اسلام آباد میں چھ فروری کو جمعے کی نماز کے دوران ترلائی کے علاقے میں خدیجۃ الکبریٰ امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی خبر آئی۔ لوگ مرے۔ یعنی شہید ہوئے۔ زخمی ہوئے۔ خون بہا۔ میڈیا بلیک آؤٹ آن آف رہا۔ چیخیں گونجیں۔ اور پھر۔۔۔ زندگی آگے بڑھ گئی۔
لاہور میں بسنت کے جشن جاری رہے۔ پتنگیں اڑتی رہیں۔ ڈھول بجے۔ ٹریفک رواں رہی۔ ریستوران بھرے رہے۔ معاشی اکانومی کو فائدہ ہوا، یہ بھی سنایا گیا۔ مورل اکانومی کی بات کون کرتا ہے؟
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ہمارا معمول ہے۔
کراچی میں گل پلازہ جلا تھا گرا تھا۔ مجرمانہ غفلت۔ بلڈنگ کوڈز کی دھجیاں۔ بے بس انسان مر گئے، بہت بے بسی میں۔ چند روز خبریں آئیں۔ پھر خاموشی۔ کوئی تحقیقاتی رپورٹ نہیں۔ کوئی احتساب نہیں۔ بیواؤں اور یتیموں پر کوئی فیچر نہیں۔ معذور ہونے والوں کی کوئی کہانی نہیں۔
ایسا صرف گل پلازہ کے ساتھ نہیں ہوا۔ ایسا ہر حادثے کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر دھماکے کے ساتھ۔ ہر لاپرواہی کے ساتھ۔
میڈیا کا سائیکل آگے بڑھ جاتا ہے۔ زندگی آگے بڑھ جاتی ہے۔ صرف وہ خاندان رک جاتے ہیں جو اپنے پیاروں کو کھو چکے ہوتے ہیں۔ اپاہج ہو کر سانس لیتے ہوئے مرنے والوں پر رشک کرتے ہیں۔
ہم سب کی قیمت ڈومیسائل اور اوقات کے حساب سے ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں میں طے شدہ ہے۔ شاید یہی اچھی حکمرانی ہے۔ جی ہاں، حکمرانی، کیونکہ خدمت کا تصور تو ہے ہی نہیں۔
میں نے بنگلہ دیش کے نام نہاد کیمپوں میں اپنی بے رحمی سے بھلائی ہوئی، گلتی سڑتی، سسکتی ہوئی پاکستانی بہاری برادری پر کئی برسوں سے لکھتے ہوئے براہِ راست یہ دیکھا ہے کہ یہ سب کچھ کتنا اہم ہے کہ کون کیا ہے؟ کس کی کیا اہمیت ہے؟ رنگ، نسل، عقیدہ، مذہب، سماجی وقعت سب ہی اہمیت رکھتے ہیں، جینے میں بھی، مرنے میں بھی۔ لیکن سب سے زیادہ اہمیت طبقے کی ہے۔
سوشل میڈیا نے کئی "سیکرٹس” عام کر دیے۔ اب اکثر لوگ، جس میں ہم بہاری بھی شامل ہیں، برادری کو پروین شاکر، طارق فاطمی، ڈاکٹر اقبال احمد جیسی روشن، باصلاحیت، باوقار اور کامیاب شخصیات سے پہچانتے ہیں۔ لیکن انہوں نے بنگلہ دیش میں پھنسے اپنی برادری کے کم نصیب لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا یا کچھ خاص نہیں کیا۔ یہ کوئی الزام نہیں۔ یہ المیہ ہے۔ کامیابی انسان کو اپنی جڑوں سے جدا کر دیتی ہے۔
ایسا ہی کچھ میں نے یہاں دیکھا۔ جب میں نے اپنے شیعہ دوستوں سے کہا کہ وزیرِ داخلہ محترم محسن نقوی شیعہ ہیں، پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس شیعہ ہیں، تو جواب میں ایک تکلیف دہ خاموشی ملی اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ۔ اس خاموشی میں سب کچھ تھا۔ وہ جانتے ہیں۔ اور جاننا کچھ نہیں بدلتا۔
اشرافیہ ایک الگ طبقہ ہے۔ اُس کا اپنا مذہب ہے۔ اپنی نسل ہے۔
میرے کچھ خیرخواہوں نے مجھے کہا ہے کہ "اس جلتے ہوئے مسئلے پر نہ لکھو، تم خود جل جاؤ گی۔ رخشندہ، تم تو پہلے ہی اس سسٹم کی وکٹم ہو۔” وہ شاید ٹھیک کہتے ہیں۔
ہوشیار لوگ برف سے ڈھکے طاقتور دارالحکومتوں میں کانفرنسز، ویزا، فیلوشپس حاصل کرتے ہیں اور اچھے ماحول میں بیٹھ کر بین المذاہب ہم آہنگی پر بات کرتے ہیں۔ وہاں محفوظ ہیں۔ وہاں خطرہ نہیں۔
لیکن میں یہاں ہوں۔ جہاں آگ لگی ہے۔ تو پھر لکھوں کیوں؟
اس لیے کہ کسی کو تو گواہ بننا ہوگا۔ اس لیے کہ بنگلہ دیش میں پھنسے بے وطن "پاکستانیوں” کے المیے نے مجھے سکھایا کہ خاموشی بھی ایک انتخاب ہے۔ اس لیے کہ جوش ملیح آبادی نے پکارا تھا:
"آگ دنیا میں لگی ہے، پانی یا حسین”
اگر اب نہیں تو کب؟ اگر میں نہیں تو کون؟
امام بارگاہ میں جو لوگ مرے، وہ کوئی سرخیل نہیں تھے۔ کوئی وزیر نہیں تھے۔ کوئی وی آئی پی نہیں تھے۔ وہ عام لوگ تھے۔ غریب۔ بے بس۔ غریب اور بے بس ہمیشہ آسان نشانے ہوتے ہیں۔
گل پلازہ میں مرنے والے بھی یہی تھے۔ ہر حادثے میں مرنے والے یہی ہیں۔ اور اُن کے لیے، یعنی نان ایلیٹ کے لیے، کوئی نہیں بولتا۔ کوئی تحقیقات نہیں ہوتیں۔ کوئی احتساب نہیں ہوتا۔
میں کوئی حل نہیں رکھتی۔ میں کوئی سیاستدان نہیں۔ میں صرف ایک عام سی لکھاری ہوں جو اپنے شہر میں، اپنے ملک میں، اپنے لوگوں کے درمیان، یہ دیکھ رہی ہے کہ کس طرح جان کی قیمت طبقے سے طے ہوتی ہے۔
شاید میرے الفاظ کچھ نہیں بدلیں گے۔ شاید کل یہ کالم اگر چھپ بھی گیا تو نہ تو وائرل ہوگا نہ کوئی بے باک صحافی یا دانشور اس کو کوٹ کرے گا/گی۔ پھر اس میں کوئی مسالا نہیں ہے۔
لیکن خاموشی سے بہتر ہے کہ آواز اٹھے۔ چاہے کمزور ہو۔
جب بھی میں ایسی باتیں کرتی ہوں تو مجھ سے سوشل میڈیا کے صارفین اکثر پوچھ بیٹھتے ہیں کہ کیا آپ شیعہ ہیں؟ کیا آپ پٹھان ہیں؟ کیا آپ پنجابی ہیں؟ آپ بہاری تو نہیں لگتیں؟
میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان کو رومی کی دنیا میں لے جاؤں اور یہ اشعار حفظ کروا دوں۔ مولانا جلال الدین رومی کہتے ہیں:
چه تدبیر ای مسلمانان که من خود را نمیدانم
نه ترسا و یهودم من، نه گبر و نه مسلمانم
نه از شرقم، نه از غربم، نه از برّم، نه از بحرم
نه از کانِ طبایعام، نه از افلاکِ گردانم
مکانم لا مکان باشد، نشانم بینشان باشد
نه تن باشد، نه جان باشد، که من از جانِ جانانم
ترجمہ:
کیا کروں اے مسلمانو، میں خود کو نہیں جانتا
نہ عیسائی ہوں نہ یہودی، نہ ہندو نہ مسلمان
نہ مشرق کا ہوں نہ مغرب کا، نہ خشکی کا نہ سمندر کا
نہ عناصر کی کان سے ہوں، نہ گردش کرتے آسمانوں سے
میری جگہ بے جگہ ہے، میرا نشان بے نشان ہے
نہ جسم ہوں نہ روح، کیونکہ میں اپنے محبوب کی جان سے ہوں
چند پڑھے لکھے پیارے لوگ جو رومی سے میرے عشق سے واقف ہیں، مجھ کو سمجھاتے ہیں کہ رومی کے بارے میں بھی کامن سینس کا ساتھ رکھنا لازم ہے۔ کیا پتا پاکستان میں ان کا کون سا کلام ناپسند کیا جائے۔
میں کہتی ہوں، پھر بلھے شاہ کا اور دیگر علاقائی صوفی شعرا کا کیا کریں گے؟ سب ہی کمپلائنٹ چیک لسٹ سے باہر ہیں؟
حال ہی میں پانچ فروری کو کشمیر ڈے منانے کا فریضہ بھی سرانجام دیا گیا۔ آپ سب کی نذر ظہیر کاشمیری کی یہ غزل:
موسم بدلا، رت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے
اہلِ جنوں بے باک ہوئے، فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے
گل بوٹوں کے رنگ اور نقشے اب تو یوں ہی مٹ جائیں گے
ہم کہ فروغِ صبحِ چمن تھے پابندِ فتراک ہوئے
مہرِ تغیر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا
صدیوں کے افتادہ ذرے ہم دوشِ افلاک ہوئے
دل کے غم نے دردِ جہاں سے مل کے بڑا بے چین کیا
پہلے پلکیں پر نم تھیں، اب عارض بھی نمناک ہوئے
کتنے الھڑ سپنے تھے جو دورِ سحر میں ٹوٹ گئے
کتنے ہنس مکھ چہرے فصلِ بہاراں میں غمناک ہوئے