بسنت برصغیر میں منایا جانے والا ایک قدیم اور رنگا رنگ تہوار ہے جو موسمِ بہار کی آمد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا ہے اور لوگ خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اگرچہ بسنت بظاہر ایک خوشگوار تہوار ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کے ساتھ کئی سنگین نقصانات بھی جڑے ہوئے ہیں جو ہر سال قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔
بسنت مناتے وقت جان لیوا ڈور اور حادثات سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر انتہائی ضروری ہیں۔
دھاتی یا کیمیکل والی ڈور استعمال نہ کریں، موٹرسائیکل پر سیفٹی راڈ (Safety Rod) ضرور لگائیں، پتنگ بازی کے لیے کھلی چھت یا میدان کا انتخاب کریں، اور بچوں کو اکیلا پتنگ اڑانے سے روکیں۔اس کے باوجود، بداحتیاطی اور غیر ذمہ دارانہ رویّوں کی وجہ سے ہر سال کئی افسوسناک واقعات پیش آتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر میں سب سے اہم ڈور کا درست انتخاب ہے۔ شیشہ، دھات یا پلاسٹک کی حامل جان لیوا ڈور (Chemical/Metal Door) نہایت خطرناک ہوتی ہے جو انسانوں اور پرندوں دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے استعمال سے گلا کٹنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں،خصوصاً موٹرسائیکل سوار اس کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ اسی لیے صرف سادہ اور ہلکی ڈور کا استعمال ناگزیر ہے۔
موٹرسائیکل سواروں کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ موٹرسائیکل کے آگے سیفٹی راڈ (Safety Rod) نصب کریں تاکہ ڈور گلے میں نہ آئے۔ اس ایک احتیاطی اقدام سے کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، مگر افسوس کہ اکثر لوگ اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔
پتنگ بازی کے لیے مقام کا درست انتخاب بھی بے حد اہم ہے۔ بجلی کی تاروں کے قریب یا سڑکوں پر پتنگ اڑانا نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان کے لیے بھی خطرہ ہے۔ بجلی کی تاروں میں ڈور پھنسنے سے شارٹ سرکٹ، بجلی بند ہونے اور کرنٹ لگنے جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔ اس لیے کھلی جگہ یا گراؤنڈ کا انتخاب ہی محفوظ راستہ ہے۔
بچوں کی نگرانی اس تہوار میں والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ بچوں کو چھت کے کناروں پر جانے سے روکنا اور پتنگ لوٹنے کے لیے سڑک پر بھاگنے سے منع کرنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ ذرا سی لاپرواہی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔
بسنت کے نقصانات میں قیمتی جانوں کا ضیاع، بچوں اور نوجوانوں کی شدید چوٹیں، املاک کو نقصان، اور پرندوں کی ہلاکت شامل ہیں۔ پرندے ڈور میں الجھ کر زخمی یا ہلاک ہو جاتے ہیں جو ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس کے علاوہ شور شرابا اور بدامنی سے معاشرتی سکون بھی متاثر ہوتا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔
بسنت ایک تہوار سہی، لیکن اگر اسے ذمہ داری اور احتیاط کے بغیر منایا جائے تو اس کے نقصانات خوشیوں پر بھاری پڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قانون کی پابندی کریں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اس تہوار کو محفوظ اور مثبت انداز میں منائیں۔