امریکہ ڈائری: قسط نمبر 6

اٹلانٹا، جارجیا کی رات جتنی ایڈونچر سے بھرپور تھی، صبح اتنی ہی خوبصورت۔ ریاست جارجیا کا یہ شہر اپنے گھنے جنگلات اور جدید بلند و بالا عمارتوں کے امتزاج کی وجہ سے ‘شہرِ باغات’ کہلاتا ہے۔

رات کو ٹیکسی ڈرائیور جو نائیجیریا سے تھے، اسٹیون کو پک کرنے آئے تو مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ لیکن اس سے پہلے اسٹیون نے مجھے اپنے پڑوسیوں سے ملایا اور کہا کہ میں ان ہی کی طرح سیاہ فام لوگوں جیسا بے خوف ہوں اور ڈرتا نہیں ہوں۔ ان کے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کے بعد ہم نکلے اور ساتھ ہی ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں ناشتہ کرنے لگے۔ رات کی بارش نے صبح کی کرنوں کو مزید ‘تھری ڈی’ بنا دیا تھا۔ نائیجیرین ٹیکسی ڈرائیور کو بھی ناشتے میں ساتھ ملایا، ‘چائے مارکہ’ کافی پی، آملیٹ کھایا اور دوست کے گھر نکل پڑے۔ وہاں پہنچنے پر روایتی پاکستانی انداز میں مہمان نوازی ہوئی۔ عصر کی نماز پڑھی، چائے پی اور اس کے بعد اٹلانٹا کے نیبرہڈ میں نکل پڑے۔

کچھ جوان باسکٹ بال کھیل رہے تھے، ہم بھی شامل ہوئے۔ کچھ باسکٹ بال کھیلے اور انجانے میں ‘پاکستانی تکہ زندہ باد’ سے دور سے بال پھینکی جو سیدھی جال میں جا گری، جس پر بہت واہ واہ ہوئی۔ واپسی پر کلاس میٹ نے ڈاؤن ٹاؤن دکھایا اور سب سے بہترین سی این این (CNN) کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرایا۔ چونکہ میں صحافت سے منسلک رہا ہوں، اس لیے بے چینی اور دلچسپی دونوں نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا اور میں سی این این ہیڈ کوارٹر کے در و دیوار میں دیوانہ وار پھرتا رہا۔ کبھی ایک منزل، کبھی دوسری منزل پوری دلچسپی کے ساتھ جتنا ممکن ہوسکا اپنے علم میں اضافہ کیا۔

ہم پاکستان یا کسی بھی جگہ صحافت کرنے والے سی این این اور بی بی سی کو کافی جانا مانا سمجھتے ہیں۔ اب معیارِ خبر بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں خبر رسانی کو آسان کیا ہے، وہاں بنیادی ماہرانہ صحافت کا بیڑہ بھی غرق کیا ہے۔ کیا کیا جا سکتا ہے، جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہتا ہے، بہر حال سی این این کا ہیڈ کوارٹر دیکھ کر جیسے پیسے پورے ہونے کا احساس ہوا۔ ڈاؤن ٹاؤن کی بلڈنگز دیکھ کر اور روشنیوں کی آب و تاب نے 1990 اور 80 کی دہائی کی ہالی ووڈ فلموں جیسا ماحول یاد دلا دیا۔ اپنے کلاس میٹ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور رات بارہ بجے کی بس میں بیٹھے ہم واشنگٹن ڈی سی کے لیے روانہ ہوئے، جہاں ہمارے دوست، جو خیبر ٹی وی میں ہمارے ساتھ ہوتے تھے، انتظار میں تھے۔

اٹلانٹا سے واشنگٹن ڈی سی تک گرے ہاؤنڈ بس کا یہ راستہ جنوبی کیرولائنا، شمالی کیرولائنا اور ورجینیا کی ریاستوں سے ہوتا ہوا شارلٹ (Charlotte) اور رچمنڈ (Richmond) جیسے بڑے شہروں سے گزرتا ہے۔

رات 12 بجے بس چلی اور اگلے دن 4 بجے واشنگٹن اترے۔ جہاں دیدے کا ایسا عالم کہ اس راستے میں جو بھی اسٹیشن آیا وہاں میں نے اتر کر چہل قدمی کی اور آنکھوں کو خیرہ اور دماغ کو علم شناس کیا۔ راستے میں بھوک لگی تو سمجھ نہ آئے کہ کیا کھایا جائے۔ اس دوران ایک اسکارف پہنے لڑکی نظر آئی، اس کو سلام کیا اور پوچھا کہ حلال کیا چیز کھائی جا سکتی ہے کیونکہ میں کافی پی پی کر اکتا گیا تھا۔ میں چائے پراٹھے کا شوقین آدمی! ان خاتون نے بتایا کہ ٹونا فش کے سینڈوچ ہی حلال ہیں، اس لیے ان کو ترجیح میں رکھا جائے۔ پھر باقی ماندہ دن انہی پر گزارا کیا۔

یہ 17 گھنٹے کا طویل بس سفر بہت سے حوالوں سے حوصلہ افزا رہا کیونکہ بہت حد تک امریکہ کو ‘سڑک چھاپ’ انداز میں دیکھنے کا موقع میسر ہوا۔ کچھ لوگ مسلسل شراب نوشی میں مصروف رہے جس سے بس میں بدبو کا سماں رہا جس نے کافی تنگ کیا، مگر چلتی گاڑی کا نام زندگی تھا اور ہم ٹھہرے مسافر۔ اندازاً 8-10 شہروں اور ڈھیر سارے چھوٹے بڑے قصبوں سے گزر ہوا۔ کچھ زیادہ تبدیلی محسوس نہیں کی کیونکہ امریکیوں نے پورے امریکہ کو ایک ہی طرز پر بنایا ہوا ہے۔ مین ہائی ویز، اس سے جڑی سڑکیں اور ساتھ میں آباد شاندار تنظیم کے ساتھ قصبے اور شہر۔

واشنگٹن پہنچنے پر وہاں کے بڑے اسٹیشن پہ جہاں سے بس، ٹرین، ٹیکسی، ہر قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت رہتی ہے، جناب ارباب محمود علی صاحب ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔ خیبر نیوز میں سب سے شریف النفس صحافی اور کریٹیکل تھنکر۔ اللہ نے خیبر ٹی وی میں نوکری کے دوران ایک نہایت ہی خطرناک ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے کے بعد ان کو دوسری زندگی دی تھی۔ اب وہ مع فیملی امریکہ میں پشتو سروس ‘وائس آف امریکہ’ (VOA) سے منسلک ہیں۔ میری ایک کال پر لبیک کہا، بہت محبت اور شفقت سے خوش آمدید کہا اور اپنے گھر لے گئے جو ورجینیا میں واقع ہے۔ Virginia is for lovers… کیا خوبصورت علاقہ ہے! وہاں ہماری بھابھی نے پشتونوں کا روایتی کھانا تیار کیا ہوا تھا۔ گھر کی بیسمنٹ، جو باہر صحن اور ایک چھوٹے سے باغ سے منسلک تھی، ہمارا کمرہِ خاص تھا۔ اٹلانٹا کی بے چین راتوں سے واشنگٹن تک کے سفر کی تھکاوٹ جیسے پل بھر میں اتر گئی۔

ہاں یاد آیا! واشنگٹن پہنچنے پر مجھے سیدھا ارباب بھائی وی او اے (VOA) کے آفس لے گئے جہاں میرے بہت سے جونیئر اور سینئر موجود تھے۔ نام لینا تو پڑے گا: رحمان بونیری، اشفاق مومند اور ہمارے چمٹو صاحب، سب بڑے چھوٹوں سے علیک سلیک ہوئی۔ پشتو کے مشہور گائیک سردار علی ٹکر سمیت سب بڑے بڑے ناموں کے ساتھ گفت و شنید ہوئی۔ میں نے پشتونوں کے ثقافتی کھیلوں کے حوالے سے اچھا خاصا کام ترتیب دیا ہوا تھا خیبر نیوز میں۔ وی او اے کا پروگرام ‘بی بی شیرینے’، جو بیک وقت ریڈیو اور نیٹ کے ذریعے ویڈیو تشہیر کیا جاتا ہے، چل رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے خصوصی مہمان کے طور پر انٹرویو کیا۔ تفصیلاً گفتگو ہوئی اور صحافت کی یادیں لے کر ہم پہنچے ارباب محمود علی کے ڈیرے پر، ورجینیا۔

باقی اگلی قسط میں۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے