ایک پاکستانی کا خط سنی دیول کے نام

مکان نمبر 1947
پی آئی بی کالونی
کراچی

سنی دیول تمھیں کیا ہوگیا ہے۔تم تو اچھے بھلے اداکار تھے۔ہم نے بچپن میں تمھاری بہت سی فلمیں دیکھیں اور تمھارے کام کی تعریف بھی کی۔ ہم تو تمھیں ایک سنجیدہ طبعیت کا باوقار آدمی سمجھتے تھے۔تم تو نہایت شر میلے قسم کے بندے تھے مگر پھر تمھاری فلم غدر آئی اور اس کے بعد تم خود کو بھارتی فوجی سمجھنے لگے۔ اچھا اداکار تو وہ ہوتا ہے جو فلم کے کردار کو نبھائے اور اپنی ذات کو الگ رکھے مگر نجانے تمھارے اوپر کیا بھوت سوار ہوا کہ تمھارے اندر سے ایک تعصب کرنے والا آدمی باہر نکل آیا اور وہ سنی دیول جو کسی زمانے میں بر صغیر کا چہیتا ہیرو ہوا کرتا تھا وہ ولن بنتا چلا گیا۔

ہم نے پھر بھی تم سے پیار کیا۔ ہم جانتے تھے کہ فلموں میں تو کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ اداکار کی مجبوری ہوتی ہے۔پھر چند سال پہلے جب تم گرو نانک صاحب کے جنم دن کی تقریبات کے سلسلےمیں پاکستان آئے تو ہم نے تمھیں ویلکم کیا۔تمھارے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کیا گیا۔ تم ہمارے فوجی جوانوں کے سامنے بھیگی بلی بنے رہے اور سہمے سہمے بیٹھے رہے مگر اس وقت بھی کسی نے تمھیں ٹرول نہیں کیا۔ تمھارا ڈھائی کلو کا ہاتھ کانپتا ہوا محسوس ہوا۔

تم بھی تو پنجاب کی سر زمین سے تعلق رکھتے ہو جو محبت اور امن کی گیت گاتی ہے۔ وائے گرو کی تعلیمات بھی پیاروالفت کا درس دیتی ہے۔اور پھر تم اس انسان کے بیٹے ہو جسے لوگ دھرمیندر کے نام سے جانتے ہیں۔ جس نے کبھی دلوں میں نفرت کے بیج نہیں بوئے ہمیشہ اچھی بات کہی چاہے ذاتی زندگی ہو یا پھر فلم اس نے ہمیشہ اپنے پر ستاروں سے پیار ہی کیا مگر تم نے تعصب کا جو بیج اپنے دل میں ایک عرصے سے بویا ہوا ہے اس کی وجہ سے پاکستان کے لاکھوں فین تم سے شدید ناراض ہیں۔ فنکار کی تو کوئی سرحد٬ کوئی سیما نہیں ہوتی پھر تمھیں آخر کیا ہوگیا؟ جو تم اس نفرت کے کھیل میں شامل ہوگئے۔غدر ٹو اور اب بارڈر ٹو کے بعد تم نے ثابت کردیا کہ اب تم صرف انڈین اداکار ہو کیوں کہ تم اداکاری کم اور مکاری زیادہ کر تے ہو۔ یاد رکھو فلمیں چلیں یا نا چلیں ایک فنکار کا لوگوں کے دلوں میں زندہ رہنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ تم اگر کسی کے اشارے پر ایسی فلمیں کر رہے ہو تو یاد رکھو راحت اندوری کا شعر ہے کہ

جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے

سنی دیول مودی کی شدت پسند حکومت امن وامان کی دشمن ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جن کا کام دنیا میں آتنک پھیلانا ہے۔ ان کی حکومت میں کوئی خوش نہیں ہے یہ نہ مسلمانوں کے ہیں اور نہ ہندوؤں کے بلکہ پڑوسی ملکوں کے لیے بھی وبال جان ہیں۔ ان کی حکومت میں مسلمان اداکار بھی محفوظ نہیں ہیں۔ آج تک جاوید اختر کو اپنا گھر نہیں نصیب ہوسکا۔ شاہ رخ خان عامر خان اور سلمان خان جیسے بڑے لوگوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان سپر اسٹار کا یہ حال ہے تو عام مسلمان کس طرح رہتے ہوں گے۔مودی سرکار ہی کی سازش ہے کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا فلمیں بنائی جائیں اور اشتعال پھیلایا جائے۔ اس کی مثال فلم دھریندر ہے جس میں لیاری کی سیاست کے حوالے سے من گھڑت فلم بنائی گئی ہے۔ یہی نہیں ابھی حال ہی میں تمھاری مووی بارڈر ٹو ریلیز ہوئی ہے۔ جس میں تم نے پھر ہمارے ملک کے خلاف زہر اگلا ہے۔

تم کیا سمجھتے ہو کہ تم اس طرح کی کارٹون فلمیں بناکر اپنے لوگوں کے دل جیت لو گے اور ہمیں خوف میں مبتلا کردو گے ہرگز نہیں اگر تم یہ سمجھتے ہو تو یہ تمھارے حق میں اچھا نہیں ہے اور نہ تمھاری عمر٬ان حرکات کی اجازت دیتی ہے۔ابھی تمہاری ہی برادری کے ایک اداکار نانا پاٹیکر نے فلم بار ڈر ٹو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب پاکستان مخالف فلمیں بنانے کا کوئی فائدہ نہیں پڑوسیوں کے ساتھ پیار وامن کے ساتھ رہنا چاہیے ۔کاش تم بھی اس طرح کی بات سوچ سکتے اور ہاں ابھی بارڈر ٹو میں جو تم نے ڈائیلاگ بولا ہے کہ آواز لاھور تک جانی چاہئیے تو تمھاری لیے یہی کہوں گا کہ اس عمر میں زیادہ چیخنا چلانا مناسب نہیں ہے۔تم پہلے بھی ہمارےملک میں آکر کیا اکھاڑسکے ہو یہ ڈائیلاگ بول رہے ہو ایسے ڈائیلاگ فلموں کے لیے بچا کر رکھو ہمارے بچے بچے کا ہاتھ ڈھائی کلو کا ہے کسی دن پڑ گیا تو ہوش ٹھانے آجائیں گے کیا سمجھے یاد رکھو۔

آخر میں بابا بھلے شاہ کا کلام تمھاری نذر کر رہا ہوں ۔

غصے وچ نا آیا کر
ٹھنڈا کر کے کھایا کر
پیار دے ایسےبوٹے لا
سارے پنڈ تے سایہ کر
اپنے اندرون جھوٹ مکا
سچ دا ڈھول بجایا کر
من اندر تو جھاڑو دے
اندر باہر صفایا کر

خدا حافظ

ایک پاکستانی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے