امریکہ ڈائری: قسط نمبر 9

نیویارک کی سڑکوں سے اقوامِ متحدہ کے پوڈیم تک

نیویارک سے جیسے پہلی رات میں ہی دل لگی ہو گئی۔ مجیب بھائی نے بھی کہا تھا کہ "رحیم! یہ تمہارے مزاج کا شہر ہے، بس گھومتے رہو”۔ چوہدری بلال نے اگلی صبح چائے پراٹھوں سے پوری سیر کروا کر ساتھ ہی ہفتے بھر کا ان لمیٹڈ ٹرین ٹکٹ لیا اور بولا: "شاہ جی! جتنے اسٹیشنز ہیں، سب پر اترو اور دیکھو۔”

میں ڈبلیو ڈبلیو ای (WWE) ریسلنگ کا شوقین تھا، میڈیسن اسکوائر گارڈن اور ٹائمز اسکوائر کے بارے میں سن رکھا تھا۔ ڈاؤن ٹاؤن کی تصویریں اور ویڈیوز بھی دیکھی تھیں۔ بس ٹرین کا ٹکٹ پکڑا اور نکل پڑا ’نیویارکر‘ بننے۔

اللہ کریم ہے، اس نے پل پل اپنی دنیا دکھائی اور حلال کھلایا۔ پارک، گارڈن، ڈاؤن ٹاؤن، اپ ٹاؤن، مڈ ٹاؤن، مالز اور سب ویز؛ کچھ نہیں چھوڑا۔ 9/11 سے تباہ شدہ جگہ اور وہاں ابھرتا نیا ٹوئن ٹاور دیکھا۔ وہ تمام مشہور اور غیر مشہور عمارتیں دیکھیں جو کتابوں اور خبروں میں نظر آتی تھیں۔

البتہ میری نظریں اقوامِ متحدہ (United Nations) کی جنرل اسمبلی اور سیکیورٹی کونسل کی بلڈنگ پر تھیں۔

بین الاقوامی تعلقات (International Relations) کا طالب علم ہونے کے ناطے بچپن سے پی ٹی وی پر بدلتی حکومتوں اور سربراہان کی تقریریں مجھے بہت متاثر کرتی تھیں۔ میں اکثر اپنے خیالوں میں سوچتا کہ کاش ایک دن میں بھی ادھر تقریر کروں۔ وہ موقع جانے کب آئے گا، مگر مجھے یو این ہیڈ کوارٹر پہنچنا تھا۔

صبح سویرے پہنچ کر 18 ڈالر کا وزیٹنگ ٹکٹ لیا۔ میری خوش قسمتی کہ وہاں ایک چینی نژاد پروٹوکول آفیسر دیگر سیاحوں کی رہنمائی کے لیے تعینات تھا۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ چینی، پاکستانیوں کا خیال نہ رکھے۔ میں نے اسے "شے شے” (شکریہ) کہا اور بتایا کہ میں آپ کے ہمالیہ سے اونچے اور بحرالکاہل سے گہرے دوست ملک پاکستان کا باشندہ ہوں۔ اس نے بھی اسی گرم جوشی اور والہانہ انداز میں بلڈنگ کے ہر کونے کی تفصیلات دو مرتبہ بتائیں۔

میں نے بابا کی روایتی پشتون ’پکول‘ ٹوپی پہن رکھی تھی اور خود کو اقوامِ متحدہ کا سیکرٹری جنرل سمجھتے ہوئے فوجیوں کی سی چال چل رہا تھا۔ ایک دیوار پر جہاں یو این سیکرٹری جنرلز کی تصویریں آویزاں تھیں، وہاں خود کو تصوراتی طور پر دیکھ کر دل کو بہلایا۔ بقول غالب (رحیم شاہ کے الفاظ میں): "دل کے بہلانے کو یو این کے سیکرٹری جنرل کا خیال اچھا ہے”۔ جنرل اسمبلی اور سیکیورٹی کونسل کے ہالز دیکھ کر دل کو ٹھنڈک پہنچی۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ اس چینی دوست سے ایسی شناسائی ہوئی کہ اگلی مرتبہ اس نے میرے لیے پورا جنرل اسمبلی ہال اکیلے وزٹ کرنے کا ترتیب بنایا اور میں نے پوڈیم پر کھڑے ہو کر اپنا وہ بچپن کا ارمان پورا کیا ۔ ۔ ۔ وہی بابا کی پکول پہنے ہوئے۔

سچ جانیے، جس عمارت یا واقعے سے آپ کی شناسائی کتابوں کے ذریعے ہوئی ہو، اسے حقیقت میں دیکھنا بہترین تجربہ ہوتا ہے۔ وہاں ایک چھوٹا سا کمرہ عبادت کے لیے مختص تھا جہاں میں نے نماز پڑھی۔ وہاں جائے نماز کے ساتھ بدھا کا مجسمہ اور دیگر مذاہب کی مقدس نشانیاں رکھی گئیں تھیں۔ میں نے جائے نماز چنی اور اللہ کی حمد و ثنا کی۔ ایک دیوار پر غلافِ کعبہ کا مبارک ٹکڑا دیکھ کر روح کو تسلی ملی۔ چینی دوست کا شکریہ ادا کر کے باہر نکلا تو پھر سے نیویارک کی سڑکوں پر آوارہ گردی شروع کر دی۔

نیویارک کا ایک سال کا بجٹ پاکستان کے پانچ سالہ بجٹ کے لگ بھگ ہے۔ باقی قصہ اگلی قسط میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے