ایران کا موجودہ بحران اب صرف خلیج یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا عالمی تصادم بنتا جا رہا ہے جس میں طاقت کے توازن بگڑ رہے ہیں، اتحاد بدل رہے ہیں اور کمزور ریاستیں خطرناک دباؤ میں آ رہی ہیں۔
پاکستان ان ریاستوں میں سب سے زیادہ حساس مقام پر کھڑا ہے۔ جغرافیہ، اندرونی کمزوریاں، علاقائی دشمنیاں اور معاشی انحصار سب مل کر پاکستان کو اس بحران کے عین مرکز کے قریب لے آئے ہیں۔ ایسے حالات میں خاموشی نہ حکمت ہے، نہ غیر جانبداری تحفظ ہے، اور نہ ہی لاتعلقی کوئی راستہ۔ پاکستان کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ اگر یہ بحران جنگ میں بدلا تو اس کے اثرات پاکستان کے وجود، استحکام اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوں گے۔
پاکستان کے پاس ایک نایاب سفارتی حیثیت ہے۔ وہ بیک وقت ایران، سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ آج کی دنیا میں بہت کم ممالک کو یہ سہولت حاصل ہے۔ یہ حیثیت پاکستان کے لیے موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو کشیدگی کم کی جا سکتی ہے، لیکن اگر یہ موقع ضائع ہوا تو پاکستان بڑی طاقتوں کے بیچ کچلا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ کہ پاکستان اس بحران سے خود کو الگ رکھ سکتا ہے، جدید جنگوں کی حقیقت سے لاعلمی ہے۔ آج جنگیں صرف فوجوں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ پابندیوں، پراکسیز، توانائی کے راستوں، فرقہ وارانہ دباؤ اور معاشی گلا گھونٹنے کے ذریعے لڑی جاتی ہیں۔
امریکی بحری بیڑوں کی ایران اور خلیج کے پانیوں میں موجودگی محض نمائشی نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی فوجی تعیناتیاں یا تو طاقت کے زور پر سفارت کاری کی تیاری ہوتی ہیں یا براہِ راست جنگ کا پیش خیمہ۔ ان بیڑوں کی تعداد اور پوزیشن واضح کرتی ہے کہ امریکہ کشیدگی بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف ایران نہ عراق ہے اور نہ لیبیا۔ ایران کے پاس داخلی طاقت، علاقائی اثر و رسوخ اور طویل مزاحمت کی صلاحیت ہے۔ اس لیے اگر جنگ ہوئی تو وہ مختصر، محدود یا صاف شفاف نہیں ہوگی۔ اس کے اثرات پورے خطے میں پھیلیں گے۔
روس اور چین اس بحران کو ایران کی آنکھ سے نہیں، بلکہ امریکہ کی کمزوری کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ ایران کو تباہ کرنا ہے اور نہ ہی اسے مکمل فتح دلانا۔ اصل ہدف امریکہ کو ایک طویل جنگ میں الجھانا ہے تاکہ اس کی توجہ، طاقت اور ساکھ کمزور ہو۔ اسی لیے روس اور چین غالباً ایران کی خفیہ مدد کریں گے—سفارتی، مالی اور تکنیکی سطح پر—لیکن کھلی جنگ سے گریز کریں گے۔
امریکہ اس حکمت عملی سے بے خبر نہیں۔ اگر چین کھل کر ایران کی حمایت کرتا ہے تو امریکہ ممکن ہے کہ جواب خلیج میں دینے کے بجائے جنوبی بحیرۂ چین میں دے، تاکہ چین خود ایک بحران میں پھنس جائے۔ اسی طرح روس امریکہ کی مصروفیت کا فائدہ اٹھا کر یورپ پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ روس توانائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جانتا ہے۔ گیس اور تیل کی سپلائی محدود کر کے، اور فوجی دباؤ ڈال کر، وہ یورپ کو امریکہ سے دور کرنے کی کوشش کرے گا۔
یورپ پہلے ہی مہنگائی، سیاسی انتشار اور تھکن کا شکار ہے۔ وہ نہ تو دور دراز جنگوں میں مداخلت کر سکتا ہے اور نہ ہی کمزور اتحادیوں کو سہارا دے سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں عالمی نظام تحفظ نہیں دیتا بلکہ بحرانوں کا میدان بن جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا مسئلہ شدید ہو جاتا ہے۔ چاہے پاکستان کسی ایک فریق کا ساتھ دے، غیر جانبدار رہے یا مبہم رویہ اختیار کرے ہر صورت میں قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اگر پاکستان امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو ایران کا شک فوراً بڑھے گا۔ مغربی سرحد غیر مستحکم ہو جائے گی۔ بلوچستان، جو پہلے ہی شورش اور محرومی کا شکار ہے، سب سے پہلے لپیٹ میں آئے گا۔ خیبر پختونخوا بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
اگر پاکستان غیر جانبداری کا اعلان کرتا ہے تو بھی کسی کو اس پر مکمل اعتماد نہیں ہوگا۔ ایران کو شک ہوگا، امریکہ کو مایوسی، اور خلیجی ممالک اپنے مفادات پر نظرِ ثانی کریں گے۔ آج کی دنیا میں غیر جانبداری کو اکثر کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
ادھر بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھائے بغیر نہیں رہے گا۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ اور اندرونی مسائل بھارت کے لیے مشرقی سرحد گرم کرنے کا سنہری موقع ہوں گے۔ براہِ راست جنگ کے بغیر بھی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے سفارتی، سیکیورٹی اور ہائبرڈ حربوں کے ذریعے۔
سمندری پہلو اس بحران کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز سب سے پہلے متاثر ہوگی۔ اگر یہ راستہ جزوی طور پر بھی بند ہوا تو عالمی توانائی منڈی ہل جائے گی۔ پاکستان کے لیے اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ گوادر سے کراچی تک تمام بندرگاہیں دباؤ میں آ جائیں گی۔ کراچی، جو پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے، دہشت گردی یا تخریب کاری کا آسان ہدف بن سکتا ہے۔ صرف ایک بڑا واقعہ پوری لاجسٹکس کو مفلوج کر سکتا ہے۔
ایران کے پاس دیگر راستے بھی ہیں۔ اگر وہ پاکستان کے کردار سے مطمئن نہ ہوا تو براہِ راست جنگ کی ضرورت نہیں۔ غیر ریاستی عناصر، فرقہ وارانہ تناؤ اور پراکسی دباؤ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی تصوراتی بات نہیں بلکہ ماضی کا تجربہ ہے۔
افغانستان میں بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ وہاں کی شیعہ آبادی کابل پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف پوزیشن لے۔ یوں مغربی سرحد ایک کے بجائے کئی سمتوں سے دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔
پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ میں الجھ جائے گا۔ سعودی عرب خود اپنی سلامتی میں مصروف ہوگا۔ یورپ مفلوج ہوگا۔ چین اور امریکہ اپنی اپنی جنگیں لڑ رہے ہوں گے۔ روس اپنے فائدے کے مواقع تلاش کرے گا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ طویل بحران کی صورت میں پاکستان کو فوجی، معاشی یا تکنیکی مدد کون دے گا؟ حقیقت تلخ ہے—شاید کوئی بھی نہیں۔
اگر سمندری راستے بند ہو گئے، زمینی راستے غیر محفوظ ہو گئے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے راستے متاثر ہوئے تو ریاست کا نظام چلانا مشکل ہو جائے گا۔ ایندھن، خوراک اور ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہوگی۔ مہنگائی بے قابو ہو جائے گی۔ عوامی غصہ بڑھے گا۔ ریاستی گرفت کمزور پڑے گی۔ اندرونی دھماکہ ایک حقیقی خطرہ بن جائے گا۔
اسی لیے پاکستان کو اب خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ کشیدگی کم کرنا کمزوری نہیں بلکہ بقا کی حکمت عملی ہے۔ پاکستان کو تمام فریقوں سے بات کرنی ہوگی، اعتماد سازی کرنی ہوگی، اور غلط فہمیوں کو بڑھنے سے روکنا ہوگا۔ مبہم پالیسی کے بجائے متوازن اور واضح سفارت کاری کی ضرورت ہے۔
تاریخ اُن ریاستوں کو معاف نہیں کرتی جو خاموشی کو تحفظ اور جغرافیہ کو تقدیر سمجھ لیں۔ اس بحران میں پاکستان تماشائی نہیں بلکہ اگلی صف میں کھڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان شامل ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ دانشمندی سے قدم اٹھائے گا یا تباہ کن نتائج کا انتظار کرے گا۔