مری میں برفباری اور بارشوں سے سیاح اور مقامی لوگ متاثر

مری پاکستان کا ایک خوبصورت اور مشہور سیاحتی مقام ہے جو ہر سال سردیوں میں برفباری کی وجہ سے لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ برف سے ڈھکے پہاڑ، درختوں پر جمی سفید چادر اور ٹھنڈی ہوا مری کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں شدید برفباری اور مسلسل بارشوں نے جہاں مری کے حسن میں اضافہ کیا ہے، وہیں سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے کئی مشکلات بھی پیدا کی ہیں۔

شدید برفباری کے دوران مری کی سڑکیں پھسلن کا شکار ہو جاتی ہیں جس کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ کئی بار مرکزی شاہراہیں بند ہو جاتی ہیں اور گاڑیاں برف میں پھنس جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں سیاح، جو برفباری سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں، گھنٹوں اپنی گاڑیوں میں محصور رہتے ہیں۔ بعض اوقات کھانے پینے کی اشیاء اور ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو جاتی ہے جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جس سے نہ صرف سڑکیں بلکہ رہائشی مکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مری کے پہاڑی علاقے میں کئی مقامات پر مٹی اور پتھر کھسکنے کے واقعات سامنے آتے ہیں، جو جانی اور مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ مقامی لوگ جو روزمرہ زندگی کے لیے انہی سڑکوں پر انحصار کرتے ہیں، شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ بچوں کا اسکول جانا، مریضوں کا اسپتال پہنچنا اور روزگار کے مواقع سب متاثر ہو جاتے ہیں۔

سیاحتی شعبہ مری کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہوٹل مالکان، دکاندار، ٹیکسی ڈرائیور اور دیگر افراد سیاحوں سے وابستہ روزگار پر انحصار کرتے ہیں۔ شدید موسم کے باعث اگر سیاح مری پہنچنے سے قاصر رہیں یا مشکلات کا شکار ہوں تو مقامی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ بعض اوقات ہوٹلوں میں بجلی اور گیس کی فراہمی متاثر ہونے سے سیاحوں کو شدید سردی میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب، انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کی کمی بھی مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔ اگر بروقت سڑکوں سے برف ہٹانے، ٹریفک کنٹرول اور سیاحوں کی رہنمائی کا مؤثر انتظام کیا جائے تو کئی حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ عوامی آگاہی بھی نہایت ضروری ہے تاکہ سیاح موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کریں اور غیر ضروری خطرات مول نہ لیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مری میں برفباری اور بارشیں جہاں قدرتی حسن کا باعث ہیں، وہیں یہ سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے امتحان بھی بن جاتی ہیں۔ حکومت، انتظامیہ اور عوام کے باہمی تعاون سے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بہتر منصوبہ بندی، جدید سہولیات اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنایا جائے تو مری کی خوبصورتی سے محفوظ اور خوشگوار انداز میں لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے