پیر مرغا شریف

پوٹوہار کے علاقے میں ایک ایسا مزار بھی ہے جس میں ایک مرغا دفن ہے۔

جی ہاں، پورا مرغا۔ نہ استعارہ، نہ علامتی جملہ، نہ کسی سیاست دان کا طنزیہ لقب۔ باقاعدہ مرغا۔ اگر آپ اب تک انسانوں کے مزارات تک محدود تھے تو آپ ابھی روحانیت کی اُس منزل پر نہیں پہنچے جہاں پولٹری بھی روحانی سرمایہ بن جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ ایک بزرگ کا مرغا تھا۔ بزرگ اللہ والے تھے، سادہ مزاج تھے، اپنے حال میں مگن رہنے والے۔ مرغا ان کے پاس رہتا تھا۔ اب بزرگ دنیا سے رخصت ہوئے تو عقیدت مندوں نے سوچا کہ ان کی یاد کو کیسے زندہ رکھا جائے۔ کسی نے کہا ان کی تعلیمات عام کی جائیں۔ کسی نے کہا ان کے اخلاق اپنائے جائیں۔ مگر اجتماعی دانش نے فیصلہ کیا کہ تعلیمات مشکل ہیں، مرغا آسان ہے۔

یوں بزرگ پس منظر میں چلے گئے اور مرغا پیش منظر میں آ گیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مرغا “سرکاری مرغا” بن گیا۔ یعنی اب وہ صرف پرندہ نہیں، باقاعدہ روحانی شناخت ہے۔

سوچیے، اگر وہ بزرگ اپنی قبر سے سر اٹھا کر دیکھیں کہ ان کی پہچان اب ان کے وعظ، تقویٰ اور سادگی سے نہیں بلکہ ایک مرغے سے ہے تو کیا کہیں گے؟ شاید یہی کہ میں نے تمہیں اللہ کی طرف بلایا تھا، تم مجھے مرغی خانے تک لے آئے۔

بزرگوں نے کبھی یہ نہیں چاہا تھا کہ ان کے بعد ان کو ان کے عقیدت مند کارٹون بنا دیں۔ انہوں نے اگر مرغے سے محبت کی بھی تو وہ محبت تھی، عقیدہ نہیں۔ مگر ہم نے محبت کو تقدیس میں، تقدیس کو رسم میں، اور رسم کو کاروبار میں بدلنے میں کبھی دیر نہیں لگائی۔

اصل مسئلہ مرغا نہیں، اصل مسئلہ ذہن ہے۔ ہمیں اصل بات سے زیادہ سائیڈ کردار پسند آتا ہے۔ ہمیں فکر نہیں چاہیے، ہمیں قصہ چاہیے۔ ہمیں عمل نہیں چاہیے، ہمیں علامت چاہیے۔ بزرگ کی تعلیم ایک طرف، مرغا دوسری طرف — اور ہم پورے خشوع کے ساتھ مرغے کے گرد۔

یہ سب کچھ صرف سادہ لوحی نہیں، یہ جہالت اور اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اسلام نے توحید سکھائی، عقل سکھائی، سوال سکھایا۔ ہم نے سوال کو گستاخی بنا دیا اور ہر روایت کو کرامت۔

اور پھر وہ لوگ جنہیں علم حاصل ہے، وہ کہاں ہیں؟ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ بزرگ کی نسبت کو اس طرح پیش کرنا درست نہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام جذبات میں بہہ رہی ہے۔ مگر وہ خاموش ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ حلقہ انتخاب حساس ہے۔ کیونکہ ووٹ قیمتی ہے۔ کیونکہ کہیں اصلاح کی بات کر دی تو ناراضی نہ ہو جائے۔

انہیں یہ فکر تو ہے کہ لوگ کسی اور کو ووٹ نہ ڈال دیں، مگر یہ فکر نہیں کہ لوگ غلط عقائد میں مبتلا ہو کر کہاں جا رہے ہیں۔ انہیں یہ پریشانی ہے کہ سیاسی توازن بگڑ نہ جائے، مگر یہ پریشانی نہیں کہ عقیدے کا توازن بگڑ چکا ہے۔

اور اگر اسی روش پر چلنا ہے تو پھر واقعی زیادہ فرق نہیں رہ جاتا۔ ایک طرف مرغے کی قبر کی زیارت ہو رہی ہے، دوسری طرف گائے کی عبادت ہو رہی ہے اور اس کے پیشاب کو بطور تبرک استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم وہاں دیکھ کر طنز کرتے ہیں، یہاں دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ جب جانور تقدیس کا مرکز بن جائیں تو لیبل بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔

ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں ہمارا دین کامل ہے۔ یقیناً کامل ہے۔ مگر ہمارے اعمال؟ ہم نے دین کو بھی مقامی رنگ میں اس طرح رنگ دیا ہے کہ اصل تصویر دھندلا گئی ہے۔ بزرگ کا پیغام اگر اللہ سے تعلق مضبوط کرنا تھا تو ہم نے اسے مرغے سے تعلق مضبوط کرنے میں بدل دیا۔

پوٹوہار کا وہ مرغا دراصل ہماری ترجیحات کا مجسمہ ہے۔ ہم نے اصل کو چھوڑ کر ضمنی کو تھام لیا ہے۔ ہمیں پیغام سے زیادہ پیکنگ پسند ہے۔

سوال یہ نہیں کہ واقعی مرغا وہاں دفن ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہماری عقل کہاں دفن ہے۔

جب تک علم رکھنے والے مصلحت کا کمبل اوڑھے رہیں گے، جب تک سیاست دین پر نہیں بلکہ ووٹ پر مرکوز رہے گی، جب تک عوام تحقیق کے بجائے روایت پر سر رکھ کر سو جائیں گے، تب تک سرکاری مرغا زندہ رہے گا۔

فی الحال آپ مرغا قبر سے گزارا کریں۔ ویسے سنا ہے مبینہ طور پر ایبٹ آباد کے علاقے میں ایک کھوتا قبر بھی ہے۔ اگلے کسی کالم میں کھوتے کی تفصیلات کے ساتھ حاضر ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے