ڈلاس میں دوسرے دن ندیم بھائی کے ساتھ ساتھ تقریباً پورا ڈلاس دیکھنا نصیب ہوا۔ ندیم بھائی کو ایک دو دفعہ نماز کے لیاے مسجد کا کہا تو ازراہِ مذاق پشتو میں کہنے لگے کہ "رحیم شاہ! آپ دن میں سات سات نمازیں پڑھتے ہو”۔
میرے لیے یہ بات باعثِ حیرت تھی اور اب بھی ہے کہ دنیا میں اگر مساجد کا انتظام میں نے صحیح معنوں میں حد درجے تک کمال کا دیکھا ہے تو وہ امریکہ ہے۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ پاکستان یا کسی اسلامی ملک میں ایک جگہ پر کرائے کی عمارت میں مسجد بنی ہوئی ہو اور مسلمان اس عمارت کا کرایہ نہ دے سکیں، تو کوئی اور مذہب والے آ کر اس عمارت کو مندر یا چرچ بنا لیں؟ ایسے ہنگامے کھڑے ہو جائیں گے کہ ختم ہونے کا نام نہ لیں۔
لیکن نہیں، امریکہ میں مجھے پتا چلا کہ بہت سے ایسے چرچ جو کرائے کی عمارتوں میں بنے ہوئے تھے اور عیسائی حضرات ان کے اخراجات ادا نہیں کر پا رہے تھے، وہ اب مسلمان بھائیوں کے چندوں کے پیسوں کی نذر ہو کر مساجد میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ نہ ہنگامہ، نہ شور، بس انسانی آزادی اور قانون کا ایسا نفاذ کہ انسان متاثر ہو جائے۔
ڈلاس میں موجود ایک بڑے اسلامک سینٹر کے علاوہ کئی اور چھوٹی مساجد میں نماز پڑھی اور ساتھ ساتھ ان سے سیکھنے کا بھی موقع ملا۔ جیسا کہ بات ہوئی تھی کہ ہمارے اوورسیز پاکستانی واقعتاً ہمارے سفیر ہیں، تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ ندیم خان، وقار خان، اسلم خان، شیخ حفیظ اور باقی چند چیدہ چیدہ پاکستانیوں نے ٹیکساس میں دو بہت اہم اداروں کی بنیاد رکھی یا ان کو چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک کا نام ہے Pakistani Society of North Texas اور دوسرے کا نام ہے Pakistan America Business Forum۔
ویسے تو ڈاکٹرز کا اپنا ‘اپنا’ (APPNA) اور مزید بہت سارے پاکستانیوں کے ادارے ہیں، مگر ان دو کا تذکرہ میں اس لیے کرنا چاہتا ہوں کہ ان کا کام میں نے خود دیکھا ہے۔ بسا اوقات ہسپتالوں اور دیگر مصائب کے وقت میں جتنا بڑھ چڑھ کر یہ اوورسیز پاکستانی اپنے ہم وطنوں کے لیے پیشِ خدمت رہتے ہیں، شاید پاکستانی اپنے وطن میں رہ کر وہ کام نہیں کر پاتے۔
یہ کم ہے کہ جنابِ ڈپٹی سپیکر کے لیے انہوں نے ڈلاس کے ایک پوش علاقے میں آپس کے چندے سے مل کر ہوٹل میں پورا جلسہ آرگنائز کیا ہوا تھا۔ پاکستانیوں کے علاوہ وہاں بہت سارے امریکنز بھی مدعو تھے۔ یہ People to People Contacts کا کیا بہترین اجتماع تھا۔ ہمیں اس طرح کی Track 1.5 Diplomatic Efforts کی اشد ضرورت ہے۔
اسی دن لاہور میں ایک ناخوشگوار دہشت گردی کا واقعہ بھی ہوا تھا۔ اوورسیز پاکستانیوں نے وہاں ایک کانگریس وومن ایڈی برنیس جانسن (1934–2023) کو یہ بات بتائی، جنہوں نے خصوصی طور پر شیخ حفیظ صاحب کے گھر آ کر ہمارے ڈپٹی سپیکر صاحب سے تعزیت کی، بلکہ اعلیٰ ترین سطح پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ ہوا۔ بہت سارے پاکستانیوں کی ڈپٹی سپیکر اور پاکستان سے وابستگی دیکھ کر نہ صرف دل خوش ہوا بلکہ حوصلہ بھی ملا کہ بہت زرخیز ہے یہ پاکستانی مٹی اور بہت چمکتے ہیرے جیسا ہے یہ وطن۔
اسلم خان صاحب بھی اپنے معتبرانہ انداز میں ملیئنیر بلین ائیر کے بحث و مباحثے کے ساتھ اور اپنے لائے ہوئے سپیشل کیمرہ مین کے ساتھ جلسے کی زینت بنے ہوئے تھے۔ کیا شاندار شخصیت کے مالک انسان! 1960 میں امریکن ایمبیسی اسلام آباد سے اپنا سفر شروع کیا اور آج کل امریکہ میں کئی Food Chains (بزنس) کے مالک ہیں۔ امریکہ میں باسکٹ بال کے کھلاڑیوں کی کمائی بہت سارے امیروں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور اسلم خان صاحب کا گھر باسکٹ بال کے اس وقت کے کپتان کے بالکل سامنے والے علاقے میں تھا۔
اللہ ان کو زندگی دے، میرا بہت لحاظ کیا اور محبت بھی، اور یہ تعلق اب تک جاری ہے۔ مجھے کہتے: "رحیم شاہ! رک جاؤ”، میں نے کہا: "نہیں، میرے بابا میرا انتظار کرتے ہیں، پاکستان میں 65 سے اوپر ہیں ان کی عمر”۔ ہمارے لیے امریکہ میں چند شامیں ہی بہتر۔ اللہ کا فضل ہوا، جلسہ یا اجتماع کہہ لیں بہت کامیاب رہا اور ہمارا امریکہ یاترا بھی جاری۔ آگے کیا ہوا، کیا دیکھا، اس کے لیے ملتے ہیں اگلے کالم میں۔