غزہ : امن کی امید

غزہ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے ضمیر پر ایک سوال بن کر کھڑا ہے۔ مہینوں کی خونریز جنگ، شدید تباہی اور سفارتی دباؤ کے بعد اب جس چیز کو پیش رفت کے طور پر دکھایا جا رہا ہے، وہ غزہ میں ہونے والا جنگ بندی اور امن سے متعلق معاہدہ ہے۔ بظاہر یہ معاہدہ ہتھیاروں کی خاموشی کا اعلان ہے، مگر درحقیقت یہ ایک پیچیدہ سیاسی بندوبست ہے جس کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار آئندہ کے فیصلوں اور نیتوں پر ہے۔ غزہ کے حوالے سے ماضی میں طے پانے والے معاہدوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں امن اکثر عارضی ثابت ہوا ہے، مستقل نہیں۔

یہ معاہدہ کسی روایتی امن معاہدے کی صورت نہیں رکھتا۔ یہ نہ تو دو خودمختار ریاستوں کے درمیان طے پایا ہے اور نہ ہی برابری کی سطح پر۔ ایک فریق ریاستی طاقت رکھتا ہے جبکہ دوسرا ایک غیر ریاستی قوت ہے، اور یہی عدم توازن اس معاہدے کو ابتدا ہی سے کمزور بناتا ہے۔ جنگ بندی کے اعلانات، قیدیوں کے تبادلے اور فوجی کارروائیوں میں کمی جیسے اقدامات اگرچہ وقتی سکون فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ بنیادی سیاسی تنازع کو حل نہیں کرتے جو دہائیوں سے غزہ کے مسئلے کی جڑ بنا ہوا ہے۔

اس معاہدے کے پیچھے امریکہ، مصر اور قطر جیسے ممالک نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سفارتی حیثیت کی بحالی کے طور پر دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر اس کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مصر اور قطر کے لیے یہ معاہدہ علاقائی استحکام اور ثالثی کے کردار کو مضبوط کرنے کا موقع ہے۔ تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی ثالثی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک فریقین خود کسی پائیدار حل پر آمادہ نہ ہوں۔

غزہ کے معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنگ بندی کو اکثر امن کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ جنگ بندی صرف لڑائی کے تسلسل کو روکنے کا ایک عارضی ذریعہ ہوتی ہے۔ امن اس وقت جنم لیتا ہے جب تنازع کے بنیادی اسباب پر بات کی جائے۔ غزہ کی سیاسی حیثیت، مستقبل کا انتظامی ڈھانچہ، سلامتی کے خدشات اور فلسطینیوں کے سیاسی حقوق جیسے سوالات اب بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ موجودہ معاہدہ ان سوالات کے واضح جوابات فراہم نہیں کرتا، اسی لیے اس کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔

اسرائیل کی داخلی سیاست بھی اس معاہدے کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ اسرائیلی سیاسی منظرنامے میں ایسے عناصر موجود ہیں جو کسی بھی ایسے بندوبست کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو غزہ میں طویل المدتی سکون یا کسی سیاسی رعایت کی طرف لے جائے۔ اسی طرح فلسطینی سیاسی حلقوں میں بھی یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا یہ معاہدہ واقعی سیاسی حل کی طرف ایک قدم ہے یا محض دباؤ کم کرنے کی ایک حکمتِ عملی۔ اس دو طرفہ عدم اعتماد نے امن کی ہر کوشش کو نازک بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی برادری نے اس معاہدے کو امید کی کرن کے طور پر پیش کیا ہے، مگر زمینی حقائق اس امید کو پوری طرح تقویت نہیں دیتے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات، محدود دائرے میں نافذ ہونے والے فیصلے اور مستقبل کے مراحل پر اختلافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ عمل ابھی ابتدائی اور غیر مستحکم ہے۔ اگر اگلے مراحل میں کوئی واضح سیاسی روڈ میپ سامنے نہ آیا تو یہ معاہدہ بھی ماضی کی طرح ایک عارضی بندوبست ثابت ہو سکتا ہے۔

غزہ کا معاملہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی سیاسی نظام کی ساکھ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ آیا عالمی طاقتیں واقعی ایک منصفانہ اور دیرپا حل چاہتی ہیں یا صرف بحران کو قابو میں رکھنا ان کا مقصد ہے۔ اگر امن کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا گیا اور سیاسی انصاف کو نظرانداز کیا گیا تو نتائج دیرپا نہیں ہوں گے۔ غزہ میں امن اسی صورت ممکن ہے جب جنگ بندی کو ایک وسیع تر سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے۔
پاکستان سمیت کئی ممالک کا مؤقف یہی رہا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب اسے فلسطینی مسئلے کے جامع حل سے جوڑا جائے۔ محض فائر بندی، بغیر کسی سیاسی افق کے، مسئلے کو وقتی طور پر دبا تو سکتی ہے مگر ختم نہیں کر سکتی۔ اسی لیے یہ معاہدہ اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک فلسطینی خودمختاری، سیاسی حقوق اور مستقبل کے واضح خدوخال طے نہیں ہوتے۔

غزہ کا امن معاہدہ دراصل ایک امتحان ہے۔ یہ امتحان فریقین کی سنجیدگی، عالمی ثالثوں کی غیر جانبداری اور بین الاقوامی نظام کی اخلاقی ذمہ داری کا ہے۔ اگر اس معاہدے کو صرف وقتی سکون تک محدود رکھا گیا تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے ایک منصفانہ اور جامع سیاسی حل کی بنیاد بنایا گیا تو شاید یہ غزہ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو۔

فی الحال غزہ خاموش ہے، مگر یہ خاموشی سوالات سے بھری ہوئی ہے۔ آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ آیا یہ خاموشی امن کی علامت ہے یا ایک اور طوفان سے پہلے کا سکوت۔ غزہ کے عوام کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ کیا یہ معاہدہ انہیں مستقل امن کی طرف لے جائے گا یا ایک بار پھر انہیں امید اور مایوسی کے درمیان چھوڑ دے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے