کوئٹہ، بلوچستان، پاکستان: یومِ یکجہتیٔ کشمیر

ہر سال 5 فروری کو پاکستان میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر منایا جاتا ہے، تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا جا سکے اور یہ یاد دلایا جائے کہ ہم ان کے دکھ اور جدوجہد کو نہیں بھولے ہیں۔ اس دن ملک بھر میں مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور یکجہتی کے اظہار کے لیے ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔

یہ مسئلہ دو جوہری ممالک کے درمیان ایک دیرینہ، حل طلب تنازع ہے۔ پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے۔ اس وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی عملی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور جنت نظیر خطے کو خاموش قبرستان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

قابض بھارتی افواج نے بدترین قوانین نافذ کر رکھے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہ خاموشی کشمیریوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگر حق نہیں ملتا تو اسے چھیننا پڑتا ہے۔ اس دیرینہ تنازع نے کئی نسلوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔

کشمیر کی تحریکِ آزادی میں اساتذہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، نوجوان، بچے گویا ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔ ان کی شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے اپنی دھرتی پر بھارت کے ناجائز قبضے کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔ اگرچہ بھارت نے وہاں ظلم کے پہاڑ توڑ دیے ہیں، مگر یہ غیور قوم آج بھی اپنی آزادی کی آواز بلند کیے ہوئے ہے۔

پاکستانی عوام نے ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، مگر بدقسمتی سے ہماری نئی نسل مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان فرق کو صحیح طور پر نہیں سمجھتی۔ مسئلۂ کشمیر ابتدا سے موجود ہے، مگر ہم آج تک اپنے بچوں کو اس کا درست شعور دینے میں ناکام رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بہت سے نوجوان بھی آج تک اس مسئلے کی گہرائی اور حقیقت کو نہیں سمجھ سکے۔

بابائے قوم ہمیشہ مسئلۂ کشمیر پر فکرمند رہے۔ محترمہ فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ بھائی کے آخری ایام میں بھی وہ کشمیر کے حق کی بات کرتے تھے۔

دنیا یہ سمجھتی رہی کہ مسئلۂ کشمیر زمین کا تنازعہ ہے، مگر پہلی دفعہ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے عالمی سطح پر اس مسئلے کی نوعیت واضح کی۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ باور کرایا کہ کشمیر کا مسئلہ زمین کا نہیں، بلکہ کشمیری عوام کے انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ عمران خان نے عالمی طاقتوں، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ عملی اقدامات کریں، نہ کہ صرف بیانات تک محدود رہیں۔ انہوں نے عوام میں شعور پیدا کیا اور اس مسئلے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت دی۔

نوجوانوں کی گرفتاریاں، شہادتیں، گھروں کو نذرِ آتش کرنا اور خواتین کی عزت کو پامال کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ عالمی خاموشی کی وجہ سے یہ مظالم اور بھی بڑھ رہے ہیں، اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف الفاظ کی حد تک ہمدردی ناکافی ہے، ورنہ ہم بھی اس ظلم میں شریک سمجھے جائیں گے۔ عملی شعور، آگاہی اور عالمی دباؤ کے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔

خود بھارتی افواج کے بعض اہلکاروں نے ان مظالم میں حصہ لینے سے انکار کر دیا، اور جب انہیں مجبور کیا گیا تو بعض نے خودکشی کر لی۔ یہ واقعات بھارت کی زیادتیوں کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔

یقیناً ایک وقت ضرور آئے گا جب کشمیری عوام اپنے حقوق حاصل کریں گے اور شہیدوں کا خون رنگ لائے گا۔ دنیا کے منصفین کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ فتح ہمیشہ حق اور سچ کی ہوتی ہے۔

یہ آرٹیکل کسی پر تنقید کے لیے نہیں، بلکہ تنقید برائے اصلاح ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے عملی کوششیں ضروری ہیں، اور یہ کوششیں تبھی ممکن ہیں جب ہم نئی نسل کو مسئلے کی نوعیت سے آگاہ کریں، عالمی سطح پر دباؤ ڈالیں، اور کشمیری عوام کے حقوق کے حصول کے لیے عملی اقدامات کریں۔

کشمیری عوام کی قربانیاں، استقامت اور حق کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ظلم کے آگے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔ دنیا کے منصفین اور عالمی طاقتیں دیر یا بدیر یہ تسلیم کریں گی کہ حق اور سچ کی فتح لازمی ہے۔

دوراندیش، سمجھدار اور باشعور شخصیات ہی عملی طور پر اس مسئلے کو حل کروا سکتی ہیں، ورنہ ہم ہر سال صرف اور صرف تقریبات اور ریلیوں کے انعقاد تک محدود رہ جائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے