام دینے سے قاصر ہیں جس کا وہ حق دار ہے۔
یہ رویّہ صرف استاد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کے ساتھ ظلم ہے۔ کیونکہ جو معاشرہ اپنے معلم کی قدر نہیں کرتا، وہ دراصل علم، شعور اور اخلاق کی قدر بھی نہیں کرتا۔ استاد کی آواز دبانا دراصل آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کو خاموش کرنا ہے۔
حالیہ بلوچستان میں ٹیچرز کے احتجاج نے ایک تلخ سچائی کو بے نقاب کر دیا ہے: جس طرح ان کے ساتھ پیش آیا گیا، وہ اکثر مجرموں کے ساتھ بھی نہیں ہوتا۔ احتجاج کرنے والےاساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس نہیں مل رہا، جس سے تنخواہوں میں عدم مساوات اور امتیازی سلوک بڑھ رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اس الاؤنس کو نافذ کرے تاکہ مہنگائی اور کم تنخواہوں کے درمیان فرق کم ہو۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پنجاب اور سندھ جیسا 30% اضافی الاؤنس انہیں بھی ملے کیونکہ مہنگائی بہت زیادہ ہے۔
احتجاج میں ان لوگوں نے اجتماعی طور پر اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے لیڈروں کو حراست میں لے لیا، جس سے صورتحال خراب ہو گئی۔اساتذہ کے ساتھ پولیس کا سلوک انتہائی شرمناک تھا، خاص طور پر ایک پروفیسر کو سڑک پر کھینچ کر گرفتار کرنا ناقابل قبول عمل تھا۔
یہ رویہ غیر اخلاقی اور اساتذہ کی عزت کے خلاف تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
استاد، جو قوم کی فکری تعمیر میں سب سے بنیادی کردار ادا کرتا ہے، جب اپنے جائز حق کے لیے آواز بلند کرتا ہے، تو اسے اس قدر حقیر، ذلیل اور مجرموں جیسا سلوک برداشت کرنا پڑتا ہے کہ ہر مہذب شہری کو شرم آنی چاہیے۔ المیہ یہ ہے کہ ماضی میں ان کے مطالبات کو مان لیا گیااور یقین دلایا گیا کہ عملی طورپر کام کیا جاۓ گاطویل عرصہ گزر جانے کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا۔ جب اساتذہ نے پرامن احتجاج کیا جو ان کا حق بھی تھا ، تو جس رویّے کا سامنا انھیں کرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔ وہ معاشرتی انصاف کے ہر اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ عمل نہ صرف استاد کی توہین ہے بلکہ پوری قوم کے ضمیر پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ ہم اپنے تعلیمی نظام کے ستون کو اس قدر نظر انداز کرتے ہیں، جبکہ وہ دن رات قوم کی نوجوان نسل کو علم، شعور اور اخلاق سکھانے میں مصروف رہتے ہیں۔
کیا یہ مہذب معاشرے کی پہچان ہے؟؟ کہ جس فرد کو ہم قوم کا معمار کہتے ہیں، وہ اپنے حق کے لیے کھڑا ہو جاۓ تو اسے مجرم سمجھا جائے ۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اپنے معلم کی قدر اور اس کی اہمیت کو آج تک نہیں پہچانا؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم استاد کو صرف تقریروں اور نصابی کتابوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی وہ عزت دیں جس کا وہ مستحق ہے۔ اس کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے، اس کے حقوق کو تسلیم کیا جائے، اور اسے وہ مقام دیا جائے جو کسی بھی مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔
کیونکہ استاد محض ایک فرد نہیں، ایک قوم ساز ادارہ ہے
اور قوم سازوں کی تذلیل نہیں، تعظیم ہونی چاہیے۔
تم کیا جانو استاد کا مقام کیا ہے؟
تم بس لفظوں کی دنیا میں رہتے ہو
جو اندھیروں سے لڑ کر علم کی روشنی بکھیرتا ہے،
خاموش محنت سے روحوں کو جگاتا ہے،
اور انسانیت کی راہوں پر روشنی کا چراغ جلاتا ہے۔