اپنے بارے بتاتے رہا کریں

انسان کو اپنے بارے بتاتے رہنا چاہیے۔ اس کے سینکڑوں فوائد ہیں۔ انسان خودساختہ خول سے نکل جاتا ہے۔ بحیثیت انسان ہم خطا کے پتلے ہیں۔ مجھ سے روزانہ سینکڑوں غلطیاں ہوتی ہیں تاہم اللہ کا شکر ہے کہ اس نے "آمنوا کیساتھ عملوا الصالحات” کی توفیق عطا فرمایا ہے مگر جب انسان عبادات و اعمال صالحہ میں زیادہ مگن ہوکر تکبر میں مبتلا ہوجائے تو یہ آزمائش بہت خطرناک ہوتی ہے اور ویسے بھی ایسا ممکن نہیں کہ ہم صرف بزرگی کا لبادہ اوڑھتے رہے بلکہ کھبی کھبار بشری کمزوریاں بھی بتاتے رہنا چاہیے اس کے تین بڑے فوائد ہوں گے۔

انسان خود ساختہ روحانیت اور بزرگی سے نکل جائے گا۔

توبہ کرکے اپنی اصلاح کرے گا۔

اور عام لوگوں کے ہاتھ غیرمرئی مخلوق نہیں ہوگا بلکہ انسان رہے گا۔

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ انسان اپنی ذات کے بارے میں جتنا زیادہ سچائی سے اعتراف کرتا ہے، اتنا ہی وہ حقیقت کے قریب ہوجاتا ہے۔ خود کو ہمیشہ کامل، بے خطا اور مثالی ظاہر کرنا دراصل نفس امارہ کا ایک دھوکہ ہے۔ پھر نفس انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ وہ دوسروں سے بہتر، زیادہ نیک اور زیادہ صالح ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی عاجزی اور اپنی کمزوریوں کے اعتراف میں ہے۔ قرآنِ مجید نے اہل ایمان کی ایک نمایاں صفت یہ بیان کی ہے۔

"فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ، هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ” (النجم:32)

اپنے آپ کو پاکیزہ مت ٹھہراؤ، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔

اپنے بارے میں سچ بولنا اور اپنی بشری کمزوریوں کا اعتراف کرنا دراصل تکبر کے بت کو توڑنے کا عمل ہے۔ کیونکہ تکبر وہ بیماری ہے جس نے ابلیس کو ہمیشہ کے لیے مردود بنا دیا۔

اس میں دو رائے نہیں کہ عبادت، علم، تقویٰ اور خدمت، یہ سب عظیم نعمتیں ہیں، لیکن اگر ان کے ساتھ عاجزی نہ ہو تو یہی نعمتیں انسان کے لیے آزمائش بن جاتی ہیں۔ اس لیے اپنے آپ کو ایک عام انسان سمجھنا اور اسی حیثیت سے پیش کرنا نہ صرف روحانی حفاظت ہے بلکہ اخلاقی دیانت بھی ہے۔

جب انسان اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے تو اس کے اندر توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ توبہ دراصل بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کی تجدید ہے۔ جو شخص خود کو بے خطا سمجھنے لگے، اس کے لیے توبہ کا دروازہ عملاً بند ہوجاتا ہے، اور یہی روحانی زوال کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی لغزشوں کو پہچانتا ہے، وہ ہر دن نئے عزم کے ساتھ اپنی اصلاح کرتا ہے۔

اسی طرح اس اعتراف کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ لوگ انسان کو ایک حقیقی انسان کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ کسی دیومالائی یا غیرمرئی مخلوق کے طور پر۔ کیونکہ جب لوگ کسی کو غیر معمولی اور کامل سمجھنے لگتے ہیں تو یا تو وہ اندھی عقیدت میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا پھر ایک معمولی لغزش پر مکمل بدظن ہوجاتے ہیں۔ دونوں صورتیں نقصان دہ ہیں۔ اس لیے حقیقت پسندانہ تعارف نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خیر کا باعث بنتا ہے۔ اور ہمیں خیر کا سبب بنتے رہنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ بزرگی کا اصل معیار اپنی کمزوریوں کو چھپانا نہیں بلکہ ان کو پہچان کر اللہ کے سامنے جھک جانا ہے۔ عاجزی ہی وہ صفت ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے، اور یہی صفت اسے اللہ کے قریب کرتی ہے۔ انسان جب اپنے بارے میں سچ بولتا ہے تو وہ دراصل اپنے نفس کی اصلاح، اپنی روح کی حفاظت اور اپنے رب کی رضا کی طرف ایک اہم
قدم اٹھاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے