امریکی ڈائریز: کالم نمبر 3

دیارِ غیر میں پاکستان کے اصل سفیر

ڈیلس میں اترنے کے بعد کیا کچھ ہوا، اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ ذرا قارئین کو بتاتا چلوں کہ امریکہ کو ریاستہائے متحدہ (United States) اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ بہت ساری ریاستوں کا مجموعہ ہے۔ تقریباً 50 ریاستیں مل کر ایک بڑا امریکہ بناتے ہیں۔ امریکہ کی بنیاد بھی 1776 میں برطانیہ سے آزادی ملنے کے بعد ان 13 بستیوں نے ہی رکھی تھی جو اب 50 ریاستوں پر مشتمل ہیں۔ ان 50 ریاستوں میں سے 48 تو ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، البتہ دو ریاستیں، الاسکا جو برفانی علاقہ ہے اور ہوائی کے ریاست، الگ تھلگ جزائر پر مشتمل ہیں۔ امریکہ کی سب سے بڑی ریاست الاسکا اور سب سے چھوٹی ریاست روڈ آئی لینڈ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستانی تقریباً 6 سے 7 لاکھ ہیں امریکہ میں، جو ہر شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد ٹیکساس، ہیوسٹن اور نیویارک کی ریاستوں میں موجود ہے۔

ہمارا پہلا پڑاؤ بھی مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب کے ذاتی دوستوں کے گھر میں ہی ہوا جو ڈیلس میں ایک پوش علاقے میں موجود تھا اور وہ صاحب انرجی ڈرنکس کا کاروبار کرتے تھے۔ شاید اسی علاقے میں مقیم تھے جہاں پر جارج بش صاحب رہتے تھے۔ انہوں نے بہت مہمان نوازی کی اور ہر طرح کے کھانوں سے تواضع کی۔ میں انٹرنیشنل ریلیشنز (IR) میں سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) کے دفاعی معاہدوں کا سبق ذہن میں گھماتے ہوئے پورے ماحول کا اندازہ لگا رہا تھا۔

کھانے اور چائے سے فراغت کے بعد مغرب کی نماز ادھر ہی میزبان صاحب کے گھر میں ادا کی اور دلچسپ ماحول تب پیدا ہوا جب ہم گھر میں ہی واقعی ایک چھوٹے سے اسنوکر یا بلیارڈ ٹیبل پر کھیلنے لگے۔ ڈپٹی اسپیکر صاحب کے ساتھ یہ پہلا دورہ تھا۔ وہ اور ایک پاکستانی امریکن ایک طرف ہوئے اور میں اور ان صاحب کے قریبی دوست وقار خان دوسری مخالف سائیڈ سے کھیلنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں بات آخری بال پاٹ (Pot) کرنے پر آ گئی اور باری میری تھی۔ اگر میں وہ بال پاٹ کر دیتا تو ڈپٹی اسپیکر صاحب اور ان کے دوست سے ہم میچ جیت جاتے۔ لیکن کبھی کبھی انسان کو ہار کر ہی دوسروں کو جیتا جا سکتا ہے، اور واقعتاً ہوا بھی ایسا کہ وہ بال پاٹ کرنا آسان تھا مگر اللہ کی منشا ایسی ہوئی کہ میں غلط کھیل گیا اور اللہ کا شکر مرتضیٰ صاحب اور ان کے دوست جیت گئے۔ وقار خان صاحب نے کافی مذاق بناتے ہوئے کہا کہ "شاہ صاحب! آپ سب کی وجہ سے ہارے ہو جان بوجھ کر،” مگر نہیں، میرے والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں لوگوں کو جیتنے کا ہنر ہارنے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

بہر حال، ان سارے معاملات سے فراغت کے بعد مرتضیٰ صاحب وقار خان صاحب کے گھر ٹھہرے اور مجھے ایک قریبی ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تاکہ اگلے دن اوورسیز کمیونٹی کی تقریب کے لیے انتظامات کیے جا سکیں۔ وقار خان صاحب چین سے مختلف قسم کا سامان امریکہ لا کر ایک بڑا اسٹور چلاتے ہیں اور ان کے بچے انتہائی دینی اور باادب ہیں۔ وقار خان، جو پاکستان میں اعظم سواتی صاحب کے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، انتہائی ہر دل عزیز پاکستانی ہیں اور ہمہ وقت دین، نماز اور مسجد کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ پاکستانیوں کے ساتھ اور پاکستان کے ساتھ ان کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔

ایک اور مردِ میدان جو پاکستانیوں کی جان ہیں اور ہر اہم موقع پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ستون کی بنیاد بنے رہتے ہیں، وہ ہیں نوشہرہ کے ندیم خان۔ انہوں نے ایک امریکن خاتون سے شادی کی۔ وہ ایک بہت ہی پیاری سی بیٹی کے والد ہیں۔ ان کی اہلیہ ایک حادثے میں خداوند کو پیاری ہو گئیں مگر وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ماں اور باپ دونوں بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ایک باہمت اور ایکٹو انسان ہیں، مختلف مواقع پر بین المذاہب اور بین الاقوامی ناشتوں میں، فنڈ ریزنگ میں اور سیاسی معاملات میں کھل کر بات کرتے اور اسٹیج پر رہتے ہیں۔

ایک اور شخصیت جو ڈیلس میں موجود ہے اور ایبٹ آباد کے ایک چھوٹے سے علاقے سے چل کر اب امریکہ کی تجارت میں اپنا مقام رکھتے ہیں، وہ ہیں اسلم خان، جو انتہائی امیر اور دل کے بادشاہ آدمی ہیں۔ بہت وسیع کاروبار ہے۔ بہت بڑے گھر میں رہتے ہیں، انتہائی شاہی زندگی گزارتے ہیں اور ہر طرح کی خدائی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ انہی کی بدولت ایبٹ آباد اور مری کے دور دراز علاقوں میں بیسک ہیلتھ یونٹ بنے ہیں جبکہ ان کا یہ خیراتی کام افریقہ کے جنگلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی باتوں میں زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ بیماری اور ایکسیڈنٹ کے بعد بھی دوبارہ چل اٹھنے کی ہمت کوئی ان سے سیکھے۔

ان پاکستانی امریکنز کا تذکرہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ یہ پاکستان کے اصل سفیر ہیں۔ ہم چند دنوں کے لیے امریکہ جاتے ہیں، مگر ان لوگوں نے اس دیارِ غیر کو اپنا گھر بنایا ہوا ہے۔ اس طرح کے پاکستانیوں کو دیکھ کر حب الوطنی کا جذبہ اٹھتا ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ ان تمام لوگوں کو ان کارِ خیر سے ذاتی کوئی مفاد نہیں، سب امریکن پاسپورٹ ہولڈر ہیں مگر دل ان کا پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔ اپنی پُرآسائش زندگی کو چھوڑ کر یہ بھاگ دوڑ اور پاکستانیوں کی خدمت صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ بہت زرخیز ہے ہمارے ملک کی مٹی۔

ساتھ ساتھ ڈیلس گھمائے رکھتے ہیں آپ کو۔ کبھی ایک بولیوارڈ سے لے کر جاتے ہیں تو کبھی دوسرے ہائی وے سے۔ وہاں کی زندگی کا بتاتے ہیں، وہاں کے کلچر سے آشنا کراتے ہیں اور خوب کھلاتے پلاتے ہیں۔ اور یقین جانیے یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے، یہ نہیں کہ آپ سیاسی مہمان ہیں یا ذاتی۔ اللہ ان پاکستانیوں کو مزید ترقی دے۔ اگلے کالم میں تذکرہ کریں گے "پاکستان امریکن بزنس کونسل” اور "پاکستان امریکن سوسائٹی آف نارتھ ٹیکساس” کے حوالے سے۔ 60 ہزار سے زائد یہ پاکستانی کیسے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں، یہ سب اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ گزرے لمحات، اگلی نشست میں ان شاء اللہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے