لاہور ادب کی دنیا میں بھی ایک تاریخی مقام رکھتا ہے۔ صدیوں سے یہ شہر شاعری، افسانہ، ڈرامہ، اور دیگر ادبی اصناف کا مرکز رہا ہے۔ مغلیہ دور میں یہاں کے محافلِ شعری نے اردو اور فارسی ادب کو ترقی دی، جبکہ برصغیر کی جدید ادبی تحریکوں میں لاہور کے ادیب اور شاعر اہم کردار ادا کرتے رہے۔ شہر کی ادبی فضائیں، کتب خانوں اور ادبی محافل نے تخلیقی سوچ کو پروان چڑھایا اور نئی نسل کے ادیبوں کو رہنمائی فراہم کی۔ آج بھی لاہور نہ صرف اپنی تاریخی عمارتوں اور مقامات کے لیے جانا جاتا ہے بلکہ اردو ادب کی ترقی اور اس کے ورثے کے لیے ایک روشن مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
اردو ادب کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جن کی تخلیقی حیثیت کسی ایک صنف یا میدان تک محدود نہیں رہتی۔ ڈاکٹر انور سجاد کا شمار انہی ہمہ جہت شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ بیک وقت افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، اداکار، ہدایت کار، مصور، وائس اوور آرٹسٹ اور پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ ان کی تخلیقات میں ادب، فنونِ لطیفہ اور سماجی شعور کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو انہیں اپنے عہد کے دیگر ادیبوں سے ممتاز کرتا ہے۔
ڈاکٹر انور سجاد ۲۷ مئی ۱۹۳۵ کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں یونیورسٹی آف لیورپول سے ٹراپیکل میڈیسن اینڈ ہائی جین میں ڈپلومہ مکمل کیا۔ اگرچہ ان کا پیشہ طب تھا، مگر ان کی فکری اور تخلیقی وابستگی ابتدا ہی سے ادب اور فنونِ لطیفہ کے ساتھ رہی۔ طب کے شعبے سے وابستگی نے انہیں انسانی جسم کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات، تکلیف، خوف اور وجودی مسائل کو قریب سے سمجھنے کا موقع دیا، جو بعد میں ان کی تحریروں کا بنیادی حوالہ بنے۔
ڈاکٹر انور سجاد نے ۱۹۵۰ کی دہائی میں، کم عمری کے دوران، لکھنے کا آغاز کیا۔ یہ وہ دور تھا جب اردو ادب ترقی پسندی سے جدیدیت کی طرف منتقل ہو رہا تھا۔ انور سجاد نے اس فکری تبدیلی کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے اسے ایک نیا اسلوب بھی عطا کیا۔ وہ نہ خالص ترقی پسند تھے اور نہ ہی محض تجریدی جدیدیت کے قائل، بلکہ انہوں نے انسانی وجود، داخلی کشمکش اور سماجی جبر کو اپنی تحریروں کا مرکز بنایا۔
ڈاکٹر انور سجاد کا اصل تخلیقی اظہار افسانے میں سامنے آتا ہے۔ ان کے افسانے روایت شکن ہیں اور قاری کو محض کہانی نہیں بلکہ فکری تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں وجودی کرب، شناخت کا بحران، سماجی ناہمواری اور طاقت کے ڈھانچوں پر خاموش مگر گہری تنقید ملتی ہے۔
ان کی کتابوں کی فہرست اور ان پر مختصر جائزہ درج ذیل ہے۔ ان کی افسانوی تحریریں اردو فکشن میں جدید علامتی اور تجزیاتی رویّوں کی واضح نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے ہاں علامت محض ایک فنی یا تکنیکی طریقہ نہیں بلکہ ایک گہری فکری اور تخلیقی ضرورت بن کر سامنے آتی ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد اپنے افسانوں میں قاری کو تیار شدہ نتائج نہیں دیتے بلکہ ایسے سوالات کے ساتھ چھوڑتے ہیں جو سوچ، غور و فکر اور خود احتسابی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
1. خوشیوں کا باغ (1981)
– یہ ناول انور سجاد کی تخلیقی معراج سمجھا جاتا ہے۔
– کہانی میں انسانی وجود، خوشی کی تلاش اور زندگی کے تضادات کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
– اسلوب میں تجریدی رنگ نمایاں ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
2. نیلی نوٹ بک (1982)
– یہ کتاب ڈائری نما تحریروں اور علامتی افسانوں کا امتزاج ہے۔
– انور سجاد نے اس میں ذاتی تجربات کو فلسفیانہ سوالات کے ساتھ جوڑا ہے۔
– قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مصنف کے ذہنی سفر میں شریک ہے۔
3. رگِ سنگ (1992)
– افسانوی مجموعہ جس میں انسانی رشتوں کی پیچیدگی اور سماجی جبر کو علامتی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔
– زبان میں شعریت اور منظر نگاری کا کمال پایا جاتا ہے۔
– یہ کتاب ان کے جدید افسانوی اسلوب کی بہترین مثال ہے۔
4. نگار خانہ (1994)
– اس کتاب میں فنونِ لطیفہ اور زندگی کے باہمی تعلق کو موضوع بنایا گیا ہے۔
– انور سجاد بطور مصور اور ادیب اپنی دوہری شناخت کو تحریر میں سمو دیتے ہیں۔
– اسلوب میں تصویری رنگ اور بصری تاثر غالب ہے۔
5. جنم روپ (1985)
– ایک علامتی ناول جو شناخت اور وجود کے سوالات کو کھولتا ہے۔
– کردار اپنی اصل تلاش میں سرگرداں ہیں، اور قاری کو وجودی فلسفے کی طرف لے جاتے ہیں۔
6. استعارے (1970)
– ابتدائی دور کی کتاب، جس میں علامتی افسانے شامل ہیں۔
– یہ انور سجاد کے اسلوبی ارتقا کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
7. چوراہا (1982)
– افسانوی مجموعہ جس میں زندگی کے مختلف راستوں اور انتخاب کی کشمکش کو موضوع بنایا گیا ہے۔
– اسلوب میں تجرید اور علامت کا بھرپور استعمال ہے۔
8. رات کے مسافر (1986، دوبارہ اشاعت 2011)
– تنہائی، سفر اور وجودی سوالات پر مبنی افسانے۔
– قاری کو ایک داخلی اور روحانی سفر پر لے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر انور سجاد پاکستان کے جدید اردو ادب اور ٹیلی وژن کے نمایاں ڈرامہ نگار تھے۔ ان کے ڈرامے علامتی، تجریدی اور وجودی سوالات پر مبنی ہوتے تھے، اور انہوں نے 1964 میں برصغیر کا پہلا ٹیلی کاسٹ ہونے والا ڈرامہ بھی لکھا۔ لاہور چونکہ ہمیشہ سے ڈرامہ اور تھیٹر کا گہوارہ رہا ہے، اس شہر کی ادبی فضا اور ثقافتی رونق نے انور سجاد جیسے فنکاروں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دیا۔ الحمرا آرٹس کونسل، لاہور کے تھیٹر ہالز اور ادبی محافل نے نہ صرف کلاسیکی اور جدید ڈرامہ نگاری کو فروغ دیا بلکہ فنکاروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں وہ اپنی علامتی اور وجودی فکر کو عوام تک پہنچا سکیں۔ اسی روایت کے تسلسل میں ڈاکٹر انور سجاد کے مشہور ڈرامے "راستہ”، "پتھر”، اور "چوراہا” جیسے فن پارے سامنے آئے، جنہوں نے نہ صرف ناظرین کو فکری سطح پر جھنجھوڑا بلکہ لاہور کی اس دیرینہ ڈرامائی روایت کو مزید تقویت بخشی۔
ڈاکٹر انور سجاد کے مشہور ڈرامے
1. پہلا ٹیلی کاسٹ شدہ ڈرامہ (1964)
– برصغیر میں ٹیلی وژن پر نشر ہونے والا سب سے پہلا کمیشن شدہ ڈرامہ انور سجاد نے لکھا۔
– یہ ان کے جدید اور علامتی اسلوب کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
2. چوراہا
– زندگی کے انتخاب اور وجودی کشمکش پر مبنی ڈرامہ۔
– اس میں کردار مختلف راستوں پر کھڑے ہیں اور فیصلہ کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔
3. خوشیوں کا باغ
– ان کے مشہور ناول پر مبنی ڈرامہ۔
– انسانی وجود اور خوشی کی تلاش کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا۔
4. نیلی نوٹ بک
– ڈائری نما تحریروں پر مبنی ڈرامہ، جس میں فلسفیانہ سوالات اور ذاتی تجربات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا۔
5. رگِ سنگ
– سماجی جبر اور انسانی رشتوں کی پیچیدگی کو علامتی انداز میں ڈرامائی صورت دی گئی۔
6. رات کے مسافر
– تنہائی اور وجودی سفر پر مبنی ڈرامہ۔
– کردار داخلی اور روحانی سفر میں مصروف دکھائے گئے ہیں۔
ڈاکٹر انور سجاد کے ڈرامے سیدھی سادی کہانی سنانے کے بجائے علامتی اور تجریدی انداز میں پیش کیے جاتے ہیں، جہاں تصویری مناظر اور علامتیں ناظرین کو سوچنے اور غور کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ان کے کردار اکثر وجودی فلسفے کے زیرِ اثر اپنی شناخت اور مقصدِ حیات کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں، جس سے ان کے فن میں گہرائی اور فکری کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ مزید برآں، انور سجاد ایک کثیر جہتی شخصیت کے مالک تھے؛ وہ صرف ڈرامہ نگار ہی نہیں بلکہ مصور، ناول نگار، رقص اور تھیٹر کے فنکار بھی تھے، اور یہی ہمہ گیر تخلیقی صلاحیتیں ان کے ڈراموں میں نمایاں طور پر جھلکتی ہیں۔
ڈاکٹر انور سجاد محض لکھنے تک محدود نہ رہے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے کئی ڈراموں میں اداکاری بھی کی اور ڈرامہ "صبا اور سمندر” میں ان کی اداکاری پر انہیں پی ٹی وی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ مصوری، رقص اور آواز کے فن سے بھی وابستہ رہے۔ ان کی یہ ہمہ جہت تخلیقی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ فن کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کرتے تھے بلکہ اسے ایک کلی تجربہ سمجھتے تھے۔
ڈاکٹر انور سجاد لاہور کے ادبی و ثقافتی حلقوں کے سرگرم رکن رہے۔ وہ پاکستان آرٹس کونسل لاہور کے صدر بھی رہے اور قومی سطح پر فنونِ لطیفہ کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) سے وابستہ رہے، جہاں انہوں نے تدریسی اور تخلیقی خدمات انجام دیں۔
یہاں ڈاکٹر انور سجاد کے ادبی کام پر چند سنجیدہ اور متوازن آرا پیش کی جا رہی ہیں، جو تحقیقی اور عمومی دونوں تناظرات میں موزوں ہیں.
ڈاکٹر انور سجاد کا ادبی کام اردو فکشن میں ایک منفرد اور توانا آواز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے افسانے کو محض کہانی سنانے کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے انسانی شعور، سماجی الجھنوں اور داخلی کشمکش کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کی تحریروں میں جدید انسان کی تنہائی، بے معنویت اور شناخت کا مسئلہ بار بار سامنے آتا ہے۔
نقادوں کے نزدیک انور سجاد نے علامت کو تجریدی پیچیدگی کے بجائے فکری گہرائی کے لیے استعمال کیا۔ ان کے افسانے قاری پر اپنے معنی مسلط نہیں کرتے بلکہ اسے متن کے ساتھ شریکِ سفر بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ادب ہر قاری کو اس کی فکری سطح اور تجربے کے مطابق مختلف زاویوں سے متاثر کرتا ہے. کچھ آرا یہ بھی ہیں کہ ان کا اسلوب سنجیدہ اور فکری ہے، جو فوری طور پر عام قاری کو گرفت میں نہیں لیتا، مگر سنجیدہ ادب سے شغف رکھنے والوں کے لیے ان کا کام دیرپا اثر رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر ڈاکٹر انور سجاد کا ادبی سرمایہ اردو فکشن کی جدید روایت کو فکری استحکام اور وسعت عطا کرتا ہے۔
ڈاکٹر انور سجاد کی ادبی اور ثقافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ۱۹۸۹ میں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ یہ اعزاز ان کے فن کی سرکاری سطح پر توثیق تھا، اگرچہ ان کی اصل اہمیت ان کے فکری اثر اور تخلیقی ورثے میں مضمر ہے۔
ڈاکٹر انور سجاد ۶ جون ۲۰۱۹ کو لاہور میں وفات پا گئے، مگر ان کی وفات کے باوجود ان کا فکری اور تخلیقی ورثہ اردو ادب میں آج بھی پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہے۔ وہ محض ایک افسانہ نگار یا ڈرامہ نویس نہیں تھے بلکہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے جنہوں نے ادب، مصوری، رقص اور تھیٹر کو یکجا کر کے ایک منفرد جمالیاتی اور فکری جہت پیدا کی۔ ان کی تحریریں جدید اردو فکشن کو سمجھنے کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اور نئی نسل کے محققین کے لیے تحقیق کے بے شمار در وا کرتی ہیں۔
ڈاکٹر انور سجاد کی وفات کے بعد اردو ادب ایک بڑے خسارے سے دوچار ہوا۔ ان کے جانے سے جدیدیت، علامتی اظہار اور وجودی فکر کی وہ آواز خاموش ہو گئی جو کئی دہائیوں تک اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کرتی رہی۔ ان کے افسانے اور ڈرامے قاری کو محض کہانی نہیں بلکہ ایک فکری اور جمالیاتی تجربہ فراہم کرتے تھے۔ ان کی غیر موجودگی نے اردو ادب میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جو آسانی سے پُر نہیں ہو سکتا۔ نئی نسل کے لکھنے والے اور محققین آج بھی ان کی تخلیقات کو رہنمائی اور فکری بیداری کا سرچشمہ سمجھتے ہیں، مگر ان کی شخصیت اور تخلیقی توانائی کا فقدان اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔