گزشتہ ہفتے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’غزہ امن بورڈ‘‘ کے قیام کا اعلان کیا، جس پر مجموعی طور پر 25 ممالک نے دستخط کیے۔ اس پیش رفت کے دوران کئی ممالک نے خاموشی اختیار کی، جبکہ بعض نے اس بورڈ کا حصہ بننے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔ حکومتِ پاکستان نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ ”غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ پاکستان کو فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے، تاہم اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا اصولی مؤقف بدستور برقرار ہے۔“ دوسری جانب ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان کی اس شمولیت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ قرار دیا ہے۔
پاکستان کے علاوہ نو دیگر مسلم ممالک نے بھی اس بورڈ پر دستخط کیے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مجموعی طور پر 50 ممالک کو اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی تھی، تاہم صرف 25 ممالک نے شرکت کی۔ اسرائیل بھی اس بورڈ کا رکن ہے، لیکن دستخط کی تقریب میں اسرائیل کے صدر، وزیراعظم یا کسی رہنما نے شرکت نہیں کی، کیونکہ تقریب میں موجود کوئی بھی رہنما اسرائیلی قیادت سے ہاتھ ملا کر اپنی سیاسی ساکھ کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا، اسی وجہ سے اسرائیل نے اس تقریب سے دور رہنے کو ترجیح دی۔
غزہ امن بورڈ کیا ہے؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی جیسے عالمی اداروں کو مضبوط بنا کر مسئلۂ فلسطین کا حل تلاش کرنے کے بجائے ایک نیا ’’بورڈ آف پیس‘‘ تشکیل دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ درحقیقت غزہ امن بورڈ ایک امریکی منصوبہ اور مبہم خاکہ دکھائی دیتا ہے، جس میں امریکہ سے بھی زیادہ فوائد ذاتی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خاندان اور اپنی کمپنیوں کو مزید امیر اور طاقتور بنانا چاہتے ہیں۔ طاقت، سرمایہ اور فیصلہ سازی چند مخصوص ہاتھوں میں مرتکز نظر آتی ہے، ایسے ہاتھ جن کا فلسطین اور غزہ سے براہِ راست تو درکنار، بالواسطہ تعلق بھی نہیں۔
اس بورڈ کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے، جبکہ اس میں مشرقِ وسطیٰ کی متنازع شخصیت ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، ارب پتی کاروباری شخصیت مارک روون (اپالو گلوبل)، ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا، امریکی قومی سلامتی ٹیم کے رکن گیبریل اور بلغارین سیاستدان نکولے ملادینوف جیسے نام شامل کیے گئے ہیں۔ اس بورڈ کے تحت تمام فیصلے مقامی فریقین کی شمولیت کے بغیر طاقتور عالمی دارالحکومتوں میں کیے جانے ہیں۔ اس منصوبے کا سب سے تشویشناک پہلو فلسطینی نمائندگی کا مکمل فقدان ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ جنم لیتا ہے کہ آخر مسلم ممالک نے کن مجبوریوں یا مفادات کے تحت اس نوعیت کے معاہدے کو قبول کیا؟
معزز قارئینِ کرام! اکتوبر 2025 تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے تھے، جبکہ روزانہ 200 سے زائد ہلاکتیں معمول بن چکی تھیں۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ مسلسل نشانہ بن رہے تھے۔ ایسے سنگین حالات میں مسلم ممالک کسی بھی صورت جنگ بندی کے خواہاں تھے، تاکہ غزہ میں جاری غارت گری کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
اسی پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ جنگ بندی (One-sided Ceasefire) کی بات چھیڑ دی۔ مسلم ممالک نے، جو شدید انسانی بحران کے باعث کسی بھی ممکنہ وقفے کے متلاشی تھے، اس ابتدائی اور غیر واضح پیش رفت کو امید کی کرن سمجھ لیا۔ یہاں تک کہ مسلم حکمرانوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’امن کا سفیر‘‘ قرار دینا شروع کر دیا۔ اس فہرست میں وزیراعظمِ پاکستان شہباز شریف بھی شامل تھے اور ہیں، جنہوں نے ٹرمپ کو غیر معمولی القابات سے نوازا ہے۔
بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ ابتدا میں یہ منصوبہ مسلم ممالک کے سامنے آیا، تو اسے مسترد کرتے ہوئے مناسب تبدیلیوں کے ساتھ قبول کرنے کا اشارہ دیا گیا، مگر رفتہ رفتہ اسے پس منظر میں دھکیل دیا گیا اور خاموشی سے نظر انداز کر دیا گیا۔ تاہم اسی منصوبے کے نکتہ نمبر 10 میں غزہ کو ’’ری ڈیزائن‘‘ کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت غزہ کو ’’ٹرمپ اکنامک ڈویلپمنٹ پلان‘‘ کے مطابق تعمیر کیا جانا تھا۔ اس منصوبے کی منصوبہ بندی پینل آف ایکسپرٹس اور دنیا کے نامور سرمایہ کار گروپس کے سپرد کی جانی تھی، جو اس میں بھاری سرمایہ کاری کریں گے۔ درحقیقت اگر 20 نکاتی منصوبے کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس کے تمام نکات اسی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ غزہ کے ساحلی علاقوں کو ایک بڑے بزنس اور رئیل اسٹیٹ حب میں تبدیل کیا جائے گا۔
سمندر کی طرف مہنگی پراپرٹیز، بلند و بالا عمارتیں اور ہاؤسنگ منصوبے تعمیر کیے جائیں گے، جو بالآخر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں بدل جائیں گے۔ اس پورے عمل میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی اور امریکی مفادات کا تحفظ اوّلین ترجیح ہوگا، جبکہ فلسطینی عوام کو عملاً بے دخل کر دیا جائے گا۔ یوں خدشہ ہے کہ مسلم ممالک کے کندھوں پر بندوق رکھ کر فلسطینیوں کو ان کی ہی سرزمین سے محروم کر دیا جائے گا اور ان کی املاک پر قبضہ کر لیا جائے گا۔
یہاں یہ سوال ناگزیر ہے کہ فلسطینی عوام نے گزشتہ ایک صدی، پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سے آج تک جو جدوجہد کی، وہ صرف اپنی سرزمین، اپنے وطن اور اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے تھی۔ ان کی قربانیاں کسی بزنس ڈیل، کسی سرمایہ کاری منصوبے یا کسی ’’ڈیویلپمنٹ ماڈل‘‘ کے لیے نہیں تھیں۔ مگر افسوس کہ آج مسلم ممالک جانے انجانے میں فلسطین کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل کے حوالے کرنے کے معاہدوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ جنگ بندی کے دعوے، تحفظ کے وعدے اور انسانی امداد کے اعلانات زمینی حقیقت کو تبدیل نہ کر سکے۔ فلسطینیوں کا قتلِ عام بدستور جاری ہے۔ جب پہلے مرحلے کے نتائج واضح نہیں تھے، تو دوسرے مرحلے پر اعتماد کیسے کیا جا سکتا تھا؟
خاص طور پر اس وقت، جب بمباری اور جانی نقصان کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس پورے منظرنامے میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ امن کے نام پر سرمایہ کاری، تعمیرِ نو اور کاروباری مواقع کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ اصل مسئلہ (اسرائیلی دہشتگردی و قبضہ) دانستہ طور پر پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان اور تمام مسلم ممالک فلسطین کے ساتھ کھڑے ہوتے اور کسی بھی نام نہاد امن معاہدے کا باریک بینی سے جائزہ لیتے۔
اب یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے کہ غزہ کے نام پر نیا استعمار جنم لے چکا ہے، اور اسرائیل اپنی جنگ مسلم ممالک کے کندھوں پر بندوق رکھ کر جیت چکا ہے۔ یہ معاملہ اب مستقبل کا اندیشہ نہیں رہا، بلکہ تاریخ کے سیاہ باب میں لکھا جا رہا ہے۔ جب غزہ کی تعمیرِ نو مکمل ہو جائے گی اور اس سرزمین پر اسرائیلی اور امریکی مفادات کا مکمل قبضہ قائم ہو جائے گا، تو پھر کسی احتجاج، کسی وضاحت اور کسی مؤقف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اس کے بعد صرف تاریخ بچے گی، اور اس تاریخ میں سب کچھ درج ہو چکا ہو گا۔