امریکہ ڈائری: قسط نمبر 7

میں واقعی حقیقتاً ایک مارننگ مین ہوں۔ رات کو اللہ جلدی سونے اور صبح سویرے اٹھنے کی توفیق عطا فرماتا ہے جس کا میں بہت شکر گزار ہوں۔ جب بھی حوصلہ ہار جاتا ہوں اللہ پاک جلدی سے تھام لیتا ہے۔ مجھے اپنے رب کی یہ ادا بہت بھاتی ہے۔ کوئی یقین کرے یا نہ کرے مگر میں نے بہت مقامات پر اپنے رب کو لمحہ بہ لمحہ اپنے ساتھ پایا ہے اور اپنے رب کی محبت و عطا کو دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ یہ امریکہ سفر کے دوران بھی بہت ہوا ہے۔

بہر حال ورجینیا میں پہلی رات کے قیام کے دوران ہمارے بہت ہی ہر دلعزیز اور سینئر مجيب الرحمان بھی ملنے کے لیے آن پہنچے۔ ورجینیا امریکہ کی ایک تاریخی ریاست ہے جو اپنی خوبصورت پہاڑیوں اور سمندری ساحلوں کے لیے مشہور ہے، جہاں تقریباً 8.7 ملین لوگ آباد ہیں۔ یہاں مجیب صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یقین جانیے اگر پشتو میں کسی نے نیوز اینکر کا اور واضح الفاظ کے ساتھ پشتو کا حق ادا کیا ہے تو وہ ہیں مجيب الرحمان۔ اپنی سکرین پریزنس میں وہ کمال تھے۔ انیل کپور اسٹائل کی مونچھیں اور مردانہ آواز، چارسدہ کا یوسفزئی لہجہ اور مہارت کے ساتھ الفاظ کے ٹھہراؤ اور روانی کو مدنظر رکھتے ہوئے جس طرح وہ پشتو کی خبریں پڑھتے تھے، کم ہی اینکرز کے نصیب میں ایسا ہوا۔ آج کل ایک امریکی ریڈیو سے منسلک ہیں۔ وہ بھی باقی خیبر نیوز کے گروپ میں VOA میں میرٹ پہ سلیکٹ ہوئے تھے، لیکن بادشاہ مزاجی ایسی کہ وہاں سے استعفیٰ دے کر اچھا خاصا وقت بے روزگاری میں اور امریکہ میں حالات سے لڑ کر گزارا۔ جن دنوں میں وہاں گیا تھا مجیب دو مسائل سے دوچار تھے مگر توانا حوصلے کے ساتھ ایک والد صاحب کی جدائی نے بہت غمگین کیا ہوا تھا اور دوسرا بے روزگاری نے۔ مگر جب مجھ سے ملے بہت ہی شفقت اور محبت کا مظاہرہ کیا۔ خوب گپیں لگائیں۔

اگلے دن میں اور مجیب بھائی چل پڑے ساتھ میں ورجینیا کے بہت خوبصورت علاقے اوکوکوان (Occoquan) میں۔ مجیب بھائی کی باتیں سنتے رہے۔ مذہب پہ ڈھیر ساری باتیں ہوئیں، صحافت پہ اور امریکہ پہ۔ مجیب کی یہ مزے کی بات ہے کہ وہ آپ کو اپنے سینئر ہونے کا رعب نہیں جماتے۔ بیچ میں ہنساتے بھی ہیں، بات بھی سنتے ہیں اور سناتے بھی ہیں۔ میرے قد کو لے کر اور ٹین ایج میں کمزور ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے مجھے "لام” کا خطاب دیا تھا۔ چونکہ لمبے جوان کے شروع کی جوانی کے دنوں میں کندھے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں تو شاید میں مجیب بھائی کو "لام” دکھتا ہوں گا۔

امریکہ میں جتنی بار بھی سفر کیا میں مجیب اور ارباب محمود علی سے ملتا رہا۔ یہ نہیں دیکھا کبھی کہ امریکہ میں ذرا اپوائنٹمنٹ اور ٹائم لینا پڑتا ہے کیونکہ ہر بندہ ایک بھاگ دوڑ میں ہوتا ہے، مگر خیبر نیوز سے ہماری رفاقت اور میری کم عمری میں ان سینئرز سے بھائیوں جیسا ایسا تعلق بنا ہے کہ جو امریکہ میں بھی اپوائنٹمنٹ کا محتاج نہیں ہوتا۔ اسی علاقے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بہت متحرک اور باصلاحیت ہے، جو یہاں کی معیشت اور سیاست میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مجیب کے ساتھ اوکوکوان کا علاقہ بہت منفرد تھا، جھیل کے کنارے خوبصورت گاؤں جیسا ماحول، کیا ہی لطف اٹھایا اور مجیب ساتھ ساتھ میں اپنے چاچڑوال انداز میں کمنٹری بھی کرتے رہے جس کو تادیر بغیر تنگ ہوئے سنا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ان کو خوش رکھے، آمین۔

مجیب بھائی نے وقت دیا اور ارباب محمود علی نے اگلے دن میرے لیے سٹی بس میں پورے واشنگٹن کے ٹور کا انتظام کیا ہوا تھا۔ جیسے کالم کے شروع میں کہا میں مارننگ مین ہوں اور خوش قسمتی سے جب بھی گیا ہوں امریکہ، بالخصوص واشنگٹن ڈی سی، ارباب محمود علی کی ڈیوٹی صبح 5 بجے ہوتی تھی۔ واشنگٹن ڈی سی امریکہ کا دارالحکومت ہے جو دریائے پوٹومیک کے کنارے واقع ہے، اس کی آبادی تقریباً 7 لاکھ ہے اور یہ اپنی بلند و بالا یادگاروں کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ ناشتہ علی الصبح کر کے ہم VOA پہنچے۔ ارباب بھائی اپنے کاموں میں لگ گئے اور میں باہر نکل کر کیپیٹل بلڈنگ کے سامنے بنے پارک میں چہل قدمی کرتا رہا۔ واشنگٹن ڈی سی کا یہ علاقہ بہت ہی خوبصورت اور نظروں کو خیرہ کرنے والا ہے۔ سامنے پارلیمنٹ کی بلڈنگ اپنے آب و تاب کے ساتھ براجمان ہوتی ہے۔ نیچے تا حدِ نظر خوبصورت لمبے میدان میں ہری بھری گھاس اور ان کے دونوں جانب مناسب فاصلے میں اہم سرکاری و نیم سرکاری عمارات، ڈھیر سارے میوزیمز اور بہت کچھ دیکھنے کو۔

میں بیٹھا "ہوپ آن ہوپ آف” بس سروس میں اور شاید ہی پورے دن میں کوئی ایسا مقام ہو جو میں نے چھوڑ دیا ہو دیکھنے سے۔ واشنگٹن مونومنٹ سے لے کر پارکس اور میوزیمز سب دیکھتا رہا اور ساتھ میں جگہ جگہ حلال فوڈ کی چھوٹی چھوٹی سائیڈز پہ لگی ریڑھیوں سے برگر شوارما اٹھا کر کھاتا رہا۔ چونکہ پارلیمنٹ میں کام کرتے ہوئے دل ہی دل میں خیال آیا کہ کاش کیپیٹل یعنی پارلیمنٹ کی بلڈنگ کو اندر سے دیکھا جائے۔ خوشنما حیرت تب ہوئی جب پتا چلا کہ آپ پارلیمنٹ میں کسی بھی دن بطور وزیٹر جا سکتے ہیں وہ بھی مفت میں۔ مجھے امریکہ کا یہ انتظام بہت متاثر کر گیا۔ انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ اور عزت افزا انداز میں سکیورٹی کی جانچ پڑتال کے بعد آپ کو پوری تفصیل کے ساتھ بغیر کسی زحمت کے پارلیمنٹ کی عمارت، یہاں تک کہ اجلاس کی کاروا ئی دکھائی جاتی ہے۔ خوش قسمتی سے اس دن ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کا اجلاس بھی چل رہا تھا۔ خوب گھومے پھرے، پارلیمنٹ کی عمارت میں اجلاس دیکھا اور جب خوب گھومنے پھرنے کے بعد ارباب محمود علی کو کال کی تو وہ سامنے VOA کی عمارت کے باہر میرا انتظار کر رہے تھے۔ مجھے ممالک میں جہاں بھی گیا ہوں دارالخلافے اچھے لگے ہیں کیونکہ وہاں ایک ترتیب کے ساتھ زندگی گزرتی ہے۔

واشنگٹن جب بھی جانا ہوتا ہے ارباب محمود علی اور باقی دوستوں کے ساتھ تعلق ضرور رکھتا ہوں اور رابطہ بھی۔ اللہ ان کو خوش اور امن میں رکھے۔ کچھ دوست وہاں دین سے بھی تھوڑے متنفر ہو گئے ہیں، جس میں امریکہ کا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ میں نے جتنی مذہبی آزادی امریکہ میں دیکھی ہے کہیں نہیں دیکھی۔ ان دوستوں سے میں نے کافی بحث مباحثہ کیا۔ اتنا کہوں گا جن دوستوں نے امریکہ میں خود کو دین سے جوڑے رکھا وہ بہت پرسکون تھے اور جو دین سے عاری ہو گئے ہیں وہ بے چینی تھے۔ اللہ ایسی آزمائش سے پناہ دے کہ انسان دین حنیف سے متنفر ہو جائے۔ میرے ان رفقاء کا میں ہمیشہ دعا میں اللہ سے دین اسلام کی طرف رجوع کی درخواست کرتا ہوں۔ اللہ ہمیں ہر حال میں دین اسلام کے ساتھ جوڑے رہنے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تمام تعریفیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہیں جس کا وعدہ ہے کہ جو کوئی مسکین، رشتہ دار اور حقداروں کا حق ادا کرتا رہے گا ان صدقات اور صلاحیتوں میں سے جو اللہ نے انسان کو دیے ہیں تو وہ اللہ کریم کا مبارک چہرہ (رضا اور دیدار) بروز قیامت دیکھ پائیں گے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (پس رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین و مسافر کو بھی۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کے چہرے (رضا اور دیدار) کے طالب ہیں، اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔) سورہ روم، آیت 38۔

ملتے ہیں واشنگٹن سے نیویارک، اگلی قسط میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے