پشاور ہائی کورٹ نے کے پی پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا

پشاور ہائی کورٹ نے کے پی پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا، خیبر پختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالتی حکم نامے میں گریڈ 18 اور اس سے اوپر سینئر پولیس افسران کی تقرریاں وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا غیر آئینی قرار دے دی گئی، آئی جی پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا اختیار واپس لینا غیر قانونی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ ایکٹ میں ترامیم پولیس کی عملی خود مختاری کو ختم کرتی ہیں اور اسے سیاسی آلہ بنا دیتی ہیں، آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کی نگرانی صرف پالیسی رہنمائی تک محدود ہونی چاہیے، روزمرہ انتظامی امور، تبادلے، تعیناتیاں آئی جی کے پاس ہونی چاہئیں تاکہ کمانڈ مربوط اور نظم و ضبط برقرار رہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ غیر سیاسی اور عملی طور پر خود مختار پولیس آئینی ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ کا عمومی اختیار پالیسی معاملات تک محدود ہے، انفرادی افسران کی تعیناتی یا تبادلوں تک نہیں، آئی جی کو بائی پاس کرکے فیلڈ کمانڈرز پر کنٹرول کمانڈ اسٹرکچر کو توڑ دیتا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے حکمنامے میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے کی ذمے داری پولیس سربراہ کی ہے اور وہ صرف قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے