داتا دربار کے سامنے مین ہول میں موت

لوگ صدیوں سے اپنی حاجتیں اُٹھائے درباروں کی سیڑھیاں چڑھتے آئے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں چادر ہے، کسی کی آنکھوں میں آنسو، کسی کی زبان پر منت، کسی کے دل میں خوف اور کسی کے اندر ایک بے نام سی امید۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس دروازے پر آ کر بات بن جائے، شاید یہاں جھکنے سے مشکل ٹل جائے، شاید یہاں مانگنے سے قسمت بدل جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟

چند دن پہلے داتا دربار کے سامنے مین ہول میں ایک ماں اور اس کا بچہ گر کر جان کی بازی ہار گئے۔ یہ کوئی فلسفیانہ سوال نہیں، یہ ایک ٹھوس، بے رحم حقیقت ہے۔ ایک ماں، ایک بچہ، ایک لمحہ اور پھر خاموشی۔ ایسے حادثے صرف دکھ نہیں دیتے، یہ سوال بھی پیدا کرتے ہیں۔ وہ سوال جو اکثر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر وہ دب کر بھی زندہ رہتا ہے۔
اگر دربار میں اختیار ہوتا،
اگر مزار میں طاقت ہوتی،
اگر صاحبِ مزار سنبھال سکتے،
تو کیا ایک ماں کا ہاتھ بچے کے ہاتھ سے چھوٹنے دیا جاتا؟
کیا قدم لڑکھڑانے سے پہلے کوئی غیبی ہاتھ تھام نہ لیتا؟

یہاں بات گستاخی کی نہیں، بات سمجھنے کی ہے۔ اسلام نے ہمیں جذبات کے حوالے نہیں کیا، اس نے ہمیں عقل اور عقیدے کی بنیاد دی ہے۔ قرآن نے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں انسان کو بتایا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک کون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نصیحت کے انداز میں کہتا ہے:
یَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ
(اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا)

یہ نصیحت حضرت لقمان علیہ السلام کی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو اس وقت کی جب وہ اسے زندگی کی سب سے بنیادی اور سب سے بڑی حقیقت سمجھانا چاہتے تھے۔ قرآن بتاتا ہے کہ لقمانؑ نے سب سے پہلے اپنے بیٹے کو نماز، روزہ یا کسی رسم کا نہیں، بلکہ عقیدے کا سبق دیا۔ انہوں نے باپ بن کر نہیں، ایک دانا انسان بن کر سمجھایا کہ بیٹا، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ یعنی انسان اگر عبادت، امید، خوف یا مدد کو اللہ کے علاوہ کہیں اور باندھ دے تو وہ سب سے پہلے خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ یہ نصیحت اس بات کا اعلان ہے کہ دین کی بنیاد توحید ہے، اور اگر بنیاد ہی کمزور ہو جائے تو باقی سب کچھ بے معنی ہو جاتا ہے۔

یہ جملہ محض ایک وعظ نہیں، یہ ایک مکمل فکری سمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کا جھکنا بھی اللہ کے لیے ہو، خوف بھی اسی سے ہو، امید بھی اسی سے بندھی ہو۔ اگر ہم سجدہ کسی اور کے لیے محفوظ کر لیں، اگر فریاد کسی اور کے در پر لے جائیں، تو پھر ہم حادثے پر حیران کیوں ہوں؟

چند دن پہلے ایک صاحب نے مکہ مکرمہ میں عمرے کے دوران اپنے بیٹے کو فون کیا۔ وہ حرم میں تھے، کعبہ سامنے تھا، مگر فون پر کہا جا رہا تھا: “مجھے بخار ہے، حیدرآباد جا کر فلاں مزار پر میرے لیے دعا مانگنا، اور دیگ بھی چڑھا دینا۔” یہ جملہ محض ایک فرد کی سوچ نہیں، یہ ہمارے اجتماعی تضاد کی تصویر ہے۔ خانۂ کعبہ کے سائے میں کھڑے ہو کر بھی دل کہیں اور اٹکا ہوا ہے، زبان اللہ کا نام لے رہی ہے مگر امید کسی اور در پر ٹکی ہوئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ
نہ کوئی مزار بچا سکتا ہے،
نہ کوئی دربار روک سکتا ہے،
نہ کوئی قبر نفع دے سکتی ہے،
نہ نقصان ٹال سکتی ہے۔

اور اس سچ کی ایک تلخ جہت یہ بھی ہے کہ مزارات کے اندر دفن بزرگ خود اس صورتحال سے بری الذمہ ہیں۔ نہ انہوں نے کبھی یہ چاہا، نہ کبھی یہ سوچا، نہ ان کی تعلیمات میں یہ سب کچھ تھا۔ وہ تو اللہ کی طرف بلانے والے تھے، لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنے والے نہیں۔ مگر ان کے بعد، ان کے نام پر دکانیں چمکانے والوں نے انہیں بزرگ کے بجائے کارٹون بنا دیا۔ کسی نے ان کے نام پر کاروبار کھول لیا، کسی نے عقیدت بیچنی شروع کر دی، اور کسی نے لوگوں کی سادگی کو سرمایہ بنا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اصل پیغام کہیں پیچھے رہ گیا اور رسمیں آگے نکل گئیں۔

بچانے والا صرف اللہ ہے، اور جب وہ نہ بچائے تو پھر کوئی دیوار، کوئی گنبد، کوئی چوکھٹ آڑے نہیں آ سکتی۔ قرآن ہمیں یہی حقیقت یاد دلاتا ہے:
قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا
کہہ دیجیے، ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے۔

یہ آیات ہمیں بے حس نہیں بناتیں، یہ ہمیں باشعور بناتی ہیں۔ یہ سکھاتی ہیں کہ حادثے پر صرف ماتم کافی نہیں، عقیدے کی اصلاح ضروری ہے۔ اگر ہم دربار کے حادثے پر روئیں مگر دل کے دربار میں غیر اللہ کو بٹھائے رکھیں، تو یہ رونا بھی ادھورا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ عقیدت اور عقیدہ ایک چیز نہیں۔ عقیدت انسان کو بہا لے جاتی ہے، عقیدہ انسان کو سنبھال کر رکھتا ہے۔ عقیدت آنکھیں بند کر دیتی ہے، عقیدہ آنکھیں کھول دیتا ہے۔
سجدہ بھی اُسی کے لیے،
دعا بھی اُسی سے،
امید بھی اُسی پر،
اور خوف بھی اُسی کا۔
کیونکہ اگر وہ روک لے تو کوئی نہیں دے سکتا،
اور اگر وہ دے دے تو کوئی روک نہیں سکتا۔

یہی توحید ہے، یہی اصل دین ہے، اور یہی وہ سادہ مگر بھاری سچ ہے جسے ہم ماننے سے زیادہ مانگنے میں کھو گئے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے