پاکستان اپنے آغاز کے ساتھ ہی لفظ بحران کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ قیامِ پاکستان کے آغاز ہی سے جس لفظ کا شدت کے ساتھ ذکر ہوتا رہا، وہ تھا بحران۔ مہاجرین کی آبادکاری کا مسئلہ ہو تو رہائشی بحران، سامانِ تجارت، صنعت و حرفت، اسلحہ سازی اور دیگر معاملات کا ذکر آئے تو دفاعی بحران اور تجارتی بحران یہاں تک کہ ابتدائی نو سال آئینی بحران رہا۔
قراردادِ مقاصد منظور ہونے کے باوجود نو سال لگے اس ملک کو یہ باور کرانے میں کہ اس کا اپنا ایک دستور ہونا چاہیے۔ 1956 میں پہلا دستور بنا، مگر تیسرے سال سے بھی پہلے توڑ دیا گیا۔ 1962 میں دوسرا دستور تیار ہوا۔ ان دونوں ادوار میں ریاست اور اداروں کے مابین یہ ابہام برقرار رہا کہ اسلام کا نام لکھنا ہے یا نہیں لکھنا۔ قراردادِ مقاصد میں جہاں واضح طور پر حکم موجود تھا کہ اقتدارِ اعلیٰ صرف اللہ ہی کی ذات کو زیبا ہے، اس کے باوجود آئینی بحرانی کیفیت بارہا یہ سوال اٹھاتی رہی کہ آئین کیسا ہونا چاہیے؟ نام کیسا ہونا چاہیے؟
آئین اور نام میں لفظ اسلامی ہونا چاہیے یا یہ محض اضافی ہے؟ اور اگر نام ہو تو کیا صرف نام ہی کافی ہے یا کام بھی اسلامی ہونا چاہیے؟ یہ سارے ابہام تھے۔ عوام کو سبز انقلاب کے نام پر روٹی کے دجالی فتنے میں پھنسا دیا گیا۔ ایوب کے دور کے جاننے والے جانتے ہیں، اور اگر اس دور کے لوگ آج موجود ہیں تو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ایوب کے زمانے میں آٹا بہت سستا تھا۔ عزت سستی تھی کوئی بات نہیں، عوام کی عزت بھی کوئی عزت ہوتی ہے؟ اصل مسئلہ آٹا ہے۔ پیٹ بھرا ہو تو دنیا رنگین نظر آتی ہے۔
اسی رنگینی نے ایسا بانکپن دکھایا کہ ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پاکستان کے اندر گاؤں دیہات اور پسماندہ علاقوں میں نہ سڑکیں تھیں، نہ بجلی، گیس اور پانی کے مسائل حل ہوئے تھے، مگر ٹیلی وژن آ گیا تھا۔ کیونکہ پاکستان “بحران” کا شکار تھا، اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے ٹیلی وژن ضروری تھا۔
یوں گلی محلے کے کسی ایک گھر کے صحن، ڈرائنگ روم یا برآمدے میں عوام کا ہجوم بیٹھ کر وہ سب کچھ دیکھتا تھا جو حکومتِ وقت دکھاتی تھی، اور ساتھ ہی اپنے غم غلط کیے جاتے تھے۔ یہاں سے ایک عجیب سی وجدانی کیفیت عوام میں رچ بسنے لگی۔ مسئلہ حل ہو یا نہ ہو، آپ نے سوچنا نہیں ہے۔ روٹیاں کھائیں، بوٹیاں بنائیں، نوالے گنیں، اور نت نئے ڈراموں، قصے کہانیوں اور فلموں سے اپنے لمحات رنگین کریں۔
بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین ٹیلی وژن تک کی داستان پاکستان کی عوام کو بحرانوں سے تو نہ نکال سکی، ہاں بحران کی ٹینشن ضرور کم ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا، راحتیں اور بھی ہیں محبِ وطن ہونے کے سوا۔
یوں عوامی سطح پر گفتگو کا معیار بدلنے لگا۔ ایوب تو نہ رہا، بھٹو آیا۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ آیا۔ یہ تینوں چیزیں ملیں یا نہ ملیں، اس سے قطع نظر عوام کو بحرانی خوابوں سے نجات ملی۔ نعرے جوان ہوئے، امیدیں رنگ لائیں یا نہ لائیں—عوام اس بات سے ضرور روشناس ہوئی کہ جو بھی کچھ ہے، محبت کا پھیلاؤ ہے۔
نیرنگیٔ سیاستِ دوراں کو چھوڑیئے، کوکا کولا پیجیے، پیپسی پیئیں اور اپنے غم بھول جائیں۔ بھٹو ایک سحر انگیز کردار بنا، اور اس کا جادو ایسا چلا کہ بجلی کا بحران، پانی کا بحران، حیا کا بحران، اخلاق کا بحران، عزت کا بحران—یہاں تک کہ بحرانوں کا بھی بحران وقوع پذیر ہوتا چلا گیا۔
عوام کو سمجھ آیا کہ راشن کارڈ پر آٹا اور چینی لینا اچھا ہے یا اپنے ایمان و یقین کا سودا کر کے حیا اور اخلاق کو سرِ بازار نیلام ہوتا دیکھنا؟ یہ ایک عجیب بحرانی کیفیت تھی، ایک عجیب دور تھا، جس کا اختتام پھانسی پر ہوا۔
اس کے بعد گیارہ سال تک قوم نے کوئی بحران نہیں دیکھا، یہاں تک کہ بحران نہ دیکھنے کے بحران کا بھی خاتمہ ہواؤں میں تحلیل ہو گیا۔ پھر بی بی اور بابا کی باری باری سیاست نے سیاسی بحران کا آغاز کیا، اور اس کا انجام مشرف کے دور میں اخلاقیات کے تابوت میں آخری کیل گاڑھنے پر ہوا۔ حدود آرڈیننس سمیت کئی ایسے بل پاس ہوئے کہ کثیرالثقافتی اور کثیراللسانی مملکت میں روٹی کی بہتات تھی، مگر اخلاقیات کا جنازہ نکلنے کو تھا۔
بنتِ حوا کو مادر پدر آزادی کے نام پر جو خواب دکھائے گئے، گزشتہ بیس پچیس برسوں میں ان خوابوں کی عریاں لاش کبھی زینب اور کبھی کائنات الرٹ جاری کر کے ڈھانپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ کوشش ایسی ہوتی ہے کہ سر ڈھانپو تو پاؤں ننگے، پاؤں ڈھانپو تو سر کھلا رہ جاتا ہے۔
آج کیفیت یہ ہے کہ ٹک ٹاکرز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے دیگر کرداروں کے پاس کھانے کو بھی بہت ہے، پہننے کو بھی بہت، مگر اخلاقیات کا عالم یہ ہے کہ جن عورتوں کو کبھی غیر کے سامنے لاتے ہوئے شرم آتی تھی، آج فخر سے دکھایا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ کھانے کو کچھ نہیں، بلکہ اس لیے کہ ایک اخلاقی بحران کا شکار ہو چکے ہیں، جس کا سلوگن برسوں پہلے ان کے کانوں میں ڈال دیا گیا تھا کہ:
“جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے”
سو بکنے کے لیے انہوں نے گھر کی بہو بیٹیوں کے دام لگا دیے۔
انہیں باور کرایا گیا کہ:
“سب کہہ دو”
تو انہوں نے کچن سے لے کر بیڈروم تک کے راز سب کہنا شروع کر دیے۔
پاکستان اس وقت معاشی طور پر مستحکم ہوتا نظر آ رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے تازہ ترین اور مستند اعداد و شمار
(بمطابق جنوری 2026) ظاہر کرتے ہیں کہ ملک معاشی بحران سے نکل کر بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے۔
معاشی بحران میں کمی کی واضح علامات درج ذیل ہیں:
مہنگائی میں نمایاں کمی:
مئی 2023 میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو اپریل 2025 میں 0.3 فیصد کی ریکارڈ سطح تک گر گئی۔ نومبر 2025 تک سالانہ افراطِ زر کی شرح 6.15 فیصد کے قریب مستحکم رہی۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ:
اسٹیٹ بینک کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16 جنوری 2026 تک 16 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ مجموعی ملکی ذخائر تقریباً 21.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
معاشی شرحِ نمو (GDP Growth):
مالی سال 2023 میں 0.2 فیصد کمی کے بعد، مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.04 فیصد رہی۔ عالمی بینک نے مالی سال 2026 کے لیے 3 فیصد کی پیش گوئی کی ہے۔
مالیاتی استحکام:
مالی سال 2025 کے پہلے نو ماہ میں پاکستان نے جی ڈی پی کا 3 فیصد پرائمری سرپلس حاصل کیا، جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔
سٹاک مارکیٹ کا ریکارڈ:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (KSE-100) نومبر 2024 میں 100,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر چکی ہے۔
شرحِ سود میں کمی:
جنوری 2026 میں پالیسی ریٹ 10.50 فیصد پر آ چکا ہے۔
اگرچہ بنیادی ڈھانچے کے مسائل موجود ہیں، مگر ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل چکا ہے۔
جبکہ اسی پاکستان میں اخلاقی بحران کا یہ عالم ہے کہ مستند عالمی و مقامی اداروں کے مطابق:
بدعنوانی:
CPI 2024 کے مطابق پاکستان 135 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
خواتین کے خلاف تشدد:
2025 کے پہلے گیارہ ماہ میں 25 فیصد اضافہ، 2024 میں 32,617 کیسز۔
خودکشی اور سماجی عدم تحفظ:
2024 میں 548 خودکشیاں رپورٹ ہوئیں۔
انسانی حقوق:
World Report 2024 کے مطابق سیاسی و سماجی دباؤ میں اضافہ۔
عدم مساوات:
SDG درجہ بندی 2025 میں 140 تک گر چکی ہے۔
انصاف کی فراہمی:
صنفی تشدد میں سزا کی شرح محض 0.5 فیصد۔
یوں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔
غریب خودکشی اس لیے نہیں کرتا کہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، بلکہ اس لیے کہ نمود و نمائش کے کلچر نے اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔
میاں بیوی علیحدہ اس لیے نہیں ہوتے کہ گھر میں بھوک ہے، بلکہ ناجائز تعلقات، بے حیائی اور سوشل میڈیا کی دوستیوں نے رشتوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ بچے والدین کو اور والدین بچوں کو روٹی کے لیے نہیں چھوڑ رہے، بلکہ جنسی بھوک اور اخلاقی دیوالیہ پن رشتوں کے تقدس کو پامال کر رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاشرے کو اخلاقی زوال سے بچانے کے لیے صاف ستھرے معاشرے کی طرف لوٹا جائے۔
قرآن کا علم عام کیا جائے، ذکر و اذکار کی محافل سجائی جائیں، انفرادی اور اجتماعی سطح پر اخلاقیات کو فروغ دیا جائے۔
شکم سیری کے بجائے نظروں کی حیا اور رب کی قائم کردہ جنتوں کی خواہش کو ترجیح دی جائے—تو شاید یہ معاشرہ پھر سے ایک بہترین معاشرہ بن سکے۔