مریم چھا گئی

پنجاب کی سیاست ہمیشہ سے طاقت، بیوروکریسی اور علامتی قیادت کے گرد گھومتی رہی ہے، مگر حالیہ عرصے میں ایک واضح تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ تاثر توڑ دیا کہ وہ محض ایک سیاسی وراثت کی امین ہیں۔ ان کی حکمرانی کا آغاز روایتی بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، فیلڈ وزٹس اور انتظامی سختی سے ہوا، جس نے دوست اور مخالف دونوں کو متوجہ کیا۔

وزیراعلیٰ بنتے ہی مریم نواز کا طرزِ حکمرانی نمایاں نظر آیا۔ اچانک دورے، افسران کی سرزنش، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی حالتِ زار پر براہِ راست نوٹس اور عوامی شکایات پر فوری ایکشن یہ سب وہ مناظر ہیں جو عرصۂ دراز بعد پنجاب میں دیکھنے کو ملے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیکریٹریٹ کی فائلوں سے نکل کر حکومت ایک بار پھر سڑکوں پر آ گئی ہے۔

صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں مریم نواز کی دلچسپی محض اعلانات تک محدود نہیں رہی۔ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری، ادویات کی دستیابی، صفائی کے نظام پر زور اور اساتذہ کی حاضری و کارکردگی کی مانیٹرنگ ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے بیوروکریسی کو ایک واضح پیغام دیا کہ اب روایتی سستی اور غفلت قابلِ قبول نہیں۔ قیمتوں پر کنٹرول کے لیے جاری مہم بھی عوامی سطح پر سراہا گیا، اگرچہ اس کے نتائج کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا اصل امتحان ہو گا۔

مریم نواز کی قیادت کا ایک اہم پہلو ان کا اعتماد ہے۔ وہ تنقید سے خائف نظر نہیں آتیں، نہ ہی سیاسی دباؤ میں دفاعی پوزیشن اختیار کرتی ہیں۔ میڈیا سے براہِ راست مکالمہ، فیصلوں کی وضاحت اور عوامی سطح پر جواب دہی یہ وہ عناصر ہیں جو کسی بھی جمہوری حکمران کو طاقتور بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناقدین بھی اب محض نعروں کے بجائے پالیسی اور کارکردگی پر بات کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔

خواتین، نوجوانوں اور کمزور طبقات کے لیے اقدامات مریم نواز کی حکمرانی کو ایک سماجی رخ دیتے ہیں۔ خواتین کے لیے سہولتوں کے منصوبے، نوجوانوں کے لیے روزگار اور ہنر مندی کی بات، اور کسانوں کے مسائل پر توجہ یہ سب اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود کو صرف ایک انتظامی سربراہ نہیں بلکہ ایک عوامی لیڈر کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہیں۔

یقیناً، ابھی اقتدار کا آغاز ہے، چیلنجز سنگین ہیں اور وقت ہی اصل منصف ہو گا۔ مہنگائی، بیروزگاری اور صوبائی وسائل کی کمی جیسے مسائل کسی ایک شخصیت کے لیے حل کرنا آسان نہیں۔ تاہم، اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مریم نواز نے پنجاب کی سیاست میں جمود توڑ دیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس ایک متحرک مرکز بن سکتا ہے۔

اگر یہی رفتار، یہی سختی اور یہی عوامی رابطہ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مریم نواز کی سیاست صرف پنجاب تک محدود نہیں رہے گی۔
فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ
بطور وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز واقعی چھا گئی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے