وزیراعظم کا صنعتوں کیلئے بجلی 4 اعشاریہ 4 روپے سستی کرنے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کی کمی کا اعلان کر دیا۔

وفاقی دارالحکومت میں ملک کے نامور ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے قربانی دی ، غریب نے مشکلات کا سامنا کیا، ہمیں اب گروتھ کی طرف جانا ہے، کاروباری برادری کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاجر برادری سے مشاورت کے بعد معاشی پالیسیاں بنائی جائیں گی، سیاسی و عسکری تعاون سے ملکی ترقی کی راہیں کھل رہی ہیں۔ْ

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا پاکستان نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر کامیابیاں سمیٹیں، معرکہ حق میں فتح کے بعد پاکستان کا دنیا میں منفرد مقام بن چکا ہے، فتح کے بعد عالمی دوروں کے دوران رویے تبدیل ہوتے دیکھے ہیں، دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔

ان کا کہنا تھا ایوارڈ یافتہ کاروباری افراد کو بلیو پاسپورٹ دیں گے، وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے بعد مختلف ممالک کے سربراہان مجھ سےآکر بغلگیر ہو رہے تھے، معرکہ حق کے بعد دنیا اب آپ کی بات مان رہی ہے، سرمایہ کاری کے لیے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں ہوتے ہوئے سب نے دیکھی، شفافیت کے عمل کو یقینی بنا کر نجکاری ہوگی، ہم اصلاحات لا رہےہیں اور اربوں کے اخراجات کم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا براہ راست ٹیکسز کل نہیں آج کم ہونے چاہئیں، ان ڈائریکٹ ٹیکس آپ کو صارفین سے لے لینا ہے اور آگےجمع کرانا ہے۔

ان کا کہنا تھا برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہماری توجہ کا محور ہے، ڈیجیٹل شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کیے جارہےہیں، پی آئی اے کی ترقی کے لیے حکومت بھرپور تعاون کرے گی ، پی آئی اے بہت جلد دوبارہ سے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا فیلڈ مارشل کے خصوصی تعاون سے بہت سے معلامات کو حل کیا، پاکستان اتنا مضبوط ہوگا کہ بھارت کو غشی کے دورے پڑیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے