ہر باشعور نوجوان کا خواب ایک پہلے سے بہتر پاکستان ہوتا ہے۔ یہی خواب اسے سیاست کی طرف کھینچتا ہے، یہی امید اسے نعروں، دعوؤں اور بیانئیوں سے جوڑتی ہے۔ تحریک انصاف نے بھی اسی خواب کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کے ذہن میں ایک حسین مگر خیالی پاکستان کی تصویر بنائی مگر بدقسمتی سے یہ تصویر حقیقت نہیں، فریب ثابت ہوئی۔
ناقص حکمتِ عملی، ناتجربہ کاری اور متبادل خفیہ ترجیحات کے سبب ناکامی چھپانے کے لیے نوجوانوں کو بار بار یہ باور کروایا گیا کہ سیاسی مخالفین ملک دشمن، چور اور غدار ہیں، جبکہ تحریک انصاف واحد نجات دہندہ ہے۔ بانیِ تحریک انصاف کو ہر عیب سے پاک، واحد مخلص رہنما بلکہ ایک برگزیدہ شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ، گویا خدا نے انہیں امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے منتخب کیا ہو۔
یہ بیانیہ جھوٹ تھا، فریب تھا اور آج بھی ہے۔
سچ اور جھوٹ کو ملا کر سوشل میڈیا پر مسلسل پراپیگنڈا پھیلایا گیا۔ نوجوانوں کو دانستہ طور پر ٹارگٹ کیا گیا، تحقیق، سوال اور سچ کی تلاش جیسے رویوں کی حوصلہ شکنی کی گئی تاکہ ذہنی کنٹرول ممکن بنایا جا سکے۔ بانی کی عبادات، مذہبی گفتگو، نماز اور تسبیح کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نمایاں کیا گیا۔ مدینہ میں ننگے پاؤں چلنے جیسی سرگرمیوں کی تشہیر اور اقوامِ متحدہ میں نمائشی تقاریر کی مارکیٹنگ کے ذریعے سیاست کو مذہب کے لبادے میں لپیٹ دیا گیا۔
یوں ایک سیاسی رہنما کو بت بنا دیا گیا ، ایک مقدس بت۔
جب ہجوم اس بت کا طواف کرنے لگا تو اسے یہ سکھا دیا گیا کہ بانی پر تنقید حرام ہے، سوال جرم ہے اور سیاسی اختلاف غداری ہے۔ سوشل میڈیا عدالت بن گیا، جج وہ نوجوان ٹھہرے جو تحقیق سے ناآشنا تھے، اور سزا گالیاں، ٹرولنگ، بدتمیزی اور الزام تراشی بنی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ سوشل میڈیا گندگی کا ڈھیر بنتا گیا، سچ دب گیا، جھوٹ راج کرنے لگا، اخلاقیات دم توڑ گئیں اور بداخلاقی شہرت کا ذریعہ بن گئی۔
جس پاکستان کا خواب دکھایا گیا تھا وہ کہیں پیچھے رہ گیا۔ تحریک انصاف کی پونے چار سالہ حکومت کے بعد جو پاکستان نوجوانوں کے ہاتھ آیا وہ پہلے سے زیادہ بدتر، سب وعدے ادھورے، دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔ اور جب بانی تحریک انصاف اپنی ڈائری سمیٹ کر گھر روانہ ہوئے تو حقائق بے نقاب ہو گئے۔ دوسروں کو چور کہنے والا خود چوری کے الزام میں گرفتار ہوا، چوری ثابت ہونے پر سزا کاٹ رہا ہے۔مگر ہجوم آج بھی اس دوہرے چہرے والے شخص کو مقدس مان کر اس کا دفاع کر رہا ہے۔
اس تاریخی منافقت، انتشار پسندی اور قومی مفادات کے خلاف سیاست کا دفاع کرنے والے قلم فروش صحافی اور ضمیر فروش یوٹیوبر آج بھی بے شرمی سے سرگرم ہیں۔ پھر اس ہجوم سے کیا شکوہ، جو بہتر پاکستان کے خواب میں نکلا تھا اور دھوکہ کھا کر دھوکے بازوں کے جال میں ہی پھنس گیا۔
اس تمام المیے کے تناظر میں وقت کا تقاضا ہے کہ شخصیات کے گرد گھومتی سیاست کو بے نقاب کیا جائے۔ نجات کسی فرد یا جماعت میں نہیں، نجات اس نظام میں ہے جو اشرافیہ نواز ڈھانچے کو بدل سکے۔ ایسا نظام جو تنقید برداشت کرے، تعریف کا محتاج نہ ہو، اور مقدس شخصیات کے بجائے نظریات پر بحث کی گنجائش پیدا کرے۔
پاکستان عوام راج تحریک اسی سمت ایک سنجیدہ قدم ہے، جو نوجوانوں کو حقیقی جمہوری سیاست کی دعوت دے رہی ہے ، جبکہ جماعتِ اسلامی برسوں سے اس جدوجہد میں مصروف ایک نظریاتی قوت کے طور پر موجود ہے۔
لیکن
سوال یہ نہیں کہ نجات دہندہ کون ہے؟
سوال یہ ہے کہ ہم کب اور کیسے شخصیات سے نکل کر نظام کی طرف آئیں گے؟