تُوں وی مر ونج

شیریں مزاری یا ایمان مزاری اور گرین میٹر یا نیٹ میٹرنگ والا قصہ جتنا سیدھا نظر آتا ہے، اتنا ہی ٹیڑھا ہے، بالکل اُس چارجر کی طرح جو دیکھنے میں نیا ہو مگر فون پھر بھی ایک فیصد پر اٹکا رہے، ایک حقیقی واقعہ سناتا ہوں، اُس زمانے کا جب موبائل فون بہت کم اور پی ٹی سی ایل فون زیادہ بولتے تھے، ایک دوست کے کلائنٹ تھے، (یہ واقعہ اسی دوست نے سنایا تھا،) وہ کلائنٹ اب ڈس ایبل ہو چکے ہیں، مگر کبھی بڑے طُرے والے لینڈ لارڈ تھے، کئی سو کینال قیمتی رقبہ، بڑی بڑی مارکیٹیں، اوپر سے یار باش طبیعت؛ دوستوں کی محفلیں، محفلوں میں کھلا خرچ، البتہ خرچ میں برکت کہیں بیچ میں گم ہو گئی، ان چکروں میں کینال کینال کر کے سب پراپرٹی اُڑ گئی، آخرکار حالت یہ ہوئی کہ کبھی جن مارکیٹوں کے مالک تھے، اب وہیں جا کر کہتے: "بھائی ذرا ریٹ کم لگا دینا، پرانا تعلق ہے.”

اخلاق ایسا کہ آج بھی ملیں تو مسکرا کر کہیں گے:
"بس جی، زندگی نے سکھایا ہے کہ زمین سنبھالنا آسان ہے، رشتے سنبھالنا مشکل… اور جب رشتے نہ سنبھلیں تو زمین خود بخود ہاتھ سے نکل جاتی ہے.”

صاحبِ موصوف کے ہاں دو بیویوں کے جھگڑے اتنے شدید تھے کہ ڈرامہ انڈسٹری بھی نوٹس لے، نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بیگم کے ہاتھوں پِٹ کر ایسے ڈس ایبل ہوئے کہ ڈاکٹر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا: "یہ کیس میڈیکل کم، فیملی کورٹ زیادہ لگتا ہے.”

اس عالمِ بے بسی میں میاں صاحب نے اپنے سب سے قریبی دوست کو فون گھمایا، فون ملاتے ہوئے دل نے گواہی دی کہ "اب جو مانگا جائے گا، وہ صدقہ نہیں بلکہ قربانی ہوگی، جس کی واپسی قیامت تک ممکن نہیں.”

دوست کی "ہیلو” سن کر میاں صاحب نے اطیمینان کی سانس لی، اُدھر دوست نے دل ہی دل میں کیلکولیٹر آن کر لیا، کیونکہ اسے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ فون خیریت پوچھنے کیلئے نہیں، بلکہ تاریخ کے کسی نئے مالی باب کا آغاز ہے، یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ کلائنٹ کو میاں صاحب کہتے تھے، اس لیے نہیں کہ وہ شادی شدہ تھے، وہ تو تھے ہی، بلکہ اس لیے کہ وہ واقعی میاں کہلاتے تھے، اصل میں وہ سادات شیخ تھے؛ جس کے بارے میں وہ فخر سے کہتے تھے:

"ہمارے آباو اجداد افغانستان سے بہت سو سال پہلے ہجرت کر کے آئے تھے.”

اور سننے والا سوچتا ہے : "اچھا تو پھر اب تک کیوں واپس نہیں گئے؟”

تاہم یہ وہ سادات شیخ تھے جن کے لہجے میں شرافت، انداز میں وقار، اور درخواست میں ایسی مٹھاس ہوتی تھی کہ سامنے والا انکار کرنا چاہے بھی تو پہلے دو گھنٹے معذرت کرتا رہتا۔

فون پر میاں صاحب نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ دوست نے دل میں کہا:

"یا اللہ! آج دوستی کا ٹیسٹ ہے اور فیل ہونے کا رزلٹ فوری آئے گا۔” یوں یہ فون کال دوستی کی قسطوں میں ادائیگی کا باقاعدہ اعلان تھا، میاں صاحب بول رہے تھے، اور دوست خاموشی سے اپنے مستقبل کے مالی جنازے کی فاتحہ پڑھ رہا تھا، گفتگو سرائیکی میں تھی، مگر یہاں اردو میں لکھ رہے ہیں.

میاں صاحب (ذرا جھجکتے ہوئے): "سائیں، ایک بات کرنی تھی.”

سائیں (چونک کر): "میاں یار، پہلے بڑے میاں صاحب کی سناؤ؟”

میاں صاحب (سادگی سے): "وہ فوت ہو گئے تھے.”
سائیں (فوراً روحانی موڈ میں): "اللہ مغفرت کرے، بہت اچھے انسان تھے، دعائے مغفرت کیلئے ہاتھ اٹھائیں.”

فون پر دعائے مغفرت کا ورد کرتے غریب میاں صاحب کا بیلنس عید پر سلامی کی طرح اُڑ رہا تھا، آمین پکارنے کے بعد ذرا وقفہ ہوا، پھر سائیں جی نے پوچھا،
"اچھا بی بی اماں کی سناؤ؟”

میاں صاحب کچھ محتاط ہو کر بولے: "وہ بھی فوت ہو گئی تھیں”
سائیں جی اسی رفتار سے بولے :”حق اللہ، ہاتھ بلند کرکے دعائے مغفرت پڑھیں.”

فون بدستور چل رہا اور بیلنس آخری سانسیں لے رہا تھا، تھوڑی دیر خاموشی طاری رہی، میاں صاحب سمجھے کہ شاید بات ختم ہوئی، مگر نہیں! ابھی تو فاتحہ پارٹ تھری باقی تھا۔

سائیں جی بولے : "اچھا بھائی اختر کی سناؤ؟”
میاں صاحب (اب تقریباً سرگوشی میں): "وہ بھی فوت ہو گئے تھے.”

سائیں جی (اطمینان سے): "چنگے بندے رب کے پاس جلدی چلے جاتے ہیں، دعا کیلئے ہاتھ اٹھائیں.”

یہاں تک میاں صاحب کے ذہن میں تین باتیں روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی تھیں، خاندان میں زندہ لوگ کم رہ گئے ہیں، دوم، فون بند کرنا بدتمیزی ہوگی، سوم، اصل بات ابھی باقی ہے، یہ فون کال مرحومین کی فہرست کے ساتھ بیلنس کا اجتماعی جنازہ تھا، جس میں دعا تو سب کیلئے ہو گئی، بس پیسے کا انتقال زندہ آدمی کے کھاتے سے ہو گیا۔

سائیں جی نے ابھی دل بھر کے سانس بھی نہیں لی تھی کہ تین مزید نام قطار میں ڈال دیے، ہر نام پر وہی رسم:
"فوت ہو گئے؟”
"جی.”
"اللہ مغفرت کرے، دعا کیلئے ہاتھ اٹھائیں.”
فون چلتا رہا، بیلنس رِستا رہا اور میاں صاحب کے دل میں آخری پیکیج بھی ایکسپائر ہوتا گیا.

سائیں جی بولے "اچھا میاں… فلاں کی سناؤ؟”
میاں صاحب (بالکل ہتھیار ڈال کر): "وہ بھی فوت ہو چکے ہیں.”

ایک لمحے کی خاموشی کے بعد بم پھٹا، سائیں جی نے سرائیکی میں وار کیا:

"میاں! سارے تے ماری وداں اے، توں وی مر ونج!”
اور فون پٹاخ سے بند کر دیا، مطلب صاف تھا: "جب سارے رشتہ دار مر چکے ہیں تو تم زندہ رہ کر کیا تاریخی کارنامہ انجام دینے والے ہو؟”

میاں صاحب فون ہاتھ میں پکڑے بیٹھے تھے، بیلنس زیرو، کان میں ابھی تک "توں وی مر ونج” گونج رہا تھا، غریب مزید لٹ چکا تھا، نہ بیلنس رہا، نہ اعصاب، اور نہ ہی یہ ہمت کہ آئندہ کبھی سائیں جی کو کال کرے، نتیجہ یہ کہ سیاست، پرانی فون لائن، یا دو بیویوں کا جھگڑا، جو چیز سیدھی نظر آئے، وہ اکثر اندر سے ٹیڑھی ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے