وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جمعے کی نماز کے دوران مسلمانوں پر حملہ آور ہونا افسوس ناک ہے، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ان کا کام بدامنی پھیلانا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا اصل مقصد ہے، ترلائی حملے کی تحقیقات میں بہت حد تک پیشرفت ہوچکی ہے، ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، وہان تک ان کا تعاقب کریں گے جہاں تک ان کی سوچ بھی نہیں جاتی۔
عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پیغام امن کمیٹی بنائی ہے جس میں ہر مذہبی مکتبہ فکر کے نمائندے شامل ہیں، دہشتگرد کمزور پڑچکے ہیں اس لیے مضافات میں جا کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ ترلائی حملہ آور کے بارے میں معلوم ہوچکا ہے کہ افغانستان گیا ہوا تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے بات ہوئی ہے، امام بارگاہوں کی سیکیورٹی مزید موثر بنائیں گے، آئی جی اسلام آباد پولیس ناصر رضوی کا کزن بھی واقعے میں شہید ہوا، پولیس اپنی پوری کوشش کرتی ہے، مزید اقدامات کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں دہشتگردی ختم ہوگئی تھی لیکن ایک حکومت آئی اور دہشتگردوں کو دوبارہ لا کر بسا دیا، ہم نے ان کے خلاف موثر کارروائی کی ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے میں 31 افراد شہید جبکہ 160 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔