انسان زندگی کی حقیقت اس لمحے پاتا ہے جب اسے یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ ’’میں‘‘ کچھ بھی نہیں۔
کیونکہ ایک وقت تھا جب ’’میں‘‘ نہیں تھا مگر یہ دنیا موجود تھی، اور ایک وقت ایسا آئے گا جب ’’میں‘‘ نہیں ہوں گا مگر یہ دنیا پھر بھی موجود رہے گی۔
لہٰذا ’’میں‘‘ محض حال کا نام ہے، اور حال کی حقیقت یہ ہے کہ وہ خود موجود ہی نہیں؛ اس لیے کہ اس کا ہر گزرتا لمحہ ماضی بن جاتا ہے اور آنے والا لمحہ مستقبل کہلاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان نہ ماضی میں تھا اور نہ مستقبل میں ہوگا۔
بس یہی زندگی کا فلسفہ ہے۔
جو شخص اس حقیقت کو پا لیتا ہے، وہ ’’میں‘‘ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اور جب انسان ’’میں‘‘ سے آزاد ہو جاتا ہے تو وہ دنیا کو حقیقی نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ درحقیقت کامیاب وہی ہے جو چیزوں کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھتا ہے۔
جب انسان ’’میں‘‘ سے آزاد ہوتا ہے تو اس پر قرآنِ حکیم کی یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہو جاتی ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ﴾
اس کے برعکس، جو انسان ’’میں‘‘ کی حیثیت سے دنیا میں جیتا ہے، وہ دراصل جان بوجھ کر اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔ وہ اپنے ماضی اور مستقبل کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی اپنے ’’میں‘‘ کے بارے میں کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔ نتیجتاً ایسا شخص خودفریبی اور غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اپنے نہ ٹھہرنے والے حال کو بھی ’’میں‘‘ کی دوڑ میں کھو دیتا ہے۔
ایسا انسان ’’میں‘‘ کی وجہ سے اپنے مقام کے تعین میں سخت غلطی کر بیٹھتا ہے، اور جسے اپنا مقام ہی معلوم نہ ہو، وہ بھلا کسی مثبت کارکردگی کا اظہار کیا خاک کرے گا؟
اگر بالفرض ایسے شخص کی کوئی کارکردگی ظاہری اعتبار سے مثبت بھی نظر آئے، تو حقیقت کے لحاظ سے اس کے اندر منفی پہلو ہی موجود رہے گا؛ کیونکہ ایسا شخص ہر کام کا آغاز ہی ’’میں‘‘ سے کرتا ہے، اور ظاہر ہے کہ کسی بھی عمل کے آغاز کے لیے یہ ایک غلط اور موہوم بنیاد ہے۔ اور جس کام کی بنیاد ہی غلط ہو، اس کے انجام کے غلط ہونے کے لیے کسی اضافی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ آغاز خود انجام کی دلیل بن جاتا ہے۔
لہٰذا ’’میں‘‘ کی بنیاد پر کیا جانے والا بظاہر مثبت کام بھی حقیقت میں منفی ہی ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ’’میں‘‘ کی بنیاد پر کوئی تعمیری کام ممکن نہیں؛ بلکہ کسی بھی حقیقی اور تعمیری عمل کے لیے سب سے پہلے ’’میں‘‘ سے دستبردار ہونا ناگزیر ہے۔