چین میں جشن بہار کا تہوار سال کا سب سے بڑا تہوار ہوتا ہے ۔یہ ایک ایسا تہوار ہے جس میں خاندان کے تمام افراد اکٹھے ہو کر نئے سال کے لئے ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دیتے ہیں اور آنے والے سال کے لئے بہت سی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد کی آبادی کا حامل یہ ملک جب یہ تہوار مناتا ہے تو ملک کے مشرقی حصے میں روزگار یا تعلیم کے لئے موجود شخص ملک کے مغربی حصے میں موجود اپنے آبائی گھر جاتا ہے اور اسی طرح اگر کوئی مغربی حصے میں ہے اور اس کے والدین اور خاندان کے افراد مشرقی حصے میں ہیں تو اسے مشرقی حصے میں آنا ہوتا ہے۔یہی عمل شمال اور جنوب میں رہنے والوں کا بھی ہے۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کسی ایک سمت میں رہنے والا کسی ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر بھی اختیار کرتا ہے اور یوں جشن بہار کی تعطیلات سے پہلے اور اس کے بعد ایک بڑی آبادی جزوی نقل مکانی اختیار کرتی ہے ۔دنیا میں اب اسے اس موقع پر سب سے بڑی انسانی نقل مکانی بھی کہا جا تا ہے جس سے وزارت نقل حمل کا کام انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
تعطیلات جشن بہار کی ہوں یا اکتوبر میں گولڈن ویک کی ۔ ان میں دیگر تمام شعبوں کی بنسبت سفری سہولیات مہیا کرنے والی وزارت سب سے زیادہ دباؤ میں ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی تہواروں میں سفر کے لئے جہاز ریل بس اور دیگر ذرائع نقل و حمل کی دستیا بی ایک بڑا مسئلہ بنتی ہے لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی صورت نکال کر آپ ایک دو دن پہلے بھی ٹکٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔لیکن چین میں ایسا نہیں ہے۔ چین میں اگر آپ نے تعطیلات میں سفر کرنا ہے تو اس کے لئے ٹکٹس 15 سے 20 دن پہلے ہی بک کروانے ہوں گے۔جہاز ،بس ،روایتی ریل اور فاسٹ ٹرین سمیت تمام ذرائع نقل حمل کے کرایوں میں تو اضافہ ہوتا ہی ہے لیکن اگر آپ نے وقت سے پہلے حکمت عملی ترتیب نہیں دی تو آپ کو ٹکٹس ملنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ان مشکلات کے خاتمے کے لئے اب سفری ٹکٹس اور رہائش کی تمام بکنگز کو آن لائن کر دیا گیا ہے تاہم اب بھی اگر آپ اچھے منصوبہ ساز نہیں ہیں تو آپ کو ان تعطیلات میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس بات کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ اس سال بھی جشن بہار کا سفر رش جسے چھون یون کہا جاتا ہے02 فروری سے شروع ہوا ہے اور اس کا اختتام 13 مارچ کو ہو گا ۔اس دوران چین بھر میں ریلوے کے ذریعے 540 ملین مسافروں کے ٹرپس جبکہ روزانہ بنیادوں پراوسطاً 13.48 ملین مسافروں کے ٹرپس کی توقع کی جارہی ہے جو سال بہ سال 5.0 فیصد کا اضافہ ہو گا۔
چینی ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس کی ایک پریس کانفرنس کے مطابق ، رواں سال کے اسپرنگ فیسٹیول کے سفری رش کے دوران آبادی کی کراس ریجنل نقل و حرکت کی کل تعداد 9.5 بلین تک پہنچنے کی امید ہے، جو ایک نیا تاریخی ریکارڈ ہو گا۔ ان میں سیلف ڈرائیونگ سفر ،سفر کا مرکزی طریقہ رہے گا، جو کل کا تقریباً 80 فیصد ہے۔ ریلوے اور سول ایوی ایشن کے مسافروں کا حجم بالترتیب 540 ملین اور 95 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے۔ توقع ہے کہ مجموعی پیمانے اور یومیہ پیک کے اعتبار سے اس سال کی تعداد اس مدت کی ریکارڈ تعداد ہو گی
اس سال جشن بہار کے سفری رش کے دوران ، گزشتہ سال کی طرح چین کی وزارت نقل و حمل نے اہم تعطیلات پر مصروف ہائی وے چارجنگ سروس علاقوں کے لئے شیڈولنگ گارنٹی میکانزم قائم کیا ہے، جس کے مطابق قومی شاہراہ سروس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر 120 کلو واٹ اور اس سے زیادہ کی فاسٹ چارجنگ سہولیات کا استعمال کیا گیا ہے جب کہ صوبہ زے جیانگ ، جیانگ سو اور گوانگ ڈونگ سمیت دیگر صوبوں نے بھی نئی توانائی کی گاڑیوں کی چارجنگ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے 600 کلوواٹ تا 800 کلوواٹ کے سپر چارجنگ اسٹیشن تعمیر کیے ہیں ۔چین کے صوبہ سیچھوان، حو نان اور سنکیانگ سمیت دیگر صوبوں یا علاقوں میں ہائی وے سروس ایریا میں موبائل چارجنگ روبوٹ بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق جشن بہار سے پہلے نئی توانائی کی گاڑیوں کے سفر کو مزید آسان بنانے کے لئے چین کے مختلف علاقوں میں چارجنگ کی متعدد سہولیات کی فراہمی کو تیز کیا جارہا ہے۔
وزارت ٹرانسپورٹ نے مختلف نقل و حمل کے شعبوں جیسے ریلوے ، شاہراہ ، آبی شاہراہ اور شہری ہوا بازی کے مابین نگرانی اور کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانے کے لئے ہمیشہ کی طرح ایک خصوصی ورک ٹیم قائم کی ہے تا کہ نقل و حمل کی صلاحیت طلب کو پورا کرنے کے لئے کافی رہے۔
جشن بہار کے موقع پر معاشی پہیہ مکمل روانی سے رواں دواں ہے اس لئے امید کی جا رہی ہے کہ یہ سال بھی جشن کے حوالے سےگزشتہ سال کے مقابلے میں معاشی طور پر زیادہ مستحکم اور مضبوط رہے گا۔