سبوخ سید بھائی سے متفق، مگر دہشت گرد ناکام رہے

سبوخ سید کا نام صحافتی دنیا میں نہ تو کسی تعارف کا محتاج ہے اور نہ ہی اس پر کوئی دو رائے ہو سکتی ہیں کہ ان کے الفاظ صحافت کے طالب علموں کے لیے سند کا سا درجہ رکھتے ہیں۔ اور ان کی تحریر نظر سے گزری کہ دہشت گرد کیسے اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے۔ سب سے پہلے تو سبوخ بھائی کی تحریر سے کم و بیش مکمل اتفاق ہے کہ ہم بطور قوم ایک ہیجان کا شکار ہیں۔ ہم جڑ اکھاڑنے کے بجائے سینہ کوبی پہ گزارا کرتے ہیں۔ ہم اپنا کان دیکھنے کے بجائے کتے کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور اس بات میں کوئی شبہ ہی نہیں کہ سبوخ سید بھائی جیسا باخبر، حقیقت بیان کرنے والا، اور اپنے الفاظ سے تبدیلی لانے والا صحافی کچھ بناء مقصد کہے کہ یقینی طور پر دہشت گرد ہمارے معاشرے کو نہ صرف ریخت کا شکار کر رہے ہیں بلکہ وہ ہمارے قلوب و اذہان کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ مکمل متفق۔۔۔۔ مگر ایک عرض کرنے کی جسارت ضرور چاہوں گا۔ کہ سبوخ بھائی دہشت گرد کامیاب نہیں ہوئے۔

اگر دہشت گرد کامیاب ہوتے تو کیا ہوتا؟ اگر کامیابی دہشت پھیلانے والوں کی ہوتی تو جوان بیٹوں کے لاشے سامنے رکھ کر لوگ ریاست کے خلاف چیخ رہے ہوتے۔ اگر کامیاب دہشت گرد ہوتے تو اپنے ننھے بچوں کی ادھ جلی، نہ پہچانی جانے والی لاشوں کو بازؤں میں اٹھائے ہوئے لوگ حکومت مخالف نعرہ بازی کر رہے ہوتے۔ اگر دہشت گرد کامیاب ہوتے تو آج آپ کو ترلائی کلاں اور گردو نواح کے تمام علاقے بند ملتے۔ راقم الحروف بارہا امام بارگاہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علہیا، ترلائی کلاں اسلام آباد جا چکا ہے اور بخوبی واقفیت ہے کہ یہ علاقہ جغرافیائی لحاظ سے کس قدر اہم علاقے میں ہے۔ یہاں سے آپ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سمجھیں سنگم پہ ہیں۔

اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت ہوتے ہوئے نہ ہی کوئی ریاست مخالف نعرہ لگا نہ ہی کسی قسم کی بیان بازی دیکھنے کو ملی۔ اور مجھے تو حیرت کا جھٹکا اس وقت لگا کہ جب علامہ راجہ بشارت حسین امامی صاحب خود آئی جی اسلام آباد کے ساتھ کھڑے لوگوں کو نہ صرف سنبھال رہے تھے بلکہ انہوں نے معاملات کو فہم دکھاتے ہوئے سنبھال بھی لیا۔ سبوخ سید بھائی ہمارے استاد ہیں، مگر صرف اتنا کہوں گا کہ اگر دہشت گرد کامیاب ہوتے تو پھر علامہ بشارت حسین امامی صاحب کی ایک آواز کافی تھی۔ لیکن دہشت گرد کامیاب نہیں ہوئے اسی لیے نہ تو امامی صاحب کے الفاظ میں کہیں ریاست کے لیے نفرت کا شائبہ نہیں تھا اور نہ ہی ان کا غصہ حکومت وقت کی طرف تھا۔ تمام تر زور ریاست مخالف عناصر کی سرکوبی کرنے پہ رہا۔ اور تمام ذمہ داران نے حکومت سے صرف اتنی سی درخواست کی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس لیے حقیقتاً دیکھا جائے تو دہشت گرد اتنی جانیں لے کر بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔

ایک اور اہم نقطہ سوشل میڈیا کے میدان کارزار میں رہا کہ جس کا حوالہ بھی دیا گیا لیکن دست بدست عرض یہی ہے کہ اس محاذ پر بھی سبوخ بھائی دہشت گرد ہرگز کامیاب نہیں ہو سکے۔ راقم الحروف کی اپنی ذات سے جڑے معاملات بھی امام بارگاہوں اور مساجد کے حوالے سے کافی زیادہ ہیں۔ اور حیرت کی انتہاء ہو گئی کہ جب اس واقعے کے فوراً بعد جب خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تو کسی بھی فقہ جعفریہ کی مسجد یا امام بارگاہ سے کوئی نہ تو ایسا اعلان سامنے آیا جس سے ریاست کے خلاف نفرت واضح ہو، فقہی معاملات میں تخریب کا پہلو سامنے آ رہا ہو اور نہ ہی اس حوالے سے راہنماؤں کی جانب سے کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دیا گیا۔ اور اپنے کانوں نے ایسے جملے سنے کہ لواحقین تک یہ کہتے نظر آئے کہ اگر ہمارے اپنوں کے جنازوں پر سیاست ہو تو یہ ان کی قربانی کو لاحاصل کر دے گا۔

مقصد دہشت پھیلانا تھا لیکن دہشت گرد اس لیے بھی کامیاب نہیں ہوئے کہ جب سامنے موت تھی تو بھی عون عباس نے اپنی نماز توڑ کر خود کش حملہ آور کو جا دبوچا۔ عون عباس تو چلا گیا لیکن وہ حسینی قافلے کا سالار تھا اور یہ واضح کر گیا کہ وہ دہشت گردوں کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ دہشت گرد اگر کامیاب ہوتے تو آج آپ کو لاشے اپنے مدفن میں جاتے نہ نظر آتے بلکہ اسلام آباد ایکپسریس وے اس وقت بلاک ہوتا اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ رہے ہوتے۔ لیکن حسینی قافلے کے شہداء کے لواحقین کا صبر تو دیکھیے کہ آج بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور امامی صاحب جیسے راہنما، جو کرنے کو کچھ بھی کر سکتے ہیں، آئی جی اسلام آباد کے ساتھ کھڑے ہو کر معاملات سنبھال رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پہ جو کچھ عناصر سبوخ بھائی یا کسی بھی صحافی کو نظر آتے ہیں وہ نا تو فقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی پاکستانیت سے۔ یہ تو قربانیوں کی ایک داستان ہے جو رقم ہوئی ہے۔ دہشت گردوں کی ناکامی کی بھلا اور کیا دلیل ہو گی کہ اپنے جنازے اٹھائے لوگ، سوائے لبیک یا حسین علیہ السلام، پکارنے کے کوئی ریاست مخالف نعرہ نہیں لگا رہے، نفرت انگیز تقریر نہیں کر رہے، روڈ بلاک کرنے کی دھمکی نہیں دے رہے، دارلحکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی صدا نہیں دے رہے، ذمہ داروں کے تعین تک جنازے دفن نہ کرنے کی دھمکی نہیں دے رہے، بہتے آنسوؤں کے ساتھ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کیے جا رہے ہیں، بیٹا، باپ، بھائی، کفن میں ہیں پھر بھی ہمت ان کی جواب نہیں دے رہی۔

اگر سبوخ بھائی دہشت گرد کامیاب ہو جاتے تو یقین مانیے حالات بہت مختلف ہوتے۔ بسنت کا کیا ہے کروڑوں کے نقصان کا کیا ہے پھر پورا ہو جائے گا، ہاں لیکن اس وقت دہشت گرد ضرور کامیاب ہو جاتے اگر وہ ایک بھی ذہن کو ریاست مخالف کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ یہ حسینی قافلہ ہے اور یہ دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ جنازے اٹھتے رہیں گے، نئے سالار سامنے آتے رہیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے