قمر عباس ندیم: ایک خاموش زندگی، ایک گہرا ادب

اردو افسانے کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو بہت زیادہ مشہور نہیں ہوتے، مگر ان کی تخلیقات سنجیدہ قاری کے ذہن پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔ قمر عباس ندیم بھی انہیں ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک طرف عملی زندگی میں ایک ڈاکٹر تھے اور دوسری طرف ادب میں ایک حساس اور فکر مند افسانہ نگار۔ ان کی تحریروں میں زندگی کے تلخ تجربات، انسان کی داخلی ٹوٹ پھوٹ اور جدید معاشرے کی بے حسی واضح طور پر جھلکتی ہے۔ قمر عباس ندیم کا ادب کسی نعروں یا دعوؤں پر قائم نہیں، بلکہ خاموش مشاہدے اور اندرونی اضطراب سے جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے پڑھتے ہوئے قاری کو شور نہیں، بلکہ ایک گہری سنجیدگی اور اداسی کا احساس ہوتا ہے۔

قمر عباس ندیم 1944ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے بچپن اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ وہ شروع سے ہی سنجیدہ مزاج اور غور و فکر کرنے والے انسان تھے۔ انہوں نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر بنے۔ طب جیسے مشکل اور ذمہ دارانہ شعبے کا انتخاب خود اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ انسانی دکھ درد سے لاتعلق نہیں تھے۔ ڈاکٹری کے پیشے نے انہیں زندگی کے ان پہلوؤں سے روشناس کرایا جہاں انسان کمزور، بے بس اور تنہا نظر آتا ہے۔ مریضوں کے مسائل، ذہنی دباؤ، خوف اور مایوسی نے ان کی شخصیت اور تخلیقی شعور پر گہرا اثر ڈالا، جو بعد میں ان کے افسانوں میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔

قمر عباس ندیم نے کراچی میں ایک نجی کلینک قائم کیا اور بطور ڈاکٹر اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ کراچی جیسے بڑے اور متنوع شہر میں رہتے ہوئے انہوں نے مختلف طبقوں، مزاجوں اور ذہنی کیفیتوں کے انسانوں کو قریب سے دیکھا۔ یہی مشاہدہ ان کے ادب کی اصل بنیاد بنا۔ ان کی زندگی دو حصوں میں بٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے: ایک طرف سفید کوٹ پہنے ایک ذمہ دار ڈاکٹر، اور دوسری طرف کاغذ پر انسان کے اندھیرے پہلوؤں کو لفظوں میں ڈھالنے والا ایک حساس افسانہ نگار۔ یہ تضاد ان کی تحریروں میں بھی جھلکتا ہے۔

قمر عباس ندیم کا ادبی سفر باقاعدہ طور پر 1972-73ء میں شروع ہوا، جب ان کے افسانے کراچی کے معروف ادبی رسالے افکار میں شائع ہونے لگے۔ یہ وہ دور تھا جب اردو افسانہ نئے فکری اور اسلوبی تجربات سے گزر رہا تھا۔ جدید انسان کی تنہائی، شناخت کا بحران اور سماجی اقدار کی شکست و ریخت افسانے کے اہم موضوعات بن رہے تھے۔ قمر عباس ندیم نے اسی فضا میں اپنی الگ آواز قائم کی۔ ان کے افسانے نہ تو مکمل طور پر علامتی تھے اور نہ ہی سیدھی سادی حقیقت نگاری پر مبنی۔ وہ ایک درمیانی راہ اختیار کرتے ہیں، جہاں کہانی بھی موجود ہوتی ہے اور معنی کی تہہ داری بھی۔

1975 میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ شیشے کی آبرو شائع ہوا۔ یہ مجموعہ ان کی تخلیقی صلاحیت کا پہلا باضابطہ تعارف تھا۔ اس کتاب کے افسانوں میں انسانی رشتوں کی نزاکت، خودداری، شکستہ انا اور سماجی دوغلا پن نمایاں موضوعات ہیں۔ شیشے کی آبرو میں موجود کردار عام انسان ہیں، مگر ان کی داخلی کشمکش غیر معمولی ہے۔ قمر عباس ندیم ان کرداروں کو کسی بڑے واقعے کا ہیرو نہیں بناتے بلکہ روزمرہ کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں میں ان کی ٹوٹ پھوٹ دکھاتے ہیں۔ یہی اس مجموعے کی اصل قوت ہے۔

قمر عباس ندیم کا دوسرا افسانوی مجموعہ دروازے ہوا کے 1982ء میں شائع ہوا، یعنی ان کی وفات کے بعد. اس مجموعے میں ان کا فکری اور فنی ارتقا زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ یہاں علامت اور نفسیاتی گہرائی پہلے سے زیادہ پختہ ہے۔ اس مجموعے کے افسانوں میں آزادی اور قید، فیصلہ اور بے بسی، اور امید اور مایوسی کے درمیان کشمکش نمایاں ہے۔ دروازے ہوا کے دراصل اس انسان کی کہانی ہے جو باہر کی دنیا میں تو زندہ ہے، مگر اندر سے مسلسل گھٹن کا شکار ہے۔

قمر عباس ندیم کا اسلوب سادہ، خاموش اور اثر انگیز ہے۔ وہ زبان کے کرشموں یا غیر ضروری خوب صورتی کے قائل نہیں۔ ان کی زبان میں سادگی، معنوی گہرائی، نفسیاتی سچائی اور غیر محسوس علامت واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ قاری کو چونکانے کے بجائے آہستہ آہستہ اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے افسانے ختم ہو جانے کے بعد بھی ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں۔

قمر عباس ندیم کے افسانوں کے اہم موضوعات میں جدید انسان کی تنہائی، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی اضطراب، سماجی منافقت، شناخت کا بحران اور خاموش بغاوت شامل ہیں۔ وہ کسی نظریے کے پرچارک نہیں، بلکہ انسانی کیفیت کے مشاہد ہیں۔ ان کا ادب سوال اٹھاتا ہے، جواب نہیں تھوپتا۔

قمر عباس ندیم کا انتقال 29 مئی 1981ء کو ہوا۔ عام طور پر ان کی موت کو ایک سڑک حادثہ قرار دیا جاتا ہے، جس میں ان کی کار بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گئی۔ بعد ازاں ایک قریبی دوست نے یہ بیان دیا کہ وہ خودکشی کے رجحان رکھتے تھے اور حادثے سے قبل انہوں نے ٹرانکولائزر لی تھی۔ اس بیان کے باوجود، ادبی حلقوں میں آج بھی زیادہ تر یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ان کی موت ایک حادثہ تھی۔ یہ واقعہ آج بھی ایک اداس اور مبہم باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

قمر عباس ندیم اردو افسانے کے ان سنجیدہ تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے کم لکھا مگر دیانت داری سے لکھا۔ وہ کسی گروہ، تحریک یا ادبی سیاست کا حصہ نہیں بنے۔ ان کی پہچان صرف ان کا ادب ہے۔ ان کا کام آج بھی ان قارئین کے لیے اہم ہے جو انسانی نفسیات، داخلی کرب اور خاموش دکھ کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ ان کا ادب یہ ثابت کرتا ہے کہ بڑے ادیب بننے کے لیے زیادہ لکھنا نہیں، بلکہ سچ لکھنا ضروری ہوتا ہے۔

قمر عباس ندیم کی زندگی مختصر، مگر فکری طور پر بھرپور تھی۔ وہ ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے زندگی کے شور میں خاموشی کی آواز سنی اور اسے افسانے کا روپ دیا۔ ان کا ادب آج بھی زندہ ہے، کیونکہ وہ انسان کے اس حصے سے بات کرتا ہے جو ہر دور میں موجود رہتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے