امریکہ میں قیام کے دوران آپ کو جا بجا نت نئے مقامات اور علمی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ واشنگٹن میں بنے بہت سارے میوزیم اس حوالے سے کافی متاثر کن ہیں۔ یہاں خلائی ٹیکنالوجی سے لے کر بشریات (Anthropology) اور تاریخ پر آپ کو بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں تقریباً 70 سے زائد چھوٹے بڑے میوزیم موجود ہیں، جن میں ‘نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم’ اور ‘نیچرل ہسٹری میوزیم’ اپنی مثال آپ ہیں۔
مزید برآں یہ کہ وہ اپنے ان لوگوں کو نہیں بھولے جو ان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں آپ کو جگہ جگہ ان کے مجسمے دیکھنے کو ملیں گے۔ ان میں ابراہام لنکن، تھامس جیفرسن اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جیسے عظیم رہنماؤں کے یادگار مجسمے اور یادگاریں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں اشفاق مومند سے بھی ملاقات ہوئی جو خیبر نیوز میں میرے سینئر اسپورٹس رپورٹر تھے۔ وہ کرکٹ کے بہت دلدادہ ہیں، لہٰذا انہوں نے کرکٹ میچ کا بھی بندوبست کیا جو ہم نے خوب انجوائے کیا۔ رحمان نے الگ دعوت رکھی۔ میں سب کا شکریہ بطورِ قلم اس لیے ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ انسان کو رزق اللہ پاک دیتے ہیں اور پرانے رفقاء کار کا ایک دوسرے کے ساتھ یہ خلوص اور محبت پرائے دیس میں ایک دوسرے کے لیے اللہ کی منشا سے عزت دینے کا اچھا انداز ہوتا ہے۔
واشنگٹن پھر بھی آنا ہوا اور بار بار ان دوستوں سے ملتے بھی رہے۔ سب کے لیے اللہ پاک کی جانب سے ڈھیر ساری دعاؤں اور احترام کے ساتھ ہم آگے کا رخ کرتے رہے اور اللہ مستقبل میں بھی صحت و عافیت کے ساتھ اور ملک کی خدمت کا جذبہ لیے ایسے موقع فراہم کرے۔ واشنگٹن سے آگے ہماری منزل تھی نیویارک۔ بس کا ٹکٹ لیا اور چار گھنٹے میں پہنچے ہم نیویارک۔ موسم جتنا شاندار واشنگٹن میں تھا، اتنا ہی سرد نیویارک میں تھا۔
ہمارے اسمبلی کے پرانے ساتھی چوہدری بلال، جو ماشاء اللہ اب امریکہ میں ہی زندگی بسر کر رہے ہیں، ہمیں لینے پہنچے بس اسٹیشن پہ اور سیدھا لے کر گئے بروک لین (Brooklyn)۔ ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا۔ ان کا خلوص، ان کی مہمان نوازی دل کو چھو لینے والی تھی۔ بروک لین کی عمارتیں پوری ہالی ووڈ کی فلموں کی یاد دلاتی ہیں۔ جگہ جگہ سرخ اینٹوں سے بنی عمارتیں اور ان کے باہر اسٹیل کی سیڑھیاں وہی منظر پیش کرتی ہیں جو کبھی ہم نے فلموں میں دیکھے تھے۔
رات آرام کیا اور چوہدری بلال کے اور دوستوں کے ساتھ بھی اچھی خاصی گپ شپ ہوئی۔ سب نوجوان تھے جو بسلسلہ روزگار و معاش آئے ہوئے تھے امریکہ میں اور چوہدری بلال ان کے سربراہ کے طور پہ سب کو سنبھال رہے تھے۔ چوہدری بلال ایک جوان جو حوصلے کا پیکر ہے۔ اتنی محنت و عظمت کے ساتھ وہ امریکہ میں اپنا حلال رزق کما رہے ہیں کہ دل خوش ہو گیا، انہوں نے زیرو سے اسٹارٹ لیا۔ ایسی کوئی مزدوری نہیں جو بلال نے نہ کی ہو حالانکہ سیالکوٹ کے چوہدری ہیں۔
اگلی صبح اٹھنے کے ساتھ ہی مجھے اپنے ہاتھ سے بنے پراٹھے، انڈے اور چائے پیش کی۔ اور میرا پورے نیویارک گھومنے کا ایک سستا اور مؤثر پروگرام بھی ترتیب دیا۔ ہر وقت چہرے پہ مسکراہٹ لیے اپنے محدود وسائل کے ساتھ چوہدری بلال نے دل خوش کر دینے والا ماحول بنایا۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی بیٹی کا تذکرہ کرنا جس کو وہ بہت مس کرتا تھا اور والد صاحب جو دنیا سے رخصت ہوئے مگر پردیس نے بلال کو موقع نہ دیا ان کے آخری دیدار کا۔ لوگ کہتے ہیں امریکہ میں رہتا ہے، کماتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ دیارِ غیر میں کیا کیا جھیلنا پڑتا ہے یہ تو بلال جانے اور بلال جیسے بہت اور پاکستانی جو دو وقت کی معاش کے لیے اپنے بھی کھو دیتے ہیں۔ مجھے یہ احساس اور بلال کا دکھ کبھی نہیں بھولتا۔ اللہ بلال اور ان تمام دوستوں یاروں کے والدین کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
کیوں نہ نیویارک کو اگلے کالم میں پڑھا جائے؟ اور اس کالم کا اختتام ماں باپ کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کے حوالے سے کیا جائے:
حدیثِ مبارکہ: آپ ﷺ نے والدین کی خدمت اور ان کے بلند مرتبے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"لو كنت في الصلاةِ ، فدعاني أبي وأمِّي ، لأجبتُهما” (الجامع الصغير: 7421)
ترجمہ: "اگر میں نماز پڑھ رہا ہوتا اور میرے والد یا میری والدہ مجھے پکارتے (اے محمد!) تو میں (نفل) نماز چھوڑ کر ان کی پکار پر لبیک کہتا۔”
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وآخر دعوانا ان الحمد للہ۔