برصغیر کی سرزمین صدیوں سے تہذیبوں کے ملاپ، مذاہب کے اختلاط اور ثقافتوں کے امتزاج کی علامت رہی ہے۔ یہاں موسموں کی تبدیلی بھی محض موسمی نہیں رہتی بلکہ اپنے ساتھ فکری، مذہبی اور سماجی رنگ لیے ہوتی ہے۔ جب بہار کی پہلی ہوا سرسوں کے کھیتوں کو زرد چادر اوڑھاتی ہے، جب فضا میں شگفتگی اور زمین پر رنگوں کی بارش محسوس ہوتی ہے تو ایک مخصوص تہوار کا چرچا شروع ہو جاتا ہے.بسنت۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بسنت صرف موسمِ بہار کی خوشی کا نام ہے یا اس کی جڑیں کسی مخصوص مذہبی روایت میں پیوست ہیں؟ اس سوال کا جواب محض جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ تاریخ کے سنجیدہ مطالعے میں پوشیدہ ہے۔
اگر ہم مستند تاریخی ماخذوں کی طرف رجوع کریں تو سب سے پہلے جس عظیم نام سے رہنمائی ملتی ہے وہ ہے گیارہویں صدی کے عبقری مفکر اور محقق ابوریحان البیرونی کا۔ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف کتاب الہند برصغیر کی مذہبی اور سماجی تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید حوالہ ہے۔ البیرونی نے ہندوستان میں قیام کے دوران ہندو مذہب، اس کی تقویم، اس کے تہواروں اور رسومات کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہندو استواءِ ربیعی کے موقع پر عید مناتے ہیں جسے بسنت کہا جاتا ہے، اور اس دن برہمنوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ استواءِ ربیعی وہ وقت ہے جب سورج خطِ استواء پر پہنچ کر بہار کے آغاز کی خبر دیتا ہے۔ اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ بسنت فلکی حساب، مذہبی پیشواؤں اور مخصوص عقیدتی اعمال سے وابستہ تہوار تھا۔
یہ محض ایک غیر مسلم روایت کا بیان نہیں بلکہ ایک مسلمان محقق کی چشم دید تحقیق ہے جس نے تعصب سے بالاتر ہو کر جو کچھ دیکھا وہ قلم بند کیا۔ البیرونی کے بیان سے یہ نتیجہ اخذ کرنا دشوار نہیں کہ بسنت کو ہندو مذہبی تقویم میں ایک مقدس موقع کی حیثیت حاصل تھی۔ اگر یہ صرف موسمی خوشی ہوتی تو اسے “عید” کا عنوان نہ دیا جاتا اور نہ ہی اس کے ساتھ مذہبی پیشواؤں کی ضیافت اور مخصوص تقویمی تعین وابستہ ہوتا۔
ہندو مصنف منشی رام پرشاد ماتھر کی کتاب ہندو تیوہاروں کی اصلیت اور ان کی جغرافیائی کیفیت اس بحث کو مزید تقویت فراہم کرتی ہے۔ وہ فصل کے پھولنے، کھیتوں کے زرد ہونے اور کسان کے دل میں پیدا ہونے والی مسرت کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لوگ زرد پھول کانوں میں بطور زیور سجاتے ہیں اور “پرتما” سے دعا کرتے ہیں کہ ہماری محنت بار آور ہو۔ یہاں دعا کا عنصر، الوہیت سے رجوع اور مذہبی الفاظ کا استعمال اس امر کی شہادت ہے کہ بسنت محض قدرتی منظر کی تحسین نہیں بلکہ مذہبی اظہار تھا۔ اسی مصنف کی دوسری تصنیف ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت میں صاف درج ہے کہ بسنت کے دن وشنو بھگوان کی پوجا کی جاتی ہے۔
کہیں سرسوتی کی عبادت، کہیں کام دیو اور رتی کی پوجا، کہیں نیا اناج بطور تبرک استعمال کرنے کی رسم یہ سب تفصیلات اس تہوار کے مذہبی خدوخال کو نمایاں کرتی ہیں۔
مغل دربار کے ممتاز مؤرخ ابوالفضل نے بھی ماگھ کے مہینے میں بسنت کے جشن کا ذکر کیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق پانچویں تاریخ کو بڑا جشن ہوتا، رنگ و عنبر ایک دوسرے پر چھڑکے جاتے اور نغمہ و سرود کی محفلیں منعقد ہوتیں۔ یہ بیان اس بات کا آئینہ دار ہے کہ اگرچہ درباری ماحول میں بسنت نے ایک تہذیبی اور شاہانہ رنگ اختیار کر لیا تھا، لیکن اس کی اصل تقویمی بنیاد ہندو مذہبی کیلنڈر میں پیوست تھی۔
اردو لغت کی معروف کتاب فرہنگ آصفیہ میں “بسنت” کے تحت یہ وضاحت ملتی ہے کہ موسمِ بہار میں دیوی دیوتاؤں کے استھانوں پر سرسوں کے پھول چڑھا کر جو میلہ کیا جاتا ہے اسے بسنت کہتے ہیں، اور ابتدا میں مسلمانوں میں اس کا رواج نہ تھا۔ لغت کی یہ شہادت اس تاریخی تسلسل کو مزید واضح کرتی ہے کہ بسنت کا تعلق ہندو مذہبی مقامات اور دیوی دیوتاؤں کی عقیدت سے رہا ہے۔
ہندو دیومالا میں موسمِ بہار کو بھی دیوی کا درجہ دیا گیا ہے۔ بعض تہذیبوں میں بہار کی نسوانی تجسیم ملتی ہے؛ مصر میں آئس، یونان میں وینس، ایران میں ناہید اور ہند میں درگا دیوی۔ یہ پس منظر ظاہر کرتا ہے کہ فطرت کی بیداری کو الوہی تقدیس سے جوڑنے کی روایت قدیم مذاہب میں موجود رہی ہے، اور بسنت اسی ذہنی سانچے کا تسلسل ہے۔
معاصر بیانات بھی اس تاریخی ربط کی نشان دہی کرتے ہیں۔ بھارتی صحافی کلدیپ نیئر نے 1998ء میں لاہور میں بسنت دیکھ کر کہا کہ یہاں کا انداز بھارت کی دیوالی سے مشابہ ہے اور جوش و خروش حیران کن ہے۔ اسی طرح سونیا گاندھی کا بیان بھی منظر عام پر آیا جس میں ثقافتی مماثلت کو سیاسی کامیابی سے تعبیر کیا گیا۔ دیگر بھارتی شہریوں کے تاثرات بھی اسی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ بسنت کو ہندو تہذیبی روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یہاں یہ امر ملحوظ رہنا چاہیے کہ تہذیبیں جامد نہیں ہوتیں۔ وقت کے ساتھ رسومات اپنی شکل بدلتی ہیں، بعض مذہبی مظاہر ثقافتی سرگرمیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ مگر تاریخ کا دیانت دار مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی رسم کی اصل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مستند کتب، لغات اور مؤرخین کسی تہوار کی مذہبی بنیاد بیان کریں تو اسے محض اتفاق کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر قائم ہوا، اس لیے یہاں ہر رسم و رواج کو تاریخی اور نظریاتی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مکالمے کے دروازے بند کر دیے جائیں یا اختلافِ رائے کو دبایا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فیصلے تحقیق اور شعور کی بنیاد پر ہوں۔ بسنت کے حامی اسے بہار کی مسکراہٹ قرار دیتے ہیں، مخالفین اسے ہندو مذہبی روایت سے جوڑتے ہیں۔ ایک سنجیدہ معاشرہ انہی حوالوں کی روشنی میں اپنا موقف متعین کرتا ہے۔
تاریخ کی عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کتاب الہند کی تصریحات، ہندو تیوہاروں کی اصلیت اور ان کی جغرافیائی کیفیت اور ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت کی تفصیلات، فرہنگ آصفیہ کی لغوی توضیح، اور معاصر بیانات کم از کم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بسنت کی جڑیں ہندو مذہبی روایت میں پیوست رہی ہیں۔ اس اعتراف کے بعد بھی اختلاف کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ آج کا بسنت کس حد تک مذہبی ہے اور کس حد تک ثقافتی، مگر تاریخی بنیاد سے انکار علمی دیانت کے منافی ہوگا۔
قومیں اپنی شناخت تاریخ کے آئینے میں دیکھتی ہیں۔ اگر وہ آئینہ دھندلا دیا جائے تو سمت کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نہ تو اندھی تقلید میں بہہ جائیں اور نہ ہی جذباتی ردعمل میں تاریخ کو جھٹلائیں۔ بسنت کے باب میں بھی متوازن، مدلل اور سنجیدہ مکالمہ ہی ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔ ایک باشعور معاشرہ وہی ہے جو اپنی تہذیبی روایت کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھ کر فیصلہ کرے، تاکہ اس کی فکری بنیادیں مضبوط اور اس کی شناخت واضح رہ سکے۔
آخر میں یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس تہوار کے معاشرتی اور مذہبی دونوں طرح کے نقصانات اپنی جگہ نہایت سنگین ہیں۔ ایک طرف دھاتی اور کیمیائی مانجھے سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، معصوم پرندوں کی ہلاکت، چھتوں سے گرنے کے حادثات، ہوائی فائرنگ اور بجلی کی تاروں سے ٹکراؤ جیسے سانحات ہر سال کئی گھروں کے چراغ گل کر دیتے ہیں؛ دوسری طرف اس کی مذہبی بنیادیں ایک ایسے عقیدتی پس منظر سے جڑی ہیں جو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں۔
کسی بھی ایسے تہوار کو اپنانا جس کی اصل غیر اسلامی رسوم اور عقائد میں پیوست ہو، دینی تشخص کو دھندلا سکتا ہے اور رفتہ رفتہ اعتقادی امتیاز کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس لیے دانش، احتیاط اور دینی بصیرت کا تقاضا ہے کہ ہم وقتی جوش اور ظاہری رنگینی کے بجائے اپنی جان، اپنے معاشرے اور اپنے عقیدے کی حفاظت کو ترجیح دیں، اور ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کریں جو دنیا و دین دونوں حوالوں سے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔