بسنت (یا وسنت) کا بنیادی مفہوم بہار ہے۔ نئی شروعات، تازگی اور زندگی کے دوبارہ کھلنے کی علامت۔ یہ لفظ سنسکرت سے ماخوذ ہے، جہاں وسنت اس موسم کو کہا جاتا ہے جب درختوں پر کونپلیں پھوٹتی ہیں اور زمین رنگ بدلتی ہے۔
برصغیر کی تہذیب میں بسنت صرف ایک موسم نہیں رہی۔ یہ بسنت پنچمی کے نام سے ایک ہندو تہوار بھی ہے، جسے پیلے پھولوں، زرد لباس اور پتنگ بازی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اسی پیلے رنگ نے بسنت کو خوشی، امید اور روشنی سے جوڑ دیا۔
موسیقی میں بھی بسنت اپنی جگہ رکھتی ہے۔ کلاسیکی موسیقی کا ایک مخصوص راگ، راگ بسنت، اسی موسم کی لطافت، سرشاری اور نرمی کو آواز دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ میں بسنت کا لفظ کبھی بیماری کے لیے بھی استعمال ہوا، خاص طور پر چیچک یا چہرے اور آنکھوں کی زردی کے تناظر میں۔ یوں بسنت زندگی اور خطرے، خوشی اور خوف دونوں معنوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
شاید اسی لیے بسنت ہمیشہ ایک دو دھاری علامت رہی ہے: ایک طرف بہار، رنگ اور موسیقی، اور دوسری طرف احتیاط، حد اور شعور۔ بسنت ایک موسم ہے، مگر کچھ موسم یاد بن جاتے ہیں، اور کچھ یادیں سوال۔ میری بسنت تین یادوں میں بٹی ہوئی ہے۔
یادِ اوّل: ایک بوڑھی عورت اور ریاست
2017 کی بات ہے۔
راولپنڈی کے ایک تھانے میں، ایک مانیٹرنگ وزٹ کے دوران، میں نے حوالات میں ایک بوڑھی عورت کو بیٹھا دیکھا۔
عمر نے جسم کو جھکا دیا تھا، ہاتھ کانپتے تھے، اور فضا میں بدبو بسی ہوئی تھی۔
اس کا جرم؟ وہ پتنگیں بیچتی تھی۔
ریاست نے یہ نہیں پوچھا کہ اس عمر میں وہ روزی کیوں ڈھونڈ رہی ہے۔
ریاست نے یہ نہیں سوچا کہ شاید بسنت ہی اس کی آخری امید تھی۔
ریاست نے صرف قانون دیکھا، اور قانون نے اسے قید کر دیا۔
میں نے تھانے کے اسٹاف سے پوچھا تو جواب ملا:
“یہ قانون ہے۔”
میں نے ایک اعلیٰ پولیس افسر کو فون کیا۔ شاید اس عورت کے لیے دروازہ کھلا، شاید نہیں۔
مگر وہ منظر آج بھی میرے اندر کہیں بند ہے۔
آج، 2026 میں، بسنت سرکاری اجازت کے ساتھ واپس آئی ہے۔
Punjab Regulation of Kite Flying Ordinance 2025/2026 کے تحت دھاتی تار، نائلون کی ڈور اور شیشے لگی مانجھے پر مکمل پابندی ہے۔
قانون سخت ہے، اور ہونا بھی چاہیے۔
مگر سوال اب بھی باقی ہے:
کیا قانون انسان کو دیکھ پاتا ہے؟
یادِ دوم: بسنت جو صرف پنجاب کی نہیں
بسنت کو ہم نے اکثر پنجاب تک محدود کر دیا، حالانکہ یہ تہوار سرحدوں کا پابند نہیں۔
اردو ادب اور موسیقی میں بسنت ہمیشہ زندگی، محبت اور موسم کی علامت رہی ہے۔
میری پی ٹی وی کی موسیقی سے جڑی یاد میں یہ چار گانے آج بھی تازہ ہیں:
“لو پھر بسنت آئی” ملکہ پکھراج
ایک اعلان، جیسے موسم خود دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔
“آ گئی بسنت، آ گئی” فریدہ خانم
جس میں بسنت گویا اس کے آنے کی آمد بن جاتی ہے جس کو چاہا گیا ہو۔
نیرہ نور کی آواز میں، لٹھے دی چادر کی طرز پر گایا گیا گیت
“پھولی ہے سرسوں، بکھرے خوشی کے رنگ، ماہیا”
اس میں بسنت بیک وقت ایک ٹھہرا ہوا، تڑپتا ہوا، نرم، خوش نما، خوش ادا اور اداس سا موسم لگتی ہے۔
پھر تھوڑا موڈرن، تھوڑا فلمی سا ویڈیو:
“پتنگ باز سجنا، دل ہوا بو کاٹا” فریحہ الطاف
یہ گیت ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بسنت کوئی غیر ملکی شوق نہیں، کوئی برگر کلاس کی علامت نہیں، بلکہ یہ ہماری زبان، ہمارے راگ اور ہماری یادوں میں بستی ہے۔
اور ہاں، یاد آیا بچپن میں پی ٹی وی پر حضرت امیر خسروؒ کے امر گیتوں پر مبنی ایک زبردست موسیقی کا پروگرام ہوا تھا۔ بسنت کی جڑیں اردو موسیقی سے بھی کہیں گہری ہیں۔
آج بسنت منالے سہاگن،
آج بسنت منالے۔
انجن منجن کر پیا موری،
لمبے نینر لگائے۔
تو کیا سووے نیند کی ماسی،
سو جاگے تیرے بھاگ، سہاگن،
آج بسنت منالے۔
اونچی نار کے اونچے چتون،
ایسو دیو ہے بنائے۔
شاہِ امیر توہے دیکھن کو،
نینوں سے نینا ملائے،
سہاگن، آج بسنت منالے۔
خسروؒ کا یہ بند بسنت کو محض موسم نہیں، بلکہ وصل، نسوانی سرشاری اور روحانی بیداری کی علامت بناتا ہے۔
یہی وہ بسنت ہے جو خسروؒ کے یہاں جسمانی نہیں، باطنی بہار بن جاتی ہے۔
امیر خسروؒ نے صدیوں پہلے بسنت کو صرف موسم نہیں، ایک جشنِ روح کے طور پر گایا۔
“سکل بن پھول رہی سرسوں”
یہ بسنت کسی ریاستی اجازت کی محتاج نہیں تھی۔ یہ صدیوں سے عوام کے دلوں میں زندہ تھی۔
امیر خسروؒ کے یہاں بسنت فصلوں، عورتوں، رنگوں اور زندگی کی حرکت کا استعارہ ہے۔
یہی روایت آگے چل کر راگ بسنت، ٹھمری، خیال اور قوالی میں رچ بس گئی۔
یوں بسنت محض ایک علاقائی تہوار نہیں رہی، بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیبی یاد بن گئی۔
پی ٹی وی کے ابتدائی عشروں میں بسنت صرف ایک گیت نہیں، ایک موسمی کیفیت کے طور پر نشر ہوتی تھی۔
نہ تیز ایڈیٹنگ، نہ مصنوعی رنگ، نہ شور۔
ملکہ پکھراج، فریدہ خانم، نیرہ نور
یہ آوازیں بسنت کو خاموش وقار، ٹھہراؤ اور تہذیب کے ساتھ پیش کرتی تھیں۔
یادِ سوم: ایک بہاری گیت “ بوکاٹا”
بسنت صرف اردو شاعری یا لاہور کی چھتوں تک محدود نہیں۔
پتنگ بازی بہاری ثقافت میں بھی اسی طرح رچی بسی ہےشادیوں میں، گیتوں میں، ہنسی میں۔
ایک دور تھا کہ شادیاں گھروں میں ہوتی تھیں، ہوٹل یا فارم ہاؤس میں نہیں۔
لڑکیاں خود ڈھولک بجاتی تھیں، اور بزرگ خواتین بھی گاتی تھیں۔
مجھے اپنے بچپن میں بہاری یا اردو بولنے والے خاندانوں کی شادیوں میں گائے گئے کچھ گیت آج بھی یاد ہیں۔
بڑی مزے کی کہانی ہوتی تھی۔
پتنگ بازی سے جڑا ایک گیت، جو ہمارے یہاں شادیوں میں بہت گایا جاتا تھا، یہ تھا:
“چھجے پہ پتنگ اُڑائے، ہرا یالا بنا، نظر نہ آئے
وہ تو اپنی (کسی خاتون رشتے دار کا نام لیا جاتا تھا) پیچ لڑائے
ڈھیل دو بھئی، ڈھیل دو
جانے دو بھئی، جانے دو
بو کاٹا، بو کاٹا”
وہ گیت کسی تہوار کا اعلان نہیں تھا۔
وہ زندگی کی روانی تھی۔
وہ ثقافت تھی، جو قانون سے پہلے پیدا ہوئی تھی۔
بسنت، قانون اور انسان آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
بسنت کا مسئلہ کبھی پتنگ نہیں تھا۔ مسئلہ وہ زہریلی ڈور تھی
جو صرف گردنیں نہیں، ریاست اور عوام کے بیچ اعتماد بھی کاٹ دیتی ہے۔
آج اگر بسنت ضابطوں کے ساتھ واپس آئی ہے تو یہ خوش آئند ہے۔
مگر اصل بہار اس دن آئے گی جب قانون سخت ہو، مگر رویہ نرم ہو۔
جب پولیس اور حکمرانوں کے ہاتھ میں فائل ہو، اور دل میں انسانیت۔
دعا ہے کہ اس بار خوشی صرف چھتوں پر نہ اڑے، بلکہ ریاست کے شعور میں بھی پیلا رنگ اُتر آئے؛
ایسا شعور جو گل پلازہ کی آگ، اور اس کے بعد جن تعصبات نے انصاف کے راستے روکے، انہیں نہ دہرائے۔
کاش جب قانون اور رویہ دونوں انسانیت سے سرشار ہوں، تبھی بسنت واقعی بہار بنے۔
اور دعا یہ بھی ہے کہ یہ بہار بلوچستان کے پہاڑوں، خیبر پختونخوا کی وادیوں، اور ملک کے ہر غریب، محروم اور نظرانداز کیے گئے گھر میں امید، شفا اور روشنی لے آئے۔
اور دعا یہ بھی ہے کہ پنجاب بڑا بھائی بن کر ریاست کو رہنمائی دے،
اور محصورین یعنی عشاقِ پاکستان کی وطن واپسی کو یقینی بنائے،
یا جو بنگلہ دیش ہی میں قیام کرنا چاہتے ہیں،
ان کے لیے وہاں چار ضرب چار کے اذیت خانوں کے باہر،
مکمل شہری حقوق کے ساتھ بقیہ زندگی کو ممکن بنایا جائے۔
آمین۔