لیبیا میں سیف الاسلام قذافی کا قتل کوئی اچانک واقعہ نہیں، بلکہ ایک منطقی انجام ہے۔ یہ انجام اس سیاسی ڈھانچے کا ہے جو ایک دہائی سے لاشوں پر کھڑا ہے، اور اس ریاست کا ہے جو سقوطِ طرابلس کے بعد کبھی دوبارہ کھڑی ہی نہیں ہو سکی۔
3 فروری 2026 کی رات زنطان میں چلنے والی گولیاں کسی ایک شخص کو نہیں، ایک امکان کو مار گئیں۔ اور لیبیا کی سیاست میں امکانات کا قتل ہمیشہ اجتماعی ہوتا ہے، انفرادی نہیں۔
سیف الاسلام قذافی کو اگر محض “قذافی کا بیٹا” سمجھا جائے تو یہ تجزیہ کی بددیانتی ہوگی۔ اور اگر اسے “اصلاح پسند لیڈر” مان لیا جائے تو یہ تاریخ سے انکار ہوگا۔ وہ دراصل ایک عبوری شے تھا: ماضی اور حال کے درمیان پھنسا ہوا ایک نام، جسے نہ انقلاب قبول کر سکا، نہ ریاست، نہ عالمی طاقتیں، اور نہ ہی خود لیبیا کا بکھرا ہوا سماج۔
قذافی کے بعد لیبیا میں اصل سوال کبھی یہ نہیں رہا کہ کون حکمران ہوگا، بلکہ یہ رہا کہ ریاست کہاں ہے؟
2011 کے بعد لیبیا ایک ملک نہیں رہا، ایک جغرافیہ بن گیا، جہاں بندوقیں نظریات سے زیادہ طاقت ور ہیں، قبائل آئین سے زیادہ معتبر، اور بیرونی طاقتیں عوامی رائے سے زیادہ فیصلہ کن۔
سیف الاسلام اسی خلا میں زندہ تھا۔
وہ اس نظام کی باقیات کی علامت تھا جسے ختم تو کر دیا گیا، مگر replace نہیں کیا گیا۔ نیٹو نے حکومت گرائی، ریاست نہیں بنائی۔ انقلاب نے آمر ہٹایا، ادارے نہیں کھڑے کیے۔ اور پھر اسی ویرانے میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا قذافی دور واقعی مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، یا وہ کسی نئے چہرے کے ساتھ واپس آ سکتا ہے۔
سیف الاسلام اسی سوال کا مجسم جواب تھا، اور اسی لیے اس کا زندہ رہنا خطرہ تھا۔
اسے قتل کرنے والوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے جوڑ دینا تجزیے کو محدود کرنا ہے۔ اصل قاتل وہ سیاسی بند گلی ہے جس میں لیبیا کو دھکیل دیا گیا ہے۔ جہاں کوئی مرکزی کردار اب برداشت نہیں کیا جاتا، کیونکہ مرکز کا مطلب طاقت ہے، اور طاقت کا مطلب جنگ۔
سیف الاسلام کی موجودگی ایک polarizing factor تھی۔ اس کے گرد سیاست منقسم تھی، مگر واضح تھی۔ اس کے قتل کے بعد اب تقسیم برقرار ہے، وضاحت ختم ہو گئی ہے۔
یہی اصل نقصان ہے۔
یہ قتل دراصل اس اعلان کے مترادف ہے کہ لیبیا میں اب:
• کوئی سیاسی مفاہمت ممکن نہیں
• کوئی عبوری حل قابل قبول نہیں
• اور کوئی ایسا نام برداشت نہیں کیا جائے گا جو مستقبل کے کسی فیصلے کو اپنے گرد مجتمع کر سکے
لیبیا کا مستقبل اس لیے تاریک نہیں کہ سیف الاسلام مر گیا، بلکہ اس لیے تاریک ہے کہ اب کوئی ایسا کردار باقی نہیں جسے مار کر بھی کوئی مسئلہ حل کیا جا سکے۔
طاقت بکھر چکی ہے، اور جب طاقت بکھر جائے تو تشدد مرکز بن جاتا ہے۔
قذافی خاندان کے ساتھ ایک پوری علامت دفن ہو گئی ہے، مگر ریاست اب بھی بے کفن پڑی ہے۔ نہ مشرق جیتا، نہ مغرب، نہ طرابلس متحد ہوا، نہ بن غازی مطمئن۔ تیل اب بھی ہے، مگر اختیار نہیں۔ زمین ہے، مگر اقتدار نہیں۔
سیف الاسلام قذافی کا قتل ہمیں ایک کڑوی حقیقت یاد دلاتا ہے:
ریاستیں انقلاب سے نہیں بنتیں، صرف گرانے سے بھی نہیں۔ ریاستیں تب بنتی ہیں جب فاتح رک جانا جان لے۔ لیبیا میں کوئی نہیں رکا، سب دوڑتے رہے، اور لاشیں پیچھے رہتی گئیں۔
یہ قتل کسی انتقام کی تکمیل نہیں، بلکہ ایک طویل سیاسی ناکامی کی تازہ قسط ہے۔
اور لیبیا اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں سوال یہ نہیں کہ کون حکومت کرے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا حکومت نام کی کوئی چیز باقی بھی رہ جائے گی یا نہیں۔
یہی اصل بحران ہے۔اور یہی سیف الاسلام قذافی کی موت کا اصل مفہوم ہے۔