آخر خواتین کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے؟

یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا المیہ ہے۔

صابرہ بی بی جیسی محنت کش،حاملہ اور تین بچوں کی ماں کا اس بے دردی سے قتل انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ایک عورت جو رزقِ حلال کے لیے گھروں میں کپڑے بیچتی تھی، اسے درندگی کا نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ ہم بطورِ معاشرہ کہیں نہ کہیں ناکام ہو رہے ہیں۔

خواتین آخر کب تک غیرت، جائیداد، پسند کی شادی یا جنسی ہوس کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔

کیوں کہ ہر چند دن بعد کسی ماں، بیٹی یا بہن کی لاش ملتی ہے اور پھر کچھ عرصے بعد سب خاموش ہو جاتے ہیں؟ مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو عورت کو کمزور سمجھتی ہے،اور وہ نظام ہے جو مجرموں کو سزا دینے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

آخر خواتین کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے؟ کیوں ہر سانحے کے بعد چند دن کا شور اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے؟ کیا ہماری اجتماعی بے حسی،فرسودہ روایات، کمزور قانون نافذ کرنے کا نظام اور معاشرتی دباؤ ایسے جرائم کو بڑھاوا نہیں دیتے ہیں۔جب تک ہم بحیثیت قوم اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے، تب تک ایسے سانحات کا سلسلہ رکنا مشکل ہے۔

اگر اغواء کے وقت فوری طور پرکارروائی عمل میں لائے جائیں، پولیس اپنی ذمہ داری پوری کر تے تو شاید آج صابرہ زندہ ہوتی۔اس لیے انصاف کا مطالبہ صرف قاتلوں کی گرفتاری تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پولیس کی کارکردگی کا بھی شفاف احتساب ہونا چاہیے۔

جامشورو کے باشعور شہریوں، سندھی اور پشتون بھائیوں سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔ یہ کسی ایک برادری یا قوم کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ مجرم چاہے کسی بھی خاندان یا برادری سے ہوں، انہیں قانون کے مطابق گرفتار کر کے شفاف اور قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے