اجمل خٹک پشتون قوم کی سیاسی ، ادبی اور صحافتی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہیں۔ وہ 1925ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں پیدا ہوئے ان ميں کم عمری ہی سے سماجی شعور اور سیاسی بیداری کے آثار نمایاں تھے۔انہوں نے ادب،صحافت اور سیاست کو ذریعہ بنا کر پشتون عوام کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
اجمل خٹک نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں آٹھویں جماعت تک حاصل کی جس کے بعد انہوں نے پشاور کے ایک ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ اس دوران وہ آزادی کی خاطر سیاسی سرگرمیوں میں سرگرم عمل رہے جس کے باعث ان پر انگریز مخالف سرگرمیوں کا الزام لگا اور انہیں اسکول سے نکال کر جیل بھیج دیا گیا۔ قید کے دوران بھی انہوں نے تعلیم ترک نہ کی اور جیل ہی سے امتحانات دیے۔ انہیں صرف امتحان کے دن جیل سے باہر جانے کی اجازت دی جاتی تھی جس کے بعد دوبارہ واپس جیل منتقل کر دیا جاتا تھا۔
تاہم علم سے محبت نے انہیں خاموش نہ ہونے دیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، عربی اور فارسی زبانیں سیکھیں اور انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل کیا۔
جیل سے رہائی کے بعد اجمل خٹک پشاور یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے مگر ایک بار پھر گرفتار کر کے انہیں مچھ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس سخت قید کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیمی جدوجہد جاری رکھی اور وہیں سے امتحانات دیے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کو کسی جبر سے روکا نہیں جا سکتا۔
وه عملی سیاست میں ہميشہ سرگرم رہے اور طويل عرصہ تک شدید مشکلات کا سامنا کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سیاسی حالات میں کسی حد تک تبدیلی آئی اور مشکلات میں نسبتاً کمی واقع ہوئی مگر مشکلات پهر بهی ختم نہ ہوئیں ۔
اس ہمه جہت اور تاريخ ساز شخصيت نے بطور ايڈيٹر روزنامہ شہباز پشاور اور ریڈیو پشاور سے منسلک ہونے کے ناطے صحافت و ادب کے ذريعے نئی نسل کی شعوری بيداری کے ليے شب و روز کام کيا تاہم ان کی زندگی کا بڑا حصہ سياست کے ذريعے اجتماعی شعور بیدار کرنے اور قومی یکجہتی کے لیے وقف رہا۔
سیاسی طور پر وہ نیشنل عوامی پارٹی اور بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کے اہم نظریاتی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے خان عبدالغفار خان ( باچا خان بابا ) کے عدم تشدد کے فلسفے کو عملی سیاست میں اپنائے رکھا اور عوامی شمولیت اور تنظیمی سیاست پر یقین رکھا۔ ریاستی دباؤ، قید و بند اور جلاوطنی کے باوجود ان کے نظریاتی عزم میں کوئی لغزش نہ آئی۔
اجمل خٹک وہ رہنما تھے جنہیں خان عبدالغفار خان کے صاحبزادے خان عبدالولی خان کی زندگی ہی میں جمہوری طریقۂ کار کے تحت عوامی نیشنل پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب اس اعتماد اور احترام کی علامت تھا جو انہیں جماعت کے اندر حاصل تھا اور عوامی نیشنل پارٹی کی جمہوریت پسند پاليسی تھی۔
ادبی حوالے سے اجمل خٹک کو انقلابی شاعر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ان کے نظم و نثر میں پشتون معاشرے کی سیاسی محرومیاں، سماجی ناہمواریاں اور ثقافتی چیلنجز حقیقت پسندانہ اور تجزیاتی انداز میں سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ تشدد کی مخالفت کی اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار سیاسی حل صرف تعلیم ، شعور اور منظم عوامی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
وه 7 فروری 2010ء کو طويل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انہیں ان کے آبائی علاقے اکوڑہ خٹک میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کا انتقال پشتون سیاست ، صحافت اور ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھا۔
سال 2012ء میں اجمل خٹک بابا کے مزار پر ہونے والا بم دھماکہ ایک المناک واقعہ تھا جس نے پورے پشتون معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس وقت نوشہرہ کے ڈپٹی کمشنر ایاز مندوخیل تھے جو اطلاع ملتے ہی سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچے۔ موقع کی تصاویر بعد ازاں ان سے مجھے موصول ہوئیں۔
چونکہ میں اس وقت پشاور میں تھا اس لیے اگلی صبح نوشہرہ پہنچا۔ میرے ہمراہ ایاز مندوخیل کے بھائی فرید خان ، عجب خان اور دیگر دوست بھی تھے۔ مزار پر پہنچ کر جب قبر کا کتبہ ٹیڑھی حالت میں دیکھا اور قبر کے سينے کی مٹی بکهری هوئی ديکهی تو شدید دکھ ہوا کہ ایک قومی ہیرو کے افکار اپنانے کے بجائے ان سے نفرت اور تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا مگر ان بدبختوں کو کيا معلوم کہ اجمل بابا کی جسد خاکی سے صرف روح کوچ کر گئی ہے ان کے افکار ہميشہ زنده اور لافانی رہیں گے جن کو کوئی بهی انتہا پسند جنونی ختم نہيں کرسکتا ۔
23 ستمبر 2025ء کو اسلام آباد میں نوے ژوند ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم کے زیرِ اہتمام چوتهے امن ایوارڈز کی تقريب کے انعقاد پر ہم نے پشتو ادب و صحافت کے ہر دلعزيز استاد نورالبشر نويد صاحب کے مشورے پر اجمل خٹک بابا کی سالگره کا صد سالہ جشن پی این سی اے ہال میں منایا اور سياسي , ادبی , صحافتی اور سماجی شخصيات کے ہاتھوں کيک کاٹا۔
اجمل خٹک بابا کی سالگره کے موقع پر ان کے نام سے منسوب ایوارڈز مختلف ادیبوں اور لکھاریوں کو دیے گئے جبکہ ایک خصوصی میڈل ڈاکٹر عالم یوسفزئی کے لیے تیار کیا گیا تها۔ تقریب میں جب ڈاکٹر عالم یوسفزئی نے اسٹیج پر اجمل خٹک بابا کی مشہور نظم “فیصلہ” پیش کی تو یہ میڈل تقريب کے صدر معروف سیاسی رہنما و انقلابی شاعر افراسیاب خٹک کے ہاتھوں ان کے گلے میں پہنایا گیا۔
ان کے انتقال کے بعد بھی اجمل خٹک کا فکری ورثہ زندہ ہے ۔ان کے سیاسی، ادبی اور صحافتی وارثوں میں دو بڑے نام افراسیاب خٹک اور نورالبشر نوید نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جو آج بھی پشتو ادب، سیاست اور صحافت کے افق پر درخشاں ستاروں کی مانند چمک رہے ہیں۔
دونوں شخصیات نے اجمل خٹک کی فکری روایت، جمہوری شعور اور قلمی جرأت کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کیا۔
تاریخ کے صفحات میں اجمل خٹک کو ایک ایسے مفکر، ادیب اور سیاسی رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی عوامی حقوق، زبان اور اجتماعی شعور کے فروغ کے لیے وقف کر دی تهی جس کی وجہ سے ان کا نام پشتو تاريخ میں امر ہوگيا۔