سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش ایک بار پھر پاکستان کو ایک نہایت حساس سیاسی اور اخلاقی موڑ پر لے آئی ہے۔ ان کے وکلا اور پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان ایک سنگین آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہیں، جس کے بارے میں ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور جدید طبی سہولیات کے حامل اسپتال میں علاج نہ کیا گیا تو بینائی کو مستقل نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔ اگرچہ جیل انتظامیہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ انہیں اڈیالہ جیل میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم آزادانہ طبی تصدیق، اہلِ خانہ تک محدود رسائی اور عدالتی سماعتوں میں تاخیر نے عوامی سطح پر بے چینی کو جنم دیا ہے۔ ایک ایسے سیاسی ماحول میں جہاں پہلے ہی شدید تقسیم موجود ہے، ایک طبی معاملہ بھی قومی مسئلہ بن چکا ہے۔
عمران خان کوئی عام قیدی نہیں ہیں۔ وہ پاکستان کے منتخب سابق وزیرِ اعظم، عالمی شہرت یافتہ کرکٹر اور ملک کی سب سے بڑی عوامی سیاسی جماعت کے قائد ہیں۔ ان کی جسمانی صحت محض ذاتی معاملہ نہیں بلکہ سیاسی، عوامی اور علامتی حیثیت رکھتی ہے۔ جب ان کی حالتِ صحت کے بارے میں مستند اور شفاف معلومات سامنے نہیں آتیں تو افواہیں جنم لیتی ہیں، خدشات بڑھتے ہیں اور ریاستی اداروں پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں کسی بھی قیدی کی صحت کو رعایت نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق تصور کیا جاتا ہے، چاہے اس سے سیاسی اختلاف کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو۔
ایسی صورتحال میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری محض انتظامی نہیں بلکہ آئینی اور اخلاقی بھی ہے۔ پاکستان کے آئین اور عالمی انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت ریاست اس بات کی مکمل ذمہ دار ہے کہ تحویل میں موجود ہر فرد کو مناسب اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ علاج کو سیاسی دباؤ، انتقام یا حکمتِ عملی کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ شفاف طبی رپورٹس، آزاد ڈاکٹروں تک رسائی اور اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقاتیں نہ صرف قیدی کے لیے ضروری ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ جب ادارے خاموشی اختیار کرتے ہیں تو اس خاموشی سے اعتماد کمزور اور بے یقینی مضبوط ہو جاتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس صورتحال کو بغور دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ غیر ملکی حکومتیں براہِ راست بیانات دینے سے گریز کرتی ہیں، تاہم عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر مسلسل نظر رکھتی ہیں کہ پاکستان اپنے ایک سابق وزیرِ اعظم کے ساتھ کیا طرزِ عمل اختیار کر رہا ہے۔ پہلے ہی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان عالمی تنقید کی زد میں رہا ہے، ایسے میں جیل میں قید ایک بڑے سیاسی رہنما کی صحت سے متعلق خدشات ملک کی عالمی ساکھ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ دنیا اکثر سرکاری بیانات سے زیادہ عملی شفافیت اور آزاد تصدیق کو اہمیت دیتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ اس حوالے سے کئی سبق اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ قید میں بھی ان کے ٹرائل اور جیل کے حالات پر سنگین سوالات اٹھتے رہے، جو بعد ازاں ملکی تاریخ کے سب سے متنازع ابواب میں شمار ہوئے۔ کئی دہائیوں بعد خود ریاستی سطح پر اس عمل کی خامیوں کا اعتراف کیا گیا۔ اسی طرح 2019 میں نواز شریف کی خرابیِ صحت ایک بڑا قومی مسئلہ بن گئی، جس کے بعد عدالتوں اور حکومت کو طبی بنیادوں پر انہیں جیل سے باہر علاج کی اجازت دینا پڑی۔ شدید سیاسی مخالفت کے باوجود اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ کسی قیدی کی جان کو سیاسی ضد کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی مثالوں پر نظر ڈالی جائے تو جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا کی طویل قید اور ان کی صحت سے متعلق خدشات نے انہیں دبانے کے بجائے ایک عالمی علامت بنا دیا۔ اسی طرح روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی قید اور بعد ازاں ان کی موت نے روس کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، چاہے سرکاری وضاحتیں کچھ بھی رہی ہوں۔ تاریخ بار بار یہ بتاتی ہے کہ جب سیاسی قیدیوں کی صحت کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج محض اندرونِ ملک نہیں بلکہ عالمی سطح پر ظاہر ہوتے ہیں۔
آج پاکستان ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معیشت دباؤ میں ہے، سیاسی تقسیم گہری ہو چکی ہے اور عوامی اعتماد کمزور نظر آتا ہے۔ ایسے حالات میں عمران خان کی صحت سے متعلق معاملے کو طاقت کے اظہار کے بجائے ریاستی بالغ نظری سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست اس مسئلے کو انسانی بنیادوں پر شفاف انداز میں حل کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے بلکہ اداروں پر اعتماد بھی بحال ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ کسی کو سیاسی فائدہ دینے یا نہ دینے کا نہیں بلکہ انسانی جان، آئینی ذمہ داری اور ریاستی وقار کا ہے۔
بالآخر یہ یاد رکھنا ہوگا کہ حکومتیں بدل جاتی ہیں، سیاسی حالات تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر ریاست کا طرزِ عمل ہمیشہ تاریخ میں محفوظ رہتا ہے۔ عمران خان کی صحت سے متعلق آج جو فیصلہ اور رویہ اختیار کیا جائے گا، وہ نہ صرف موجودہ سیاسی فضا کو متاثر کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے اس دور کی پہچان بھی بنے گا۔ کیونکہ اقتدار وقتی ہوتا ہے، مگر انصاف اور انسانیت کا ریکارڈ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔