ہم مجموعی طور پر منافق لوگ ہیں.یہ ہمارا مجموعی رویہ ہے کہ ہم نیچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے دلی نفرت کرتے ہیں. اس میں بھی دو رائے نہیں کہ ان میں بعض عادتیں ایسی رزیل ہوتی ہیں کہ الامان الحفیظ، لیکن اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سماجی و معاشرتی طور پر انہیں نیچ خیال کیا جائے. ایسی بہت ساری ذاتیں اور قبائل گلگت بلتستان میں موجود ہیں.
ہمارے ہاں گلگت بلتستان میں گجر برادری بڑی تعداد میں موجود ہے. گجر برادری کے لوگ مجموعی طور پر غریب اور پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں. گجر برادری کے لوگ نڈر ہوتے ہیں اور دوسرے قبائل اور برادریوں کی طرح اپنی ذات اور قوم چھپاتے نہیں بلکہ ببانگ دہل "ہم گجر ہیں” کہہ کر تعارف کرواتے ہیں. اب ہمارا مجموعی رویہ ان کیساتھ رذیلانہ اور منافقانہ ہوتا ہے.
ہم گلگت بلتستان کے گجروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، سماجی اور معاشرتی طور پر انہیں نیچ سمجھتے ہیں اور یہ جملہ کئی خود ساختہ سوشل اور پڑھے لکھے ٹائپ لوگوں سے سنا ہے” پھت تھے لا، نوو گجریئی جوک حیثیت ہن” یعنی چھوڑ یار اس گجر کی کیا اوقات ہے. تاہم اگر کوئی گجر پنجاب یا کے پی کے سے آتا تو ہمارے یہ بڑے بڑے خاندانی اور نام نہاد قبائل کے لوگ ان کے آگے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں لیکن صدیوں سے گلگت بلتستان میں رہنے والے گجر قبائل سے ہمارے یہی لوگ ہر جگہ نفرت کررہے ہوتے ہیں.
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے میرے کئی گجر دوست ہیں، میں حلفیہ کہتا ہوں کہ یہاں کے بڑے قبائل کے لوگوں سے ان گجروں کی ہر ادا اور ان کی دوستی اچھی ہے. اگر ان سے دوستی ہوجائے تو یہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے، اب ڈاکٹر افضل سراج، ڈاکٹر عزیزالرحمان اور مولانا حیات جیسے گجر یہاں کے لوکل خود ساختہ بڑے قبائل کے احباب سے ہزاروں درجہ بہتر لوگ ہیں. اگر پنجاب اور کے پی کے کے گجر اچھے ہیں تو ہمارے لوکل گجر اور زیادہ اچھے ہیں اور یہ مزید محبت و احترام کے قابل لوگ ہیں. اسلامی تعلیمات بھی انہیں عزت و احترام دینے کا حکم دیتی ہیں لہذا ہمیں منافقانہ رویہ ترک کرکے حقیقت پسند بننا چاہیے.